ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی شادی پر ’کار اور موٹر سائیکلوں سمیت کروڑوں کے انعامات کا لالچ‘، بھگدڑ سے ایک شخص ہلاک: ’لوگ سمجھے جو پہلے اندر جائے گا اسے انعام ملے گا‘

کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

Mr Pattlo

،تصویر کا ذریعہmrpattlo.1/Social Media

،تصویر کا کیپشنمسٹر پتلو کی شادی کی تقریبات کئی روز سے جاری تھیں اور پولیس کے مطابق سنیچر کو مہندی کی تقریب ایک گراؤنڈ میں منعقد کی جا رہی تھی
    • مصنف, ترہب اصغر اور احتشام شامی
  • وقت اشاعت 3 منٹ قبل

  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کی پولیس نے مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے ایک شخص کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے پر ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر کے چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ مسٹر پتلو سمیت دیگر ملزمان مفرور ہیں، جن کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔

ایف آئی آر میں مسٹر پتلو سمیت نو نامزد ملزمان جبکہ 45 نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اس میں قتل بالسبب، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، توڑ پھوڑ، اشتعال انگیز اور غیر قانونی اجتماع کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مسٹر پتلو کی شادی کی تقریبات گذشتہ چند روز سے جاری تھیں اور وہ اپنی شادی کی تقریبات کی تصاویر اور ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی شیئر کر رہے تھے۔

پولیس کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق سنیچر کی شام ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب جاری تھی اور اُنھوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے موٹر سائیکلوں اور کار سمیت دیگر انعامات کا لالچ دے کر لوگوں کو مدعو کر رکھا تھا، جس پر کثیر تعداد میں لوگ وہاں جمع ہو گئے۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مسٹر پتلو نے سٹیج پر آ کر اعلان کیا کہ تمام لوگ فوری طور پر گراؤنڈ میں آ جائیں، جس پر لوگوں نے یکدم اندر جانے کی کوشش کی جس سے بھگدڑ مچ گئی اور عقیل نامی شخص موقع پر جان کی بازی ہار گیا۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد فوری بعد ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سٹیڈیم کے باہر بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں اور وہ اچانک گراؤنڈ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں جس پر وہاں موجود سکیورٹی گارڈز اُن کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران سکیورٹی پر مامور افراد لوگوں پر لاٹھی چارج بھی کرتے ہیں اور انھیں واپس باہر دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

  • تصویر

  • سکول میں کلاس روم

  • تصویر

  • Missile

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

بی بی سی آزادانہ ذرائع سے اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکا۔

Mr Patlu

،تصویر کا ذریعہSocial Media

’لوگ سمجھ رہے تھے جو پہلے اندر جائے گا اسے انعام ملے گا‘

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’جب گراؤنڈ کے گیٹ کھلے تو سب لوگ اس طرف کو بھاگے، کیونکہ لوگ یہ سمجھ رہے تھے جو پہلے اندر جائے گا اس کو انعام ملے گا اور گراؤنڈ سے باہر رہنے والے انعام سے محروم رہ جائیں گے۔‘

یہ کہنا تھا محمد رفیق کا جو فراز سپورٹس سٹیڈیم میں موجود تھے اور بھگڈر مچنے سے خود بھی زخمی ہوئے ہیں۔

محمد رفیق نے بی بی سی نیوز اُردو کو بتایا کہ وہ گوجرانوالہ سے اپنے دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پر یہاں پہنچے تھے۔

’گراؤنڈ کے اندر اور باہر اس قدر رش تھا کہ ہر طرف لوگوں کے سر ہی سر نظر آرہے تھے، سپیکر پر یہ اعلانات کیے گئے تھے کہ رات نو بجے کے بعد انعامات تقسیم کیے جائیں گے، جوں جوں شام ہو رہی تھی لوگ مسلسل آرہے تھے۔‘

ظفروال کے عبدالرشید بھی اس ہجوم میں موجود تھے اور اپنے کمسن بیٹے کو بچاتے ہوئے زخمی ہوئے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالرشید نے الزام لگایا کہ تقریب کے منتظمین اور سکیورٹی گارڈز نے حالات خراب کیے، کیونکہ ان کے پاس کوئی واضح پلان ہی نہیں تھا۔

’کبھی وہ کہتے انعامات کچھ گھنٹوں بعد تقسیم ہوں گے، کبھی کہتے لوگ چلے جائیں اب پروگرام کینسل ہوگیا ہے، جس پر لوگوں میں غصہ بڑھ گیا تھا۔‘

عبدالرشید کے مطابق لاؤڈ سپیکر پر شرکا کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کا کہا گیا جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی۔

’اس کے بعد جب سکیورٹی گارڈز نے لوگوں پر بلاجواز لاٹھی چارج شروع کیا تو لوگوں نے ڈنڈوں سے بچنے کے لیے واپس دوڑ لگا دی، جس پر وہاں دوبارہ بھگدڑ مچی اور کئی لوگ پیروں تلے روندے گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں

’دو کروڑ نقد، ایک کار اور 50 موٹر سائیکلیں تقسیم کرنے کا لالچ دیا گیا‘

ٹک ٹاکر مسٹر پتلو ضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے گائوں سیدے والی کے رہائشی ہیں، تاہم اب وہ سیالکوٹ کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہتے ہیں۔

پولیس کے مطابق شادی کی تقریب میں عام لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے مسٹر پتلو کی ٹیم کی طرف سے سوشل میڈیا پر یہ مشتہر کیا گیا کہ مہندی کی تقریب میں عام لوگوں میں دو کروڑ روپے تقسیم کیے جائیں گے، اس کے علاوہ ایک کار، 50 موٹرسائیکلیں، موبائل فونز اور کئی دیگر بیش قیمت تحائف کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

سیالکوٹ کے علاوہ اردگرد کے اضلاع گوجرانوالہ، گجرات، وزیر آباد، منڈی بہاؤ الدین اور نارووال سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد فراز سٹیڈیم میں مقررہ وقت سے کافی پہلے پہنچ چکی تھی۔

،تصویر کا ذریعہmrpattlo.1

دوسری جانب مسٹر پتلو نے اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں وہ لوگوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ’میری شادی کے پروگرام ملتوی کر دیے گئے ہیں، لہذا لوگ گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘

ویڈیو پیغام میں مسٹر پتلو یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ وہ ایک روز پہلے اپنے گھر میں گر گئے تھے اور انھیں چوٹ لگی تھی جس کی وجہ سے وہ کسی پروگرام میں شریک نہیں ہو رہے، اس لیے لوگوں سے التماس ہے کہ وہ کسی پروگرام میں نہ آئیں۔

مسٹر پتلو کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر پتلو خوشی کے اس موقع پر اپنے فینز اور مہمانوں کو تحائف دینا چاہتے تھے اور اسی لیے اُنھوں نے لوگوں کو مدعو کیا تھا۔

مسٹر پتلو کی ٹیم کے مطابق انتظامی طور پر ہجوم کو سنبھالنا ان کے کنٹرول سے باہر ہو گیا تھا، گیٹ جلدی کھلنے اور سکیورٹی گارڈز کی کمی کی وجہ سے یہ حادثہ اچانک پیش آیا۔

’ایونٹ شروع ہونے سے پہلے ہی این او سی منسوخ کر دیا گیا تھا‘

دوسری جانب مقامی انتظامیہ کے مطابق ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کو مہندی کی تقریب ڈسکہ روڈ پر واقع فراز سپورٹس سٹیڈیم میں منعقد کرنے کے لیے اجازت نامہ جاری کیا تھا، لیکن بعدازاں شرائط کی خلاف ورزی پر اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔

ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق ٹک ٹاکر کو ڈسکہ روڈ میں چار دیواری کے اندر نجی فنکشن کے دوران محفلِ سماع وغیرہ کے انعقاد کے لیے این او سی جاری کیا گیا تھا، لیکن ایونٹ شروع ہونے سے قبل ہی اسے منسوخ کر دیا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ این او سی میں پروگرام کے آغاز کا وقت نمازِ عشا کے بعد مقرر کیا گیا تھا، تاہم نجی فنکشن کے آرگنائزرز کی جانب سے شام تقریباً چار بجے ہی ایونٹ کے انتظامات میں خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر نے این او سی منسوخ کر دیا۔

ابتدائی پولیس تحقیقات میں سامنے آیا کہ منتظمین نے سوشل میڈیا کے ذریعے موٹر سائیکلوں، کار اور دیگر قیمتی انعامات کی قرعہ اندازی کی تشہیر کر کے بڑی تعداد میں لوگوں کو مدعو کیا تھا۔ تقریب کے دوران لاؤڈ سپیکر پر شرکا کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کا کہا گیا جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی۔

پولیس کے مطابق منتظمین نے اجازت نامے کی شرائط اور حفاظتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کی۔ بھگدڑ کے دوران مین ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، جبکہ ہنگامہ آرائی اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچنے کے واقعات بھی پیش آئے۔

،تصویر کا ذریعہRescue 1122

مسٹر پتلو کون ہیں؟

مسٹر پتلو کا اصل نام انصر محمود ہے اور وہ سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر لائیو میزبان ہیں، انھیں ٹک ٹاک پر براہِ راست بات چیت اور لوگوں کے ساتھ گفتگو کے ذریعے ملی، وہ اس وقت پاکستان کے چند مشہور اور سب سے زیادہ پیسے کمانے والے ٹک ٹاکرز میں شمار ہوتے ہیں۔

مسٹر پتلو اپنے انٹرویوز میں اپنی زندگی کے ابتدائی حالات اور مالی مشکلات کے بارے میں گفتگو کر چکے ہیں کہ کس طرح اُنھوں نے مزدوری کی اور ایک وقت میں رکشا بھی چلایا۔

اُن کے ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں فالورز ہیں، سوشل میڈیا پر مسٹر پتلو کی ٹک ٹاک لائیو کے دوران گفتگو اور گفٹنگ سے ہونے والی آمدن پر سوالات اُٹھتے رہے ہیں۔

Source: BBC Urdu · ترہب اصغر اور احتشام شامی

At a glance

Topic
World
Country
🇵🇰 PK
Publisher language
UR
Added to Allnira