ولیم گیمبورگ اور ’سُر تال اکیڈمی‘: لاہور کے کم عمر موسیقار جن کی ویڈیوز انڈیا میں بھی وائرل ہو رہی ہیں
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
،تصویر کا ذریعہSurtaal Music Academy
وقت اشاعت 3 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 5 منٹ
’تو تے تاریاں تو وی سوہنا ایں ۔۔۔ تیرے ورگا کوئی ناں ہونا اے۔‘
بچے پورے جوش سے یہ گیت گا رہے ہیں جبکہ ان کے درمیان بیٹھے ایک غیر ملکی نوجوان موسیقی کے سُروں میں کھوئے دکھائی دیتے ہیں، لے کے ساتھ ان کا سر مسلسل جنبش میں ہے، اور جیسے جیسے دھن تیز ہوتی ہے، وہ بے اختیار تالیاں بجانے لگتے ہیں۔
پنجابی گانے کے ان بولوں کا مطلب ہے کہ ’آپ تو ستاروں سے بھی خوب صورت ہیں، آپ کا کوئی جوڑ نہیں۔‘
مختصر دورانیے کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
انسٹاگرام پر 90 لاکھ کے قریب افراد اسے دیکھ چکے ہیں، جبکہ ویڈیو سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر بھی وسیع پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہے اور اس پر بڑی تعداد میں صارفین تبصرے کر رہے ہیں۔
بہت سے صارفین نے خاص طور پر بچوں کی گائیکی، ان کے اعتماد اور ویڈیو میں دکھائی دینے والی خوشگوار فضا کو سراہا ہے۔
یہ ویڈیو پاکستان کے شہر لاہور میں ریکارڈ کی گئی ہے اور ان بچوں کے درمیان بیٹھے غیر ملکی ولیم گیمبورگ ہیں۔
ولیم کا تعلق ناروے سے ہے اور وہ سوشل میڈیا پر مواد تخلق کرتے ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کے فالوورز کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے، جبکہ ٹک ٹاک پر ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب افراد انھیں فالو کرتے ہیں۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب انھوں نے یہ ویڈیو ٹک ٹاک پر شیئر کی اسے بہت مقبولیت ملی۔
ویڈیو میں نظر آنے والے بچوں کا تعلق سُر تال میوزک اکیڈمی سے ہے، جو لاہور میں قائم موسیقی کا ایک ادارہ ہے۔
موسیقی کے ذریعے سماجی تبدیلی کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’پلیئنگ فار چینج فاؤنڈیشن‘ کی ویب سائٹ پر درج تعارف کے مطابق اس اکیڈمی کی بنیاد 2019 میں موسیقار اور موسیقی کے محقق ضیا الحق نے رکھی تھی جس کا مقصد ’نوجوان فنکاروں کی نئی نسل تیار کرنا‘ اور کم وسائل رکھنے والے بچوں کو موسیقی کی مفت تعلیم تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
،تصویر کا ذریعہSurtaal Music Academy
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس اکیڈمی میں طلبہ کو گائیکی اور مختلف ساز بجانے کی تربیت دی جاتی ہے، جس میں کلاسیکی موسیقی، غزل، پاپ اور فلمی موسیقی سمیت مختلف اصناف شامل ہیں۔
اکیڈمی کے مطابق گذشتہ چند برسوں کے دوران اس کے طلبہ 20 سے زیادہ قومی اعزازات حاصل کر چکے ہیں جبکہ وہ 100 سے زائد ٹی وی پروگراموں میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔
لاہور کے علاقے کرشن نگر میں واقع اس میوزک اکیڈمی کے بانی ضیا الحق کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو گذشتہ ہفتے ریکارڈ کی گئی تھی جب ’کوک سٹوڈیو والے زلفی بھائی ولیم گیمبورگ کو لے کر آئے تھے۔‘
ضیا الحق کے مطابق ان کا ادارہ تقریباً 10 برس سے بچوں کو مفت موسیقی کی تعلیم فراہم کر رہا ہے اور ولیم گیمبورگ کی وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے بچے اکیڈمی کے منتخب طلبہ تھے۔
بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اکیڈمی میں 100 سے زیادہ بچے موسیقی سیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات وہ مختلف علاقوں اور دیہاتوں میں جا کر ٹیلنٹ کی تلاش کرتے ہیں اور جن بچوں میں صلاحیت نظر آتی ہے انھیں اکیڈمی میں لایا جاتا ہے، جہاں انھیں باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔
ضیا الحق کے مطابق اکیڈمی کی جانب سے بچوں کو میوزک سکالرشپس بھی دی جاتی ہیں اور کئی طالب علم اپنے سکول کے اوقات ختم ہونے کے بعد روزانہ چار سے پانچ گھنٹے تک ریاض اور مشق کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اکیڈمی میں زیرِ تربیت بعض بچیاں لاہور کے نواحی علاقوں اور مختلف دیہاتوں سے بھی موسیقی سیکھنے آتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اکیڈمی کے بچوں کو اس سے قبل اُس وقت بھی خاصی توجہ ملی تھی جب انھوں نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ایک تقریب میں پرفارم کیا تھا۔ ضیا الحق کا کہنا ہے کہ وہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ اکیڈمی کے منصوبوں کو مختلف مقامی اور بین الاقوامی شخصیات کی حمایت حاصل رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے بھی اس سلسلے میں حوصلہ افزائی کی جبکہ گلوکار علی ظفر نے اکیڈمی کے بچوں اور کرکٹ ٹیم لاہور قلندرز کے درمیان ایک اشتراک (کولیبریشن) بھی کرایا تھا۔
سُر تال اکیڈمی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز میں ولیم گیمبورگ دیگر گیتوں پر بھی جھومتے نظر آتے ہیں۔
’پاکستان صرف موسیقی نہیں بناتا‘
بچوں کی گائیکی اور ویڈیو میں دکھائی دینے والی سادہ مگر پُر تاثیر موسیقی محفل نے سرحد کے دونوں جانب، یہاں تک کہ سات سمندر پار امریکہ میں رہنے والوں کی بھی توجہ حاصل کی۔
عام سوشل میڈیا صارفین سے لے کر صحافیوں، اداکاروں اور ڈیجیٹل کریئیٹرز تک کئی صارفین نے اس پر تبصرے کیے اور ویڈیو کو موسیقی، معصومیت اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک دلکش مثال قرار دیا۔
انسٹاگرام کے ایک مقبول اکاؤنٹ انڈیا ٹیلنٹس نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’پاکستان صرف موسیقی نہیں بناتا بلکہ ایسے احساسات تخلیق کرتا ہے جو روح کو چھو لیتے ہیں۔ پاکستانی بچوں کو معصومیت اور جذبات کے ساتھ گاتے سننا ایک الگ ہی احساس ہے۔‘
ایکس پر صارف ڈین قیوم نے لکھا: ’پاکستانی موسیقی کی برتری۔ میں یہ ویڈیو بار بار دیکھ رہا ہوں۔ پاکستان ٹیلنٹ سے بھرا ہوا ہے، کاش اس ٹیلنٹ کی پرورش کے لیے مزید مواقع بھی میسر ہوں۔‘
اس وائرل ویڈیو نے امریکی صحافی کیٹلین ڈورنبوس کی بھی توجہ حاصل کی۔
ڈورنبوس خارجہ پالیسی، دفاع اور جنگی امور پر رپورٹنگ کرتی ہیں اور روئٹرز، وال سٹریٹ جرنل، دی اکانومسٹ، ٹائم اور پولیٹیکو جیسے اداروں کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ وہ نیویارک پوسٹ اور سٹارز اینڈ سٹرائپس سے بھی وابستہ رہی ہیں۔
رواں سال امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوریج کے لیے اسلام آباد آنے والی ڈورنبوس اُس وقت بھی خبروں میں رہی تھیں جب انھوں نے بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں فون کر کے مشورہ دیا تھا کہ وہ متوقع پیش رفت کے پیش نظر اسلام آباد میں ہی قیام کریں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تبصرے میں کیٹلین نے لکھا: ’اس ویڈیو نے مجھے بہت سکون دیا ہے۔ جب میں دوبارہ پاکستان آؤں تو کیا ہم ایسا ہی ایک سیشن دوبارہ کر سکتے ہیں؟‘
اسی طرح ایک صارف عبداللہ نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’پاکستانی بچوں کا اپنا ڈائٹ کوک سٹوڈیو ہے۔‘
روہان بھٹاچارجی، انڈیا سے تعلق رکھنے والے اداکار ہیں اور بنگالی فلموں اور ٹیلی وژن کے لیے کام کرتے ہیں۔ انسٹاگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے دل والا ایموجی بنایا اور لکھا: ’اسے اپ لوڈ کرنے کا شکریہ۔‘
نیہا ویوک نے اس ویڈیو کو ’موسیقی سے مالا مال‘ قرار دیا۔
میگھا واٹس نے لکھا کہ انھوں نے یہ ویڈیو چار بار دیکھی اور اس نے ’میرا دن بنا دیا۔‘
Source: BBC Urdu · BBC News اردو
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira