کیا طویل فاصلے کی ریس میں انسان چیتے، گینڈے یا دیگر تیز رفتار جانوروں کو شکست دے سکتا ہے؟

کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

Cheetah

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچیتا جنگل میں 93 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے
    • مصنف, رچرڈ فشر
  • وقت اشاعت ایک منٹ قبل

  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

چند سال پہلے میں امریکہ میں کیمپنگ کر رہا تھا کہ ایک سیاہ ریچھ اتفاقاً قریب سے گزرا۔ جب میں اسے کیمپ کے ارد گرد سونگھتے ہوئے دیکھ رہا تھا تو میرے ذہن میں سوال آیا: اگر ضرورت پڑے تو کیا میں اس ریچھ سے تیز دوڑ سکتا ہوں؟

بعد میں جب میں نے ریچھوں کی رفتار کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو جواب بالکل واضح تھا: ہرگز نہیں۔

اگر آپ بھاگتے ہیں تو ریچھ ردعمل میں آپ کے پیچھے بھی بھاگ سکتا ہے، اسی لیے میں آپ کو اس سے ریس لگانے کا مشورہ نہیں دوں گا۔ سیاہ ریچھ 48 کلومیٹر فی گھنٹہ (30 میل فی گھنٹہ) تک کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔

تب سے ہی خصوصاً لندن میں جاگنگ کرتے ہوئے میں اکثر خود سے یہ سوال کرتا رہا ہوں: آخر کون سے جانور ہیں جنھیں میں دوڑ یا ریس میں ہرا سکتا ہوں؟ اگر میرا سامنا کسی غیر معمولی طور پر غصیلی گلہری یا بیجر سے ہو جائے تو کیا ہوگا؟

حقیقی معنوں میں جانوروں کے اولمپکس تو صرف حضرت نوح ہی منعقد کر سکتے تھے، مگر سائنس دانوں نے بھی سینکڑوں جانداروں کی زیادہ سے زیادہ دوڑنے کی رفتار ناپ رکھی ہے۔

ان میں گلہریاں اور بیجر ہی نہیں بلکہ مکڑیاں، چھپکلیاں، چوہے نما جانور، پرندے، بڑے ممالیہ جانور اور بہت سے دوسرے جاندار بھی شامل ہیں۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالے سے کئی حیران کن حقائق سامنے آتے ہیں۔

تو پھر کون سا زمینی جانور آپ کا سب سے قریب ترین حریف ثابت ہو سکتا ہے؟ اور کون سے جانور دنیا کے تیز ترین انسانوں کو بھی سخت مقابلہ دے سکتے ہیں؟

Animals

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پٹھوں کا وزن

گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران سائنس دانوں نے جانوروں کی زیادہ سے زیادہ رفتار مختلف طریقوں سے ناپی ہے۔

Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

  • تصویر

  • ولیم بچوں کے درمیان

  • India Hydropower project

  • मोदी

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان میں سے بعض طریقے دوسرے طریقوں کے مقابلے میں زیادہ درست (اور اخلاقی لحاظ سے بہتر) تھے۔

1920 کی دہائی میں قدرتی ماحول اور جانداروں کے ماہر نے شمالی امریکہ کے تیز ترین زمینی جانور پرونگ ہارن ہرن کے ساتھ اپنی گاڑی دوڑائی اور اسے دوڑتے رکھنے کے لیے فضا میں فائرنگ کی۔

1980 کی دہائی میں محققین نے یہ دریافت کیا کہ وہ چوہوں جیسے نسبتاً چھوٹے جانوروں کو ٹریڈ مل پر رکھ کر بھی ان کی رفتار کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

تاہم آج کے جدید دور میں جی پی ایس ٹریکرز جیسی ٹیکنالوجی نے قدرتی ماحول میں جانوروں کی رفتار ریکارڈ کرنا قدرے آسان بنا دیا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں جنگل میں چیتوں کا تعاقب کیا گیا، اس سے پتا چلا کہ وہ 93 کلومیٹر فی گھنٹہ (58 میل فی گھنٹہ) کی رفتار تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس سے پہلے کی پیمائشیں فلمی ریکارڈنگز پر مبنی تھیں، یا ایک موقع پر چیتے کو مصنوعی طور پر اس طرح دوڑایا گیا کہ وہ گوشت کے ایک ٹکڑے کا پیچھا کرے جسے ایک جیپ میں سوار اور سٹاپ واچ تھامے ہوئے شخص پکڑے ہوئے تھا۔

تاہم بعض اوقات سادہ طریقے بھی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ ایک اور حالیہ تحقیق میں محققین نے ممکنہ طور پر دنیا کی تیز ترین مکڑی (آسٹریلیا کی براؤن ہنٹس مین) کی رفتار صرف اسے ہلکا سا دھکا دے کر اور پھر اسے ایک پیمانے کے ساتھ ویڈیو میں ریکارڈ کر کے ناپی۔

اگرچہ اس کی اوسط رفتار تقریباً سات کلومیٹر فی گھنٹہ (4.3 میل فی گھنٹہ) تھی، لیکن مختصر وقفوں میں اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 13 کلومیٹر فی گھنٹہ (8 میل فی گھنٹہ) تک پہنچ گئی، جو خاصی پریشان کن محسوس ہوتی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ محققین نے ان مختلف سائنسی پیمائشوں کو بڑے ڈیٹا بیسز میں جمع کیا ہے۔ ان میں سے ایک ماہر حیاتیات میریئم ہرٹ ہیں، جو اس وقت جرمنی کے شہر لیپزگ میں واقع جرمن سینٹر فار انٹیگریٹو بایو ڈائیورسٹی ریسرچ سے وابستہ ہیں۔

اُنھوں نے تقریباً 350 زمینی جانوروں کی دوڑنے کی رفتار کا ریکارڈ مرتب کیا۔ 2017 میں وہ اور ان کے ساتھی اس سوال کا جائزہ لے رہے تھے کہ جانوروں کے پٹھوں کا وزن ان کی رفتار کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔

اصولی طور پر دیکھا جائے تو بڑے جانور، جن کے پٹھوں کا وزن زیادہ ہوتا ہے، سب سے تیز دوڑنے کے قابل ہونے چاہییں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہرٹ کہتی ہیں: ’جب آپ پہلی بار اس بارے میں سوچتے ہیں تو یہ بات معقول لگتی ہے، لیکن اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ سب سے بڑی انواع سب سے تیز نہیں ہوتیں اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایسا کیوں ہے۔‘

وہ اور ان کے ساتھی اس نتیجے پر پہنچے کہ بڑے جانور زیادہ سے زیادہ رفتار تک اس جسمانی وزن کے باعث نہیں پہنچ پاتے جو انھیں اٹھانا پڑتا ہے۔

وہ وضاحت کرتی ہیں: ’ایک بڑے جسم کو اسی رفتار سے حرکت میں لانے کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے جتنا ایک چھوٹے جسم کو۔ بالکل اسی طرح جیسے بڑے طیاروں کو رن وے پر زیادہ فاصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ (یا جیسا کہ ماریو کارٹ کھیلنے والا کوئی بھی شخص جانتا ہوگا، ننھا ٹوڈ بھاری بھرکم ڈونکی کانگ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے رفتار پکڑ لیتا ہے۔)

رفتار حاصل کرنے کا یہ سست عمل اس بات کا باعث بنتا ہے کہ بڑے جانور اپنی ممکنہ زیادہ سے زیادہ رفتار تک پہنچنے سے پہلے ہی تھکن کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

ہرٹ کہتی ہیں: ’آپ کے پاس رفتار بڑھانے کے لیے توانائی کی ایک محدود مقدار ہوتی ہے۔ ایک مرحلے پر آپ مزید آگے نہیں بڑھ پاتے کیونکہ آپ میں توانائی باقی نہیں رہتی۔‘

بڑے جانوروں کی رفتار حاصل کرنے میں یہ سستی اس بات کا مطلب بھی ہے کہ بعض جانوروں کو، خاص طور پر مختصر فاصلے کی دوڑ میں، آپ مات دے سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر افریقی بش ہاتھی 35 کلومیٹر فی گھنٹہ (21.7 میل فی گھنٹہ) کی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کر سکتا ہے، لیکن دوڑ کے آغاز میں اس کی رفتار انسانوں سے کم ہوتی ہے۔

2020 میں مرتب کیے گئے جانوروں کی رفتار کے ایک اور ڈیٹا بیس میں، جس میں اعداد و شمار کو بھی شامل کیا گیا تھا، یہ اندازہ لگایا گیا کہ افریقی بش ہاتھی تقریباً 7.5 سیکنڈ میں اپنی زیادہ سے زیادہ رفتار تک پہنچ جائے گا۔

ایک سرسری حساب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ 100 میٹر (328 فٹ) کا فاصلہ تقریباً 14 سیکنڈ میں طے کر سکتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں اتنے ہی وقت میں اس جانور سے زیادہ دوڑ سکوں گا، لیکن دوڑ سے متعلق ویب سائٹ میراتھن ہینڈبک کے مطابق بعض اچھی تربیت یافتہ بالغ افراد اسے پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔

اولمپک سپرنٹر یوسین بولٹ غالباً افریقی بش ہاتھی سے آسانی سے آگے نکل سکتے تھے، لیکن بہت سے دوسرے جانور پھر بھی ان سے زیادہ تیز ثابت ہوتے۔

اگر ہم صرف زیادہ سے زیادہ سپرنٹ رفتار کا موازنہ کریں، یعنی جسمانی کمیت اور رفتار پکڑنے کے عوامل کو نظر انداز کر دیں، تو عالمی ریکارڈ قائم کرنے والی دوڑ کے دوران بولٹ کی تیز ترین رفتار تقریباً 44 کلومیٹر فی گھنٹہ (27 تا 28 میل فی گھنٹہ) تھی۔

یہ رفتار سفید گینڈے کی زیادہ سے زیادہ رفتار (40 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے زیادہ، لیکن گریزلی اور قطبی ریچھ کی رفتار (48 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے کم ہے۔ تاہم بہت سے جانور اس سے بھی زیادہ تیز دوڑ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کون کون سے جانور تیز بھاگتے ہیں؟

سب سے معروف تیز رفتار جانور چیتا (93 کلومیٹر فی گھنٹہ) اور شتر مرغ (82.8 کلومیٹر فی گھنٹہ) ہیں، لیکن کئی دوسرے جانور بھی حیرت انگیز رفتار رکھتے ہیں۔ مجھے لگتا تھا کہ زرافہ شاید میری رفتار کے قریب ہوگا، مگر وہ 57 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک دوڑ سکتا ہے۔ یعنی وہ مختصر فاصلے کی دوڑ میں نہ صرف مجھے بلکہ یوسین بولٹ کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ موس 55.4 کلومیٹر فی گھنٹہ، زیبرا 70.6 کلومیٹر فی گھنٹہ اور بارہ سنگھا 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار حاصل کر سکتا ہے۔

یہ جان کر اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کی رفتار کئی جانوروں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ دنیا کے تیز ترین ایتھلیٹس بھی ان جانوروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

اگر بات لمبی دوڑ کی ہو تو معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔ سابق اولمپک رنر اینڈی بیڈلی کے مطابق انسانی عضلات دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک قسم کے عضلات بہت تیزی سے طاقت پیدا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سپرنٹر ابتدا میں بہت تیز دوڑ سکتے ہیں، لیکن یہ عضلات جلد تھک بھی جاتے ہیں۔ دوسری قسم کے عضلات کم رفتار سے کام کرتے ہیں مگر زیادہ دیر تک طاقت فراہم کر سکتے ہیں، اس لیے لمبی دوڑ کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے 100 میٹر کی دوڑ میں سپرنٹر زیادہ تیز ہوتے ہیں، لیکن طویل فاصلے میں ان کی رفتار برقرار نہیں رہتی۔ دوسری طرف درمیانے اور لمبے فاصلے کے رنرز اتنے تیز آغاز نہیں کرتے، مگر وہ زیادہ دیر تک اچھی رفتار برقرار رکھ سکتے ہیں۔

بیڈلی اپنی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اولمپکس کے زمانے میں وہ 100 میٹر تقریباً 11.7 سیکنڈ میں دوڑ سکتے تھے، جو تقریباً ایک گوریلا کے برابر رفتار ہے۔ تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس فاصلے پر ایلیٹ سپرنٹر ان سے زیادہ تیز ہوتے۔

لیکن جیسے جیسے فاصلہ بڑھتا ہے، مقابلہ بدل جاتا ہے۔ بیڈلی کا کہنا ہے کہ 500 میٹر کی دوڑ میں وہ ایک ایلیٹ سپرنٹر کو سخت مقابلہ دے سکتے تھے، جبکہ 1500 میٹر کی دوڑ میں وہ دنیا کے تیز ترین سپرنٹر کو بھی ہرا دیتے، کیونکہ ان کی تربیت انہیں لمبے وقت تک رفتار برقرار رکھنے کے قابل بناتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہی اصول جانوروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر چیتے کی رفتار پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ اپنی زیادہ سے زیادہ رفتار عام طور پر صرف چند سیکنڈ تک برقرار رکھ سکتا ہے، جبکہ شکار کے دوران اس کی دوڑ عموماً 200 میٹر سے بھی کم ہوتی ہے۔ یعنی چیتا مختصر فاصلے کا تیز رفتار دھاوے باز ہے، لمبی دوری کا کھلاڑی نہیں۔

اس کے برعکس پرونگ ہارن ہرن جو خود ایک شکار بننے والا جانور ہے، 10 منٹ میں 11 کلومیٹر دوڑتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا اور اس دوران اس کی اوسط رفتار 65 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی۔

محقق ہِرٹ کے مطابق ایک پرانی کہاوت اس فرق کو اچھی طرح بیان کرتی ہے: ’شکاری کے لیے یہ صرف ایک کھانا ہوتا ہے، لیکن شکار بننے والے جانور کے لیے یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہوتا ہے۔ اسی لیے تیز رفتار ہونے کا دباؤ شکار بننے والے جانوروں پر زیادہ ہوتا ہے۔‘

مجموعی طور پر انسان مختصر فاصلے کی تیز دوڑ کے مقابلے میں طویل فاصلے تک دوڑنے کے لیے بہتر طور پر موزوں ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے جسم کی ساخت، جسم پر کم بال ہونا اور پسینہ آنا ہے، جو جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

بعض ارتقائی حیاتیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ خصوصیات انسانوں میں اس لیے پیدا ہوئیں تاکہ وہ کئی کلومیٹر تک شکار کا تعاقب کر کے اسے تھکا سکیں۔

تو کیا طویل فاصلے کی دوڑ میں انسان دوسرے جانوروں کے مقابلے میں سونے کا تمغہ جیت سکتے ہیں؟ اس کا جواب آسان نہیں۔

ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس بارے میں سائنسی معلومات محدود ہیں۔ جانوروں میں میراتھن (42.2 کلومیٹر) جیسی دوڑ میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی خواہش نہیں ہوتی۔ تجربہ گاہ میں انھیں ایسا کرنے پر مجبور کرنا غیر اخلاقی سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ قدرتی ماحول میں بھی بیشتر جانور اختتامی لکیر تک پہنچنے سے بہت پہلے اپنی رفتار کم کر دیتے ہیں یا رک جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سائنس دانوں نے جانوروں کی ’سفر کی رفتار‘ بھی ریکارڈ کی ہے، یعنی وہ رفتار جس پر وہ طویل فاصلے آرام سے طے کرتے ہیں۔

اس پیمانے کے مطابق سیاہ ریچھ، شیر، اونٹ اور بھیڑیا عام طور پر لندن میراتھن کے شرکا کی اوسط رفتار سے بھی آہستہ چلتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ طویل فاصلے تیزی سے طے نہیں کر سکتے، کیونکہ سفر کی رفتار زیادہ تر انسانوں کی چال کے برابر سمجھی جاتی ہے۔

اس کے باوجود دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انسان جانوروں کی دنیا کے بہترین میراتھن رنرز نہیں ہیں۔ ہسکی کتے اور تربیت یافتہ گھوڑے میراتھن میں زیادہ تر انسانوں کو شکست دے سکتے ہیں۔

تاہم بہت طویل مقابلوں، جیسے الٹرا میراتھن، میں انسانوں کی ایک خاص برتری ان کی ذہنی قوت ہے۔ ماہر رَنر اینڈی بیڈلی کے مطابق طویل دوڑ کا راز درد اور تھکن کو برداشت کرتے ہوئے اختتام تک رفتار برقرار رکھنے میں ہے اور یہ واضح نہیں کہ جانور بھی ایسا کر سکتے ہیں یا نہیں۔

لیکن اگر بات کسی غصیلے بیجر یا گلہری سے مقابلے کی ہو تو صورتحال مختلف ہے۔ یہ جانور ایک دو قدم میں اپنی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کر لیتے ہیں، جو تقریباً 30 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے، یعنی مصنف کی رفتار سے زیادہ۔ اسی لیے وہ مذاقاً کہتے ہیں کہ شاید اب انھیں مزید سخت تربیت کرنا ہوگی۔

Source: BBC Urdu · رچرڈ فشر

At a glance

Topic
World
Country
🇵🇰 PK
Publisher language
UR
Added to Allnira