کینیڈا ایئرپورٹ پر پاکستانی مسافروں کے سامان سے بکرے کے پائے، گھی اور چکن برآمد ہونے پر تین لاکھ روپے جرمانہ: ’انھیں بتائیں یہ چیزیں یہاں بھی ملتی ہیں‘
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
،تصویر کا ذریعہx/CanBorde
وقت اشاعت 2 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 5 منٹ
کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (سی بی ایس اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان سے ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے والے مسافروں کے ایک گروپ کے سامان سے 16 کلوگرام سے زائد ایسی خوراک اور جانوروں سے بنی مصنوعات برآمد ہوئی ہیں جن کے متعلق حکام کو آگاہ نہیں کیا تھا۔
سی بی ایس اے نے جمعرات کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اپنے تلاشی لینے والی کتیا ایجی کی ایک تصویر شیئر کی جس نے مسافروں کے سامان سے مذکورہ اشیا برآمد کی ہیں۔
بارڈر ایجنسی کے مطابق ضبط کی جانے والی اشیا میں بکرے کے پائے، مرغی کا گوشت، گھی اور دودھ کا پاؤڈر شامل ہے۔
سی بی ایس اے کا کہنا ہے کہ مسافروں پر کھانے پینے کی اشیا ڈکلیئر نہ کرنے پر ایک ہزار 350 کینیڈین ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
’خدا کا شکر ہے کہ آپ لوگ اصل جرائم سے نمٹ رہے ہیں‘
اس پوسٹ کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جہاں ایک طرف لوگ مسافروں کی جانب سے ہوائی جہاز کے ذریعے بکرے کے پائے اور گھی لے جانے کے عمل پر طنز کر رہے ہیں تو وہیں دوسری جانب کچھ صارفین کینیڈین حکام کو اصل مسائل کی جانب توجہ دینے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔
ایک ایکس صارف لکھتے ہیں کہ ’کوئی پاکستانی مسافروں کو بتائے کہ یہاں یہ سب ملتا ہے۔‘
زینتھ نامی ایک صارف نے لکھا ہے کہ ’لگتا ہے کوئی شخص یہاں آنے سے پہلے اپنے گھر کے پکے ہوئے کھانوں کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ عین ممکن ہے کہ اس کی والدہ نے سفر سے پہلے آخری بار یہ کھانا اس کے لیے بنایا ہو۔‘
بروس نامی صارف نے ایجی کی تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، ’گڈ گرل۔ اب انعام کے طور پر ان مزیدار پائے میں سے کچھ اسے دے دیں۔‘
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طارق بشیر نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’شرط لگا سکتا ہوں کہ ایجی کو پائے پسند ہیں۔‘
ایک اور ایکس صارف لیا بھی ایجی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ’ایجی نے اچھا کام کیا۔۔۔ تاہم پاکستان سے 14 گھنٹے کی فلائٹ کے بعد پائے کی بو نظر انداز کرنا مشکل ہو گا۔‘
،تصویر کا ذریعہx/CanBorde
ایک صارف لکھتے ہیں کہ ’ایک طرف ہم ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں جیٹ طیارے اور عالمی سفر جیسی سہولتیں موجود ہیں جن کا 100 سال پہلے تصور بھی ممکن نہیں تھا، اور دوسری طرف لوگ اسی حیرت انگیز ٹیکنالوجی کو اپنے سامان میں بکرے کے پائے اور گھی لے جانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘
دوسری جانب سوشل میڈیا پر کچھ صارفین کینیڈین حکام کو ان چیزوں پر دھیان دینے کے بجائے منشیات کی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ روکنے پر کام کرنے کا مشورہ دیتے نظر آئے۔
میر نامی ایک صارف سی بی ایس اے کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’منشیات آپ کی ناک کے نیچے سے گزر جاتی ہیں، لیکن کینیڈا کی قومی سلامتی کے لیے اصل خطرہ ان کھانے پینے کی اشیا سے ہے۔‘
ایک اور صارف نے سی بی ایس اے کی پوسٹ کے نیچے لکھا کہ ’کیا آپ منشیات اور منی لانڈرنگ پر توجہ دے سکتے ہیں؟‘
ڈسٹن نامی ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا ’خدا کا شکر ہے کہ آپ لوگ اصل جرائم سے نمٹ رہے ہیں۔‘
سوشل میڈیا پر کچھ صارفین ان مسافروں کو ڈی پورٹ کرنے کا مطالبہ کرتے نظر آئے۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ ان مسافروں پر جرمانہ عائد کرنے کے بجائے انھیں سیدھا ڈی پورٹ کر دینا چاہیے۔
،تصویر کا ذریعہToronto Star via Getty Images
بیرونِ ملک سے کینیڈا کھانے پینے کی اشیا لے جانے کے متعلق قوانین کیا کہتے ہیں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (سی بی ایس اے) ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ قریبی تعاون سے کینیڈا میں خوراک، پودوں، جانوروں اور ان سے بنی مصنوعات ملک میں لانے سے متعلق پالیسیوں کا سرحدی مقامات پر نفاذ اور انتظام کرتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ درآمد کردہ پھل یا گوشت کا صرف ایک ٹکڑا بھی کینڈا کے ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
’خوراک، پودوں اور جانوروں سے متعلق مختلف مصنوعات کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد ہے کیونکہ ان کے ذریعے حملہ آور انواع، جانوروں کی بیرونی بیماریاں اور پودوں کے لیے نقصان دہ کیڑے متعارف ہو سکتے ہیں۔‘
’یہ عوامل کینیڈا کی فصلوں، مویشیوں اور ماحولیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ملکی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔‘
سی بی ایس اے کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے مسافر کینیڈا میں داخل ہوتے وقت کھانے پینے کی کون سی اشیا اپنے ہمراہ نہیں لا سکتے۔
جن اشیا پر پابندی عائد ہے ان میں خوراک، مثلاً کچا یا پکا ہوا گوشت، پھل اور سبزیاں، اور دودھ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ گھریلو طور پر تیار کی گئی اشیا، مثلاً پودوں یا لکڑی سے بنی چیزیں، گھروں میں رکھے جانے والے پودے، زندہ جانور بشمول پالتو جانور اور ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والا چارہ، جلانے کی لکڑی، پودوں کے ٹکڑے اور بیج اور گندے ہائکنگ والے جوتے بھی شامل ہیں۔
سی بی ایس اے کا کہنا ہے کہ کچھ اشیا کو کینیڈا میں لانے کے لیے مخصوص دستاویزات یا رجسٹریشن درکار ہوتی ہے۔
ادارہ مسافروں کو خوراک، پودوں یا جانوروں سے متعلق مصنوعات کے ساتھ سرحد عبور کرنے سے پہلے کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی کے خودکار درآمدی ریفرنس سسٹم سے رہنمائی حاصل کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔
Source: BBC Urdu · BBC News اردو
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira