وقار یونس کا انڈین پوڈ کاسٹر کو انٹرویو: بابر کا دفاع اور کرکٹرز کا موازنہ انڈیا اور پاکستان میں زیرِ بحث کیوں ہے؟
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وقت اشاعت 3 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انڈین پوڈ کاسٹر کا سوال تھا کہ ’پاکستان کا آخری سپر سٹار کون ہے؟‘
پاکستانی سابق ہیڈ کوچ نے جواب دیا ’محمد عامر سپر سٹار رہے، بابر اعظم اور شاہین سپر سٹار ہیں۔‘
پوڈ کاسٹر نے شاہد آفریدی، وسیم اکرم، سعید انور، انضمام الحق، محمد یوسف سمیت متعدد کھلاڑیوں کے نام لے کر کہا کہ ’میں انڈین ہوں مگر مجھے ان کھلاڑیوں کے انڈیا کے خلاف کارنامے یاد ہیں، لیکن بابر اعظم انڈیا کے سامنے مجھے یاد نہیں۔‘
جس پر وقار یونس نے جواب دیا کہ ’بابر کے لیے مشکل یہ ہے کہ بابر اکیلا ہے، بابر کے پاس اگر آپ چار نام جوڑتے تو کہیں نہ کہیں اس پر دباؤ کم ہوتا۔ 90 کی دہائی میں اگر پاکستان کے ٹاپ 6 کے نام دیکھیں تو آپ کو چھ کے چھ یاد ہوں گے لیکن اج آپ مجھے بتا دیں کہ آپ کو بابر کے علاوہ اور کون یاد ہے؟
شارجہ میں ریکارڈ کی جانے والی ڈیڑھ گھنٹے کی اس پوڈ کاسٹ میں میزبان تھے شبھنکر مشرا اور ان کے مہمان تھے پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وقار یونس جنھوں نے بابر اعظم کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ اس کے لیے دلائل کا سہارا بھی لیا۔
اس پوڈ کاسٹ میں ہونے والے جو سوالات اور اس پر وقار یونس کے جوابات سوشل میڈیا پر بحث کا باعث بنے وہ بابر اعظم کے دفاع سے متعلق تو ہیں ہی لیکن ساتھ ہی ریپڈ فائر کے سوال و جواب میں وقار یونس کا انڈین کھلاڑیوں کا چناؤ بھی تنقید کی زد میں رہا جس میں انھوں نے سچن یا انضمام الحق میں سے سچن کو جبکہ شاہین آفریدی کے مقابلے میں بمراہ کو ترجیح دی۔
،تصویر کا ذریعہShubhankar Mishra
وقار یونس کے مطابق ’90ء کی دہائی میں پاکستان کے پاس ایک ساتھ کئی میچ ونرز ہوا کرتے تھے، مگر آج پوری بیٹنگ لائن کا بوجھ اکیلے بابر اعظم کے کندھوں پر ہے، جس کی وجہ سے وہ ضرورت سے زیادہ دباؤ لے لیتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے سابق کپتان بابر اعظم کی فارم پر حالیہ دو، تین برسوں کے دوران سوالات اُٹھتے رہے ہیں۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف جاری سہ فریقی سیریز میں بھی بابر اعظم خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔
سہ فریقی سیریز میں بابر اعظم آؤٹ ہونے کے انداز پر بھی کرکٹ ماہرین تنقید کر رہے ہیں۔
بابر اعظم نے گذشتہ برس نومبر میں سری لنکا کے خلاف راولپنڈی میں کھیلے جانے والے ون ڈے میچ میں سینچری سکور کی تھی، یہ بابر اعظم کی دو سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں سینچری تھی۔
لیکن اس کے بعد وہ ٹیسٹ اور محدود اوورز کی کرکٹ میں خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بدھ کو نشر کی جانے والی اس پوڈ کاسٹ کو اگر مکمل سیاق و سباق کے ساتھ سنا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وقار یونس نے بابر کا دفاع دلیل کے ساتھ کرتے ہوئے 90 کی ٹیم میں موجود بڑے ناموں کا حوالہ دیا تھا۔
تاہم مختصر کلپ کی صورت میں پیش کیے گئے ان کے یہی بیان کرکٹ فینز کے لیے موضوع بحث بن گئے۔
اظہر خان نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’وقار یونس کے مطابق بابر گذشتہ 10 برسوں میں اکیلے میچ نہیں جتوا سکے کیونکہ اُن کے اردگرد بڑے نام نہیں تھے، برخلاف وراٹ کے، جو یہ کام کئی بار کر چکے ہیں۔‘
انھوں نے طنزاً لکھا کہ ’اس منطق کے مطابق پاکستان کو صرف ایک بلے باز کو اپنا کام کرنے میں مدد دینے کے لیے 10 سپر سٹارز کی ضرورت ہے۔‘
ان کے مطابق ’اگر سلمان علی آغا حسن نواز اور شاداب خان جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری بنا سکتے ہیں، تو پھر بابر اعظم سے بھی ایسی کارکردگی کی توقع کی جا سکتی ہے۔‘
’دھونی بمقابلہ میانداد اور بمراہ بمقابلہ عمران خان‘
،تصویر کا ذریعہReuters
اس پوڈ کاسٹ میں اینکر نے ٹیموں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے جن کے جواب میں وقار یونس نے جہاں ٹیموں کی کارکردگی پر بات کی وہیں انڈین پلیئرز کی پرفارمنس کو بھی سراہا اور چناؤ کے حوالے سے جواب میں انڈین کھلاڑیوں کو ترجیح دی۔
شبھنکر مشرا نے سوال کیا کہ ’اگر آپ ٹیم میں کسی کھلاڑی کی جگہ بنے تو سچن یا انضمام الحق جس پر وقار یونس نے سچن کا نام لیا۔ وراٹ کوہلی یا بابر اعظم اس پر انھوں نے وراٹ کا انتخاب کیا۔
شاہین آفریدی اور بمراہ کے نام پر بھی وقار نے بمراہ کا نام لیا تاہم کپل دیو بمقابلہ عمران خان میں وقار کی ترجیح عمران خان رہے۔
پوڈ کاسٹر کی جانب سے وقار یونس سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ سابق انڈین کپتان مہندر سنگھ دھونی یا جاوید میانداد میں سے کس کا انتخاب کریں گے تو وقار یونس کا جواب تھا کہ وہ دھونی کو ترجیح دیں گے۔
،تصویر کا ذریعہIqbal Munir
جاوید میانداد کے بھانجے فیصل اقبال نے کھلاڑیوں کے موازنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وقار یونس کے جواب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جاوید میانداد نے 21 سال تک پاکستان کی بیٹنگ لائن کو ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں سنبھالے رکھا۔
انھوں نے لکھا کہ ’دھونی کو جاوید میانداد پر ترجیح دینا؟ اپنے ہی کپتان کے بارے میں ایسا موقف افسوسناک ہے۔ صرف انڈین کمنٹری کے مواقع حاصل کرنے کے لیے ناکام بابر اعظم کی مسلسل حمایت کرنا، اور اب اُن باتوں کی بھی تائید کرنا جن کی ہم مدت سے نشاندہی کرتے آ رہے ہیں، مایوس کن ہے۔‘
’وقار یونس پاکستان کرکٹ کے ایک بہترین سفیر‘
جہاں ایک جانب وقار یونس کی رائے پر تنقید کی جا رہی ہے وہیں بعض صارفین ان کا پاکستانی کھلاڑیوں کے دفاع کو سراہتے بھی دکھائی دیے۔
کرکٹ تجزیہ کار عمر فاروق کالسن نے لکھا کہ ’وقار یونس پاکستان کرکٹ کے ایک بہترین سفیر رہے ہیں اور اپنے کھلاڑیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیشہ متوازن اور محتاط مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، ہم اکثر بعض سابق کھلاڑیوں کو بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنے ہی ساتھی کرکٹرز کے بارے میں سخت یا نامناسب تبصرے کرتے دیکھتے ہیں۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’یاد رکھیں، کرکٹ ایک ٹیم کھیل ہے۔ مثال کے طور پر ورلڈ کپ کے اُس میچ کو دیکھیں، جہاں انھوں نے اور جڈیجا نے مل کر ٹیم کو فتح دلائی تھی۔‘
اس پوڈ کاسٹ میں وقار یونس نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچز پر بھی زور دیا۔
شبھنکر شبھا نے سوال کیا کہ ’ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان کی موجودہ ٹیم میں جب وہ ہمارے(انڈیا) کے خلاف آتے ہیں تو اچھے کھلاڑی بھی کمزور پڑ جاتے ہیں جبکہ پچھلی ٹیموں میں ایسا نہیں تھا۔‘
پوڈ کاسٹر نے اپنی بات میں مثال دیتے ہوئے شاہد آفریدی، انضمام الحق، جاوید میانداد سمیت دیگر کھلاڑیوں کی مثال دی اور کہا کہ پرانی ٹیم ٹف ہوتی تھی آپ کو لگتا ہے کہ اب ایسا نہیں ہے؟
وقار یونس کا کہنا تھا کہ ’جب انڈیا پاکستان کے میچ ریگولر نہیں ہوتے اور آپ ایک دو سال بعد ایک میچ کھیلیں گے تو وہ کہیں نہ کہیں بیسٹ آف بیسٹ پلیئر آپ نہیں دیکھ سکتے۔ پاکستان اب ٹیسٹ کرکٹ بھی ریگولر نہیں کھیلتا تو یہ دو تین چھوٹے چھوٹے ایشوز ہیں جو حل ہو جائیں تو میرا خیال ہے کہ کرکٹ اچھی ہو گی۔‘
جاوید میاں داد کے چھکے کے اوپر وقار یونس نے کہا کہ ’اس چھکے نے پاکستان میں لہر دوڑا دی اس سے پہلے جو میچ ہوتے تھے وہ اتنا کلوز نہیں ہو پاتا تھا اس لیے اس کی ویلیو ہے اس کے بعد تو کافی بار ہوا لیکن اس وقت وہ بہت منفرد تھا۔‘
Source: BBC Urdu · BBC News اردو
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira