کیپٹن صفدر کے بیان پر مریم نواز کی مایوسی: ’یہ بیماری ہمارے خاندان میں اُس وقت سے ہے جب میرا جسم، میری مرضی کا کسی کو علم تک نہ تھا‘
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
،تصویر کا ذریعہ@pmln_org/Social Media
وقت اشاعت 2 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 8 منٹ
’دل توڑ دینے والی بات۔ ایک عورت، ایک بیوی، بند دروازوں کے پیچھے کتنی خاموش جنگیں لڑتی ہے، اور ٹوٹ جانے کا احساس ہونے کے باوجود اسے خود کو مضبوط رکھنے کی ہمت کرنی پڑتی ہے۔ کچھ لڑائیاں خاموشی سے لڑی جاتی ہیں اور کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو دکھائی نہیں دیتے۔‘
یہ تبصرہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک صارف کی جانب سے شیئر کیے گئے ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے ایک ویڈیو کلپ پر کیا ہے۔
گو کہ مریم نواز نے کھلے الفاظ میں یا براہِ راست کیپٹن صفدر کا نام لے کر اُن پر تنقید نہیں کی، لیکن اُنھوں نے بظاہر اپنے شوہر کے خواتین سے متعلق ایک حالیہ متنازع بیان پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
کیپٹن صفدر کا کینسر سے لڑنے والی خواتین سے متعلق متنازع بیان کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد چند صارفین وزیر اعلیٰ پنجاب پر بھی تنقید کر رہے تھے کہ اُن کے شوہر کس نوعیت کا متنازع بیان دے رہے ہیں۔ اور بظاہر اسی تنقید کے مدنظر مریم نواز نے اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ مریم نواز کی والدہ بیگم کلثوم نواز بھی ستمبر 2018 میں گلے کے کینسر کے باعث فوت ہوئی تھیں، جس کے بعد اُن کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، مریم نواز اور نواز شریف کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے پیرول پر رہا کیا گیا تھا۔
کیپٹن صفدر نے اپنی اسی تقریر میں پاکستان میں حقوق انسانی کی کارکن اور وکیل عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے بھی غیرمناسب الفاظ کہے جس کے بعد اُن پر تنقید کی جا رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہPML-N
کیپٹن صفدر نے اپنے خطاب کے دوران خواتین سے متعلق کیا کہا؟
یہ معاملہ گذشتہ جمعرات (29 اکتوبر) کا ہے جب بہت سی دیگر مذہبی شخصیات کے ہمراہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے پنجاب کے شہر چنیوٹ میں منعقدہ ’ختم نبوت کانفرنس‘ میں شرکت کی اور وہاں خطاب کیا۔ کیپٹن صفدر نے اس موقع پر کی گئی ایک 21 منٹ کی تقریر کا کلپ اپنے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا ہے۔
اپنی تقریر کے دوران کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے پاکستان کی احمدی کمیونٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ اُن کے عقائد اور خیالات کی وجہ سے ان کا پارلیمان تک پہنچنے کا راستہ روکا گیا۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کیپٹن (ر) صفدر نے اپنے خطاب کے دوران جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی تعریف کی اور حاضرین مجلس سے استفسار کیا کہ ’آپ نے مولانا فضل الرحمن کے علاوہ پارلیمان میں کس کو بھیجا ہے، جو آئین کی حفاظت کرتے اور ختم نبوت کا دفاع کرے۔۔۔ وہ (مولانا) ہمارے باپ کی جگہ ہیں۔‘
اور پھر اسی موقع پر انھوں نے خواتین سے متعلق متنازع ریمارکس دیے۔
اُن کے مطابق مولانا فضل الرحمان سے متعلق اُن کے ایک حالیہ بیان کے بعد انھیں ایک خاتون کا واٹس ایپ پیغام موصول ہوا جس پر انھوں نے خاتون کو جواب دیا کہ ’اگر آپ کسی دار العلوم میں پڑھی ہوتیں اور آپ کا جسم، آپ کی مرضی نہ ہوتی، تو آپ کو کوئی بتاتا کہ والد اور اُستاد کا مرتبہ ایک ہی ہوتا ہے۔‘
کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے مزید کہا کہ ’جب یہ بیمار ہوتی ہیں اور کینسر ہو جاتا ہے، تو کوئی کہتی ہے کہ یہاں کا کینسر ہے اور کوئی کہتی ہے کہ وہاں کا کینسر ہے۔۔۔ اگر تمھارا جسم اور تمھاری مرضی ہے تو خود ٹھیک کر لو اپنے آپ کو۔۔۔ اُس وقت کہتی ہیں کہ مولوی صاحب دعا کرو، پانی دم کر کے دو۔۔۔ مگر پھر دم اثر نہیں کرتا۔‘
اپنی اسی تقریر کے دوران انھوں نے فروری 2018 میں وفات پانے والی حقوق انسانی کی کارکن اور وکیل عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے بھی نامناسب الفاظ کہے اور اُن پر تنقید کی۔
چونکہ چنیوٹ میں ہونے والی یہ تقریب 29 اکتوبر کو منعقد ہوئی تھی اور اُسی دن پاکستان میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشین کے انتخابات بھی تھے، جن میں احسن بھون گروپ کے نامزد کردہ امیدرواوں نے کامیابی حاصل کی تھی۔
کیپٹن صفدر ان انتخابات میں مخالف اور کامیاب نہ ہونے والے گروپ کی حمایت کر رہے تھے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’میں ایک الیکشن میں تھا، جو میں ہار کر آ رہا ہوں۔ میں عاصمہ جہانگیر کی باقیات کے خلاف الیکشن میں تھا۔‘
کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ اُنھوں نے کھل کر عاصمہ جہانگیر گروپ کی مخالفت کی تھی، کیونکہ یہ وہ خاتون ہیں جنھوں نے ضیا الحق کے دور میں توہینِ مذہب قانون کی مخالفت کی تھی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’کیا مردوں کو کینسر نہیں ہوتا؟‘
کیپٹن صفدر کے بیان اور مریم نواز کی جانب سے خواتین سے متعلق دیے گئے متنازع ریمارکس پر ردِعمل کا معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے۔
پاکستان میں ہر طرح کے کینسر میں مبتلا خواتین اور اس بیماری سے ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، مگر پاکستانی خواتین میں چھاتی کا کینسر سب سے زیادہ تشخیص کیے جانے والا سرطان ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے مطابق، پاکستان میں صرف سنہ 2024 کے دوران اندازاً 43 ہزار سے زائد خواتین میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، جبکہ اُسی سال (2024 میں) اس بیماری کے باعث تقریباً 20 ہزار سے زائد خواتین کی اموات ہوئی تھیں۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایکس پر مریم نواز کو لکھا کہ ’اس معاملے پر مریم نواز کی جانب سے واضح موقف اختیار کرنے پر اُن کی تعریف کی جانی چاہیے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ کینسر نے بے شمار ذہین خواتین کو خاموشی سے تکلیف سہنے پر مجبور کیا ہے، ’کم از کم اس بات کا تو مذاق نہیں اڑایا جانا چاہیے۔‘
مدیحہ شیخ نامی صارف نے مریم نواز کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بہترین تحریر، جیسے کسی نے خاموش درد کو الفاظ دے دیے ہوں۔ ایک عورت کے احساسات، تکلیف، اذیت اور اندرونی کرب کو محسوس کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ لوگ صرف باتیں کرکے گزر جاتے ہیں، مگر ان خاموش جنگوں اور ان دیکھے زخموں کو کوئی نہیں سمجھ پاتا۔‘
ڈاکٹر شمع جونیجو نے لکھا کہ ’آج میں نے اپنی کزن کو کینسر کے ہاتھوں کھو دیا۔ وہ صرف 39 سال کی تھیں اور اپنے پیچھے چھ سال کا بچہ چھوڑ گئی ہیں۔ یہ بیماری ہمارے خاندان میں نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔ اُس وقت سے جب ’میرا جسم، میری مرضی‘ جیسی کسی بات کا کسی کو علم تک نہ تھا۔‘
بی بی سی نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید، مریم نواز کے تبصرے پر کیپٹن صفدر کا موقف لینے کے لیے رابطہ کیا، لیکن اُنھوں نے فون کالز اور پیغامات کے باوجود تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔
کیپٹن صفدر اور متنازع بیانات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم بہت سے صارفین نے یہ بھی لکھا کہ ماضی میں دیے گئے کیپٹن صفدر کے متنازع بیانات پر بھی مریم نواز کو تنقید کرنی چاہیے تھی اور یہ کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انھوں نے برملا اپنے شوہر کے خیالات پر اظہار رائے کیا ہے۔
کیپٹن (ر) صفدر حالیہ کچھ عرصے سے میڈیا پر خاصے متحرک نظر آ رہے ہیں، وہ مختلف پوڈ کاسٹس میں بھی شرکت کر چکے ہیں جبکہ مختلف ٹی وی انٹرویوز میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے لاہور کے صحافی عثمان بھٹی کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں اپنی ذاتی زندگی پر کھل کر اظہارِ خیال کیا تھا۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان بھٹی کا کہنا تھا کہ اُن کے خیال میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر کیپٹن (ر) صفدر کے کسی بیان پر تبصرہ کیا ہے۔
کیپٹن ریٹائرڈ صفدر ماضی میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے ممتاز قادری کی حمایت میں بھی بیان دے چکے ہیں۔
سنہ 2023 میں مریم نواز نے سینئر اینکر پرسن منصور علی خان کو ایک انٹرویو دیا تھا جس میں اینکر کی جانب سے اُن سے کیپٹن صفدر کے ایک بیان پر بات کی گئی تھی۔ تاہم اس موقع پر مریم نواز نے کہا تھا کہ وہ کیپٹن (ر) صفدر کے بیانات کے لیے جوابدہ نہیں ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’آپ مجھ سے میری بات کریں، وہ کیپٹن (ر) صفدر ایک آزاد شخص ہیں، وہ جو بھی بات کرتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ وہ میرا بھی نقطہ نظر ہو یا وہ میری سیاست ہو۔‘
عاصمہ جہانگیر کے خلاف ’توہین آمیز‘ ریمارکس کی مذمت
کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی جانب سے چنیوٹ میں تقریب کے دوران عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے کی گئی نامناسب گفتگو پر بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
پاکستان بار کونسل نے اپنے ایک بیان میں عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے ’توہین آمیز‘ اور ’نازیبا‘ ریمارکس کی شدید مذمت کی ہے۔
بار کونسل کے نائب چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی نے اپنے ایک بیان میں کہا ’کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے عاصمہ جہانگیر کو بدنام کرنے کے لیے اُن کے مذہبی تشخص کو نشانہ بنانے اور تحقیر آمیز زبان اور حوالوں کا استعمال انتہائی افسوسناک ہے اور اس کی بھرپور مذمت کی جانی چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایک ایسی خاتون کے خلاف اس نوعیت کے ریمارکس دینا، جو اب اس دنیا میں موجود نہیں اور اپنے دفاع یا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں، نہایت قابلِ مذمت عمل ہے اور یہ شائستگی اور احترام کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔‘
نائب چیئرمین نے کہا کہ اختلافِ رائے کو کبھی بھی ذاتی حملوں، نفرت انگیز تقاریر، کردار کشی یا مذہبی عدم برداشت کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ ’عاصمہ جہانگیر کی قانونی برادری، انسانی حقوق کے فروغ اور قانون کی حکمرانی کے لیے گراں قدر خدمات اور نمایاں کردار احترام اور اعتراف کے مستحق ہیں۔‘
انھوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور مناسب قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔
Source: BBC Urdu · BBC News اردو
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira