ناروے کے خلاف نازیبا الفاظ ادا کرنے پر ٹرمپ تنقید کی زد میں: ’وہ پورے ملک کی توہین کر رہے ہیں‘

کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

US President Donald Trump welcomes rapper Nicki Minaj on stage during a campaign rally at the McMorran Place Sports & Entertainment Center in Port Huron, Michigan, on October 25, 2026.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنٹرمپ کی مڈ ٹرم الیکشن کے دوران انتخابی مہم

وقت اشاعت ایک منٹ قبل

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبیل انعام نہ دیے جانے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ناروے کے لیے توہین آمیز الفاظ کا استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ چونکہ اوسلو میں قائم نوبیل کمیٹی نے انھیں نوبیل امن انعام نہیں دیا، اس لیے وہ ناروے سے آنے والے تارکینِ وطن کا خیرمقدم نہیں کرنا چاہتے۔

ٹرمپ نے یہ ریمارکس مشی گن کے شہر پورٹ ہیورون میں وسط مدتی انتخابات سے قبل منعقدہ ایک انتخابی جلسے میں کہے ہیں۔

اپنے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے فرانس میں حالیہ بدامنی کا ذمہ دار تارکینِ وطن کو ٹھہراتے ہوئے گفتگو کا رخ یک لخت نوبیل انعام کی جانب موڑتے ہوئے کہا کہ وہ بعض ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کا خیرمقدم کریں گے، لیکن ناروے سے آنے والوں کا نہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’نوبیل انعام ایک ایسی شخصیت کو ملا جسے کوئی نہیں جانتا تھا۔اوباما کو عہدہ سنبھالنے کے دو ہفتے بعد نوبیل انعام مل گیا تھا اور انھیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ انھیں کیوں دیا گیا اور آج بھی انھیں معلوم نہیں۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں آٹھ جنگیں ختم ہوئیں جبکہ دو مزید تنازعات اپنے اختتام کے قریب ہیں۔

’میں نے آٹھ جنگیں ختم کیں اور دو مزید ختم ہونے والی ہیں۔ میں نے ایران کے جوہری خطرے کو روکا۔ یہ ایک خوفناک صورتحال ہو سکتی تھی۔‘

ٹرمپ نے ناروے سے متعلق انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ناروے سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ کیونکہ مجھے نوبیل انعام نہیں ملا، اس لیے میں ناروے سے کسی کو (اپنے ملک میں) نہیں چاہتا۔‘

ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے سرکاری نشریاتی ادارے این آر کے سے گفتگو کے دوران ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’نوبیل کمیٹی کی آزادی سے وہ (ٹرمپ) بخوبی آگاہ ہیں۔ اگر کسی کو اس بارے میں کوئی شک ہو تو ہم انھیں یاد دلا چکے ہیں کہ نوبیل کمیٹی خودمختار ہے۔‘

Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

  • LIVE

  • Rescuee 1122

  • Pakistan Army

  • بھٹو

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھیں ’نوبیل امن انعام نہ دیا جانا ناروے پر ایک ایسا داغ ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔‘

دوسری جانب اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ ٹرمپ انتظامیہ ناروے سے آنے والے تارکینِ وطن کے حوالے سے کوئی نئی سرکاری پالیسی متعارف کروا رہی ہے۔

’ٹرمپ کے دل سے نوبیل انعام نہ ملنا نہیں نکل رہا‘

اپنے خطاب میں انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے تو یہ انعام گذشتہ سال مل جانا چاہیے تھا، لیکن شاید اس وقت یہ کچھ جلدی ہوتا کیونکہ میں نے ابھی عہدہ سنبھالا تھا۔ جس خاتون کو یہ انعام ملا، ماریہ، وہ بہت اچھی تھیں۔‘

Donald Trump

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صدر ٹرمپ نے ماریا کورینا ماچاڈو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے کہا ’مجھے یقین نہیں آ رہا کہ یہ انعام مجھے ملا ہے۔ یہ صدر ٹرمپ کو ملنا چاہیے تھا، یہ بہت اچھا اقدام تھا۔‘

’میں اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ یہ واقعی بہت اچھا تھا اور دیکھیے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ درست تھیں، لیکن میں یہ ضرور کہہ رہا ہوں کہ میں نے آٹھ جنگیں ختم کیں۔ کسی اور صدر نے جنگیں ختم نہیں کیں۔ آپ جانتے ہیں۔‘

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’انڈیا اور پاکستان کو میں نے لڑنے سے روکا۔ وہ دونوں جوہری ممالک ہیں پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کم از کم 30 ملین زندگیاں بچائی ہیں۔‘

ایسا پہلی بار نہیں جب صدر ٹرمپ نے نوبیل انعام کی خواہش اور پھر نہ ملنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہو۔

ٹرمپ کے لیے نوبیل انعام کی سفارشات کرنے والوں میں خود پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شامل رہے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ سال 2026 کے لیے نوبیل انعام کا اعلان پر 85 سالہ ناوی پلے کے لیے دنیا بھر سے خوشی اور عقیدت کے پیغامات ملے، وہیں اس اعلان پر اگر کوئی سب سے زیادہ ناراض ہوا تو وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔

ٹرمپ خود بھی خاصے ناراض دکھائی دیے اور نہ صرف ناوی پلے کو ایسی شخصیت قرار دیا جنھیں ’کوئی جانتا تک نہیں‘ بلکہ ناروے کے ساتھ بھی اپنی ناراضی کا واضح اظہار کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

ٹرمپ کے ناروے کے لیے ہتک آمیز جملوں کے سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر انھیں سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

کئی صارفین نے امریکہ کے مقابلے میں ناروے کو ترقی اور وسائل کے اعتبار سے بہتر قرار دیا اور کئی صارفین نے اس کی مثالیں بھی دیں کہ کس طرح بین الاقوامی درجہ بندیوں کے مطابق ناروے دنیا کے تین خوش اور مطمئن ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

میگنے بے جیلا نامی صارف نے ناروے کی حمایت میں لکھا کہ ’محترم صدر ٹرمپ، چند وجوہات کی بنا پر یہ نارویجین شہری اپنے ہی گھررہنا ہی پسند کرتے ہیں۔ صحت کی سہولیات، بچوں کی نگہداشت، تعلیم، تعطیلات اور بیماری کی صورت میں ملنے والے فوائد ۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’معیارِ زندگی کا تعلق صرف ان چیزوں سے نہیں، بلکہ ان حقوق سے بھی ہے جن سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں، ان جگہوں سے ہے جو ہم سب کے لیے کھلی ہیں اور اس انداز سے بھی ہے جس کے تحت ہم اپنے کمانے کا انتظام کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمشی گن میں ریلی کے دوران گلوکارہ نکی مناج اور صدر ٹرمپ کی ایک تصویر

سبیع کاظمی نامی صارف نے لکھا کہ ’ٹرمپ کے دل سے نوبیل انعام نہ ملنے کا دکھ نہیں نکل رہا اور اب وہ وہ ناروے کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔‘

ایکس پر فرخ نامی صارف نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے ناروے سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تاہم صدر اس بات پر برہم ہیں کہ ناروے نے انھیں نوبیل امن انعام نہیں دیا۔‘

’نوبیل امن انعام ایک آزاد کمیٹی کی جانب سے دیا جاتا ہے، لیکن ٹرمپ کا ردِعمل یہ ہے کہ وہ پورے ایک ملک کی توہین کر رہے ہیں، گویا اس ملک پر ذاتی طور پر ان کا کوئی تمغہ واجب الادا ہو۔ یہ رویہ تحقیر آمیز، غیر معقول اور حسدسے بھرپور دکھائی دے رہا ہے۔‘

Source: BBC Urdu · BBC News اردو

At a glance

Topic
World
Country
🇵🇰 PK
Publisher language
UR
Added to Allnira