گوجرانوالہ میں رشتے سے مبینہ انکار کے تین برس بعد ولیمے کے روز دلہن قتل، پولیس کو ملزم کی تلاش
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اُردو
وقت اشاعت ایک منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 4 منٹ
پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ میں ایک نوبیاہتا دلہن کو اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا گیا جب وہ ولیمے کی تقریب کے بعد اپنے شوہر کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر میکے جا رہی تھیں۔
یہ واقعہ گوجرانوالہ کے علاقے سمن آباد میں 23 اکتوبر کو پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ اتوار کو تین افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
پولیس اور مقتولہ کے اہلِ خانہ کے مطابق صبا طفیل کی شادی دو روز قبل ہوئی تھی۔ ولیمے کی تقریب کے بعد جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ گاڑی میں میکے جا رہی تھیں تو سمن آباد کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔
مقامی پولیس اور مقتولہ کے بھائی اعجاز کے مطابق دونوں ملزمان میرج ہال سے ہی گاڑی کا پیچھا کر رہے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ ملزم نے گاڑی روک کر ان کی بہن کو مخاطب کر کے کہا کہ ’تم نے کسی اور سے شادی کر کے میری غیرت کو للکارا ہے۔‘
گوجرانوالہ پولیس کا ایک بیان میں دعویٰ ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ’ملزم نے مقتولہ صبا کے ساتھ پسند کی شادی نہ ہونے کی رنجش پر اسے قتل کیا۔‘
’تین سال قبل رشتے کی بات ہوئی تھی‘
مقتولہ کے بھائی اعجاز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تقریباً تین سال قبل ملزم نے ’اپنے والدین کو صبا کے رشتے کے گھر بھیجا تھا، تاہم غیر برادری ہونے کی وجہ سے اس رشتے سے انکار کر دیا گیا تھا۔‘
ان کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملزم کو اسی بات کا رنج تھا۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ ’رشتے سے انکار کے بعد ملزم کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا اور نہ ہی مقتولہ یا خاندان کو کسی قسم کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اسی وجہ سے خاندان کو یقین تھا کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔
مقدمے میں ایک خاتون بھی نامزد
اس واقعے کے حوالے سے درج ایف آئی آر میں ایک خاتون کو بھی بطور ملزمہ نامزد کیا گیا ہے اور مدعی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ قتل ان ہی کی ایما پر ہوا ہے، جو کہ صبا کی شادی میں بھی شریک تھیں۔
مقدمے کی تفتیش سے وابستہ ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتولہ صبا طفیل اور مقدمے میں نامزد خاتون گوجرانوالہ میں بال پوائنٹس تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں کام کرتی تھیں، جہاں دونوں کے درمیان دوستی ہوئی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تفتیشی اہلکار کے مطابق اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ اسی دوران ملزم کی اپنی کزن (ملزمہ) کے ذریعے مقتولہ سے واقفیت ہوئی ہو۔
انھوں نے بتایا کہ چونکہ مقتولہ اور نامزد ملزمہ ایک ساتھ کام کرتی تھیں، اس لیے غالب امکان ہے کہ مقتولہ نے ہی ان کو اپنی شادی میں مدعو کیا ہو۔
دوسری جانب مقتولہ کے بھائی اعجاز کا کہنا ہے کہ ان کی بہن نے دو سال قبل ملازمت چھوڑ دی تھی اور اس کے بعد وہ ڈی سی کالونی میں واقع ایک مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔
تفتیش جاری، گرفتاری کے لیے چھاپے
اس واقعے کا مقدمہ گوجرانوالہ میں سی سی ڈی کے تھانے میں درج کیا گیا ہے۔
سی سی ڈی گوجرانوالہ کے انچارج رضوان طارق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے تکنیکی ذرائع سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔
رضوان طارق کے مطابق جیو فینسنگ سمیت دیگر تکنیکی شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔
مزید دریافت کریں
مختصر ویڈیوز چھوڑ دیں اور جاری رکھیں
مختصر ویڈیوز
مختصر ویڈیوز کا اختتام
Source: BBC Urdu · شہزاد ملک
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira