voting israel

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسرائیلی نشریاتی اداروں کے ایگزٹ پولز ظاہر کرتے ہیں کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے حکمراں اتحاد کے مخالف گاڈی آئزنکوٹ کی جماعت پر مشتمل اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد اسرائیلی انتخابات میں سب سے بڑے گروپ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ حکمران اتحاد سے تو آگے ہے، لیکن اسے اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار نشستوں کی تعداد سے کافی کم نشستیں ملی ہیں۔

وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت ’لیکوڈ‘ اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی واحد جماعت بننے کی پوزیشن میں ہے۔

اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ 120 ارکان پر مشتمل ہے اور حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہے۔

اسرائیلی چینلز 11، 12 اور 13 کی جانب سے نشر کیے گئے ابتدائی اندازوں کے مطابق، سابق چیف آف سٹاف گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کیمپ 52 سے 53 نشستیں حاصل کر سکتا ہے، جبکہ نیتن یاہو کے کیمپ جس میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں بھی شامل ہیں کو تقریباً 50 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

عرب اسرائیلی جماعتوں نے ریکارڈ تعداد میں نشستیں حاصل کی ہیں۔

سرکاری نتائج کا اعلان اسرائیلی وقت کے مطابق رات 10 بجے کے بعد کر دیا جائے گا، تاہم تقریباً چھ لاکھ ’غیر حاضری والے ووٹ‘ جن میں سے تقریباً تمام فوجیوں کے ہیں اور جو کل ووٹوں کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں، ان کی مکمل گنتی جمعرات تک مکمل نہیں ہو سکے گی۔

تمام نتائج سامنے آنے اور تمام سیاسی دھڑوں سے مشاورت کے بعد، اسرائیل کے صدر اس پارٹی رہنما کو حکومت سازی (اتحادی حکومت بنانے) کی دعوت دیں گے جن کے بارے میں انھیں یقین ہو کہ وہ کامیابی کے ساتھ حکومت تشکیل دے سکتے ہیں۔

یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

Source: BBC Urdu · BBC News اردو

At a glance

Topic
World
Country
🇵🇰 PK
Publisher language
UR
Added to Allnira