کیا ٹرمپ مخالف ڈیموکریٹ جماعت کی کامیابی امریکہ-پاکستان تعلقات پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے؟
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
،تصویر کا ذریعہwhitehous
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وقت اشاعت 4 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 7 منٹ
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے اب تک کے نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالف ڈیموکریٹ جماعت کے لیے کسی خواب جیسے دکھائی دے رہے ہیں اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ جلد ہی امریکی کانگریس میں ریپبلکن جماعت اپنی اکثریت کھو دے گی۔
ان نتائج کے امریکہ کی اندرونی سیاست پر اثرات تو اپنی جگہ اہم ہیں لیکن امریکہ جیسے طاقتور ملک کی سیاست میں تبدیلی باقی دنیا کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ایسے میں پاکستان میں بھی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا جنوری میں عمل پذیر ہونے والی یہ تبدیلی پاکستان سے امریکہ کے تعلقات پر بھی اثرانداز ہو گی؟ اور اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو یہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟ کچھ اسی طرح کے سوالات انڈیا میں بھی اٹھ رہے ہیں۔
اس بحث میں امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے بھی حصہ لیا ہے جو اٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ’کانگریس پر ڈیموکریٹ جماعت کے کنٹرول کے بعد ٹرمپ اور ان کے خاندان کے کاروباری معاملات پر سوالات بڑھیں گے، جس سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں کیونکہ اسلام آباد نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کاروباری اور معاشی تعاون سے خاصی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں مائیکل کوگلمین نے لکھا کہ ’امریکہ میں ٹرمپ کی پاکستان سے قربت بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، جس کی ایک وجہ پاکستان میں انسانی حقوق اور سیاسی جبر کے معاملات پر پائی جانے والی تشویش ہے۔‘ تاہم ان کے مطابق پاکستان کی تزویراتی اہمیت اور ایران جنگ کے دوران اس کے ثالثی کردار کی وجہ سے کانگریس میں اس مخالفت کی شدت محدود رہ سکتی ہے۔
پاکستان میں مختلف حلقوں میں بھی ایسے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں اور امریکی پالیسی میں متوقع تبدیلیوں پر بحث جاری ہے۔ بی بی سی کی کائلا اپسٹین کے مطابق واشنگٹن میں طاقت کا توازن بدلنے کا یہ مطلب نہیں کہ ڈیموکریٹس فوری طور پر اپنی مرضی سے تمام فیصلے کر سکیں گے۔ اگرچہ انھیں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہو گی، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس قانون سازی کو ویٹو کرنے کا اختیار برقرار رہے گا، جسے کانگریس دو تہائی اکثریت سے مسترد کر سکتی ہے۔
نئی کانگریس تین جنوری 2027 کو اپنا کام شروع کرے گی۔ اس وقت تک موجودہ کانگریس ہی کام کرتی رہے گی، جبکہ اس کے بعد بھی ٹرمپ کے پاس اپنی مدتِ صدارت کے باقی دو سال کے لیے وسیع انتظامی اختیارات موجود ہوں گے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈیموکریٹس کی کامیابی کو ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک سیاسی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی میں فوری طور پر بڑی تبدیلی آ جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے پاس اب بھی انتظامی اختیارات موجود ہیں، جبکہ نئی کانگریس کے اقتدار سنبھالنے کے بعد قانون سازی، بجٹ اور انتظامیہ کی نگرانی کے معاملات میں انہیں زیادہ سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے لیے اہم سوال یہ ہو گا کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس حد تک ادارہ جاتی اور دیرپا بنیادوں پر استوار کر پاتا ہے۔
اگر تعلقات کا محور صرف ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ شخصی روابط اور مخصوص کاروباری امکانات رہے تو امریکی سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ان کی سمت بھی بدل سکتی ہے۔ لیکن اگر دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، تجارت اور سفارت کاری جیسے شعبوں میں مضبوط ادارہ جاتی روابط قائم ہوتے ہیں تو ان کے تسلسل کے امکانات زیادہ ہوں گے۔
اس لیے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج پاکستان کے لیے فوری سفارتی بحران سے زیادہ ایک طویل مدتی سوال سامنے لاتے ہیں۔۔۔ اور یہ سوال اہم ہے کہ کیا اسلام آباد واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک امریکی صدر کی سیاسی ترجیحات سے آگے لے جا کر امریکی ریاست کے ساتھ ایک پائیدار شراکت داری میں تبدیل کر سکتا ہے یا نہیں؟
،تصویر کا ذریعہwhitehouse
پاکستان کے لیے تشویش کی وجوہات کیا ہیں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان نے گذشتہ کچھ عرصے میں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اس میں معدنی وسائل اور سرمایہ کاری، کرپٹو کرنسی، تجارت اور دفاعی روابط کے علاوہ ایران جنگ کے دوران پاکستان کا سفارتی کردار بھی شامل ہے۔
امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کے مطابق ڈیموکریٹس کے کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی سفارت کاری اور صدر کے قریبی حلقوں کے کاروباری معاملات کی زیادہ جانچ پڑتال ہو سکتی ہے۔ اس کا اثر پاکستان کے ساتھ طے پانے والے یا زیرِ غور کاروباری معاملات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
صحافی اور تجزیہ کار باقر سجاد بھی اس معاملے کو پاکستان کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔
انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ٹرمپ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا ایک نمایاں پہلو فوجی روابط، معدنی وسائل اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے قائم ہونے والی شخصی نوعیت کی شراکت داری ہے۔ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد اس ماڈل کو زیادہ جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
باقر سجاد کے خیال میں ٹرمپ کے پاس اب بھی وسیع انتظامی اختیارات موجود ہیں، لیکن ان کے گرد سیاسی گنجائش تیزی سے محدود ہو رہی ہے۔ اس لیے نئی کانگریس کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے کے دو ماہ بھی اہم ہو سکتے ہیں۔
تاہم اس بحث میں ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ کیا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو صرف ٹرمپ کی شخصیت اور ان کے قریبی حلقوں کے ساتھ روابط کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے؟
رضا ہارون کے مطابق ایک حکومت کا دوسری حکومت کے ساتھ تجارتی اور کاروباری معاملات میں شراکت داری کرنا اور ایک دوسرے پر انحصار کرنا کوئی غیر معمولی یا معیوب بات نہیں۔
انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ٹرمپ امریکہ کے صدر ہیں اور ان کی انتظامیہ امریکی حکومت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی اور کاروباری تعلقات کا قیام اور فروغ سفارت کاری کا ایک معمول کا حصہ ہے۔
کیا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بڑی تبدیلی آنے کا امکان ہے؟
امریکہ کی لامر یونیورسٹی میں شعبۂ ابلاغیات و میڈیا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اویس سلیم سمجھتے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات پر فوری اور بڑے اثرات مرتب ہونے کا امکان محدود ہے۔
بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان انتخابات میں ووٹروں کی ترجیحات بنیادی طور پر امریکہ کے داخلی مسائل تھے، خصوصاً معیشت، مہنگائی اور ایران جنگ کے معاشی اثرات۔
وہ کہتے ہیں کہ ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں بھی معیشت بہتر بنانے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے اور جنگیں ختم کرنے کے وعدے کیے تھے۔ لیکن ایران جنگ کے نتیجے میں امریکی معیشت اور عام شہریوں کے اخراجات پر دباؤ بڑھا، جس کا سیاسی نقصان ریپبلکن جماعت کو اٹھانا پڑا۔
ڈاکٹر اویس سلیم کے مطابق ڈیموکریٹس کی توجہ بھی اب بنیادی طور پر صحت کی سہولیات، مہنگائی اور معیشت جیسے داخلی معاملات پر رہے گی۔ ’خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایران جنگ کو محدود کرنے یا اس سے نکلنے کی کوشش ان کی اہم ترجیحات میں شامل ہو سکتی ہے۔‘
تاہم ان کے مطابق پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات میں بڑی تبدیلی کا امکان نہیں کیونکہ واشنگٹن میں پاکستان کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی ضرورت پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں اتفاق پایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی صورت حال کسی بھی وقت غیر مستحکم ہو سکتی ہے، جبکہ چین کے ساتھ امریکہ کی تزویراتی مسابقت میں بھی پاکستان کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت موجود ہے۔
ڈاکٹر اویس سلیم کے مطابق پاکستان اور امریکی فوجی قیادت کے درمیان رابطے اور دفاعی تعاون اس لیے جاری رہ سکتے ہیں کہ یہ تعلقات کسی ایک امریکی صدر یا سیاسی جماعت تک محدود نہیں ہیں۔
البتہ ان کے خیال میں پاکستان کو ماضی کی طرح امریکی مالی امداد یا غیر معمولی تجارتی رعایتوں کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ امریکہ کے اپنے معاشی مسائل اور داخلی ترجیحات بھی اس حوالے سے اہم ہیں۔
،تصویر کا ذریعہwhitehouse
کیا انڈیا کو فائدہ ہو سکتا ہے؟
پاکستان کے ساتھ تعلقات کے علاوہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا ایک ممکنہ علاقائی اثر امریکہ اور انڈیا کے تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
مائیکل کوگلمین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن اور ویزا پالیسیوں نے امریکہ اور انڈیا کے تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ ڈیموکریٹس کے کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ان پالیسیوں میں تبدیلی کی کوششیں دونوں ملکوں کے عوامی روابط کو بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔
ایکس پر لیوک کلاؤڈ نامی صارف نے بھی اس حوالے سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان فرق کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کی سیاسی شکست سے انڈیا کی پالیسیوں پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اس کی امریکہ کے ساتھ شراکت داری کسی ایک امریکی صدر کی سیاسی پوزیشن پر منحصر نہیں۔
ان کے خیال میں پاکستان کے لیے صورت حال مختلف ہے کیونکہ اسلام آباد نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں خاصی سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے واشنگٹن میں سیاسی تبدیلی پاکستان کے لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
تاہم ڈاکٹر اویس سلیم کے مطابق انڈیا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں بھی کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا ایک بڑی منڈی اور اہم تزویراتی شراکت دار ہے، اس لیے واشنگٹن کے لیے اس کی اہمیت برقرار رہے گی۔
ان کے خیال میں امریکہ خطے میں پاکستان اور انڈیا دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔
Source: BBC Urdu · منزہ انوار
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira