کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعلامتی تصویر
    • مصنف, احتشام احمد شامی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت 4 منٹ قبل

  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

نوٹ: اس تحریر میں موجود چند تفصیلات کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

یہ 28 اکتوبر کی شام سات بجے کا وقت ہو گا جب جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کے علاقے لطف آباد میں ایک مکان کی بالائی منزل پر آگ لگنے کا شور مچا۔

مکان کے نیچے والے حصے میں مالک مکان اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے۔ اوپر والی منزل پر دو ماہ پہلے ہی ضلع جھنگ سے کرایہ دار رہائش پذیر ہوئے تھے۔ 45 سالہ خاتون پروین سرور، 22 سالہ بیٹے اور دو بیٹیوں کے ساتھ منتقل ہوئی تھیں جن کی عمریں 17 اور 14 سال تھیں۔

محلہ داروں نے آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے تو شور مچ گیا۔ مالک مکان بھی دوڑتا ہوا اوپر والی منزل پر گیا لیکن منزل کے مرکزی داخلی دروازے پر تالہ لگا ہوا تھا۔ لوگوں نے تالہ توڑا تو اس دوران ریسکیو 1122 کی ٹیم بھی وہاں پہنچ گئی اور آگ بجھانے کا عمل شروع ہوا۔

لیکن آگ بجھنے پر اندر کا منظر ہولناک تھا۔ ایک کمرے میں خاتون اور دونوں بیٹیوں کی جلی ہوئی لاشیں دیکھنے پر پر پورے محلے میں سراسیمگی پھیل گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر مقامی تھانہ ڈی ایچ اے کی پولیس بھی پہنچ گئی اور کرائم سین انویسٹی گیشن کے اہلکاران نے موقع کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔

پولیس کی تحقیقات جاری تھیں کہ پروین سرور کا بیٹا بھی وہاں پہنچ گیا۔ اپنی والدہ اور بہنوں کی جلی ہوئی لاشیں دیکھ کر وہ دیوانہ وار چلا رہا تھا۔

پولیس کی ٹیم نے جب سوال کیا کہ وہ کہاں تھا اور گھر کا مرکزی دروازہ باہر سے کیوں لاک تھا تو 22 سالہ لڑکے نے کہا وہ سامان لینے مارکیٹ گیا تھا اور والدہ نے ہی اسے کہہ رکھا تھا کہ وہ جب بھی گھر سے باہر جائے، تو تالہ لگا کر جائے کیونکہ گھر میں کوئی اور مرد موجود نہیں۔

اس نے روتے ہوئے پولیس والوں کو اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا شاپر بھی دکھایا جس میں روزمرہ کی کچھ اشیا موجود تھیں۔

Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

  • LIVE

  • Ruchira Ranasingha

  • LIVE

  • امریکہ کا نقشہ

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعلامتی تصویر

پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملزم کی شناخت

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پولیس نے اس کیس کی تفتیش کا آغاز کرائم سین سے کیا اور لاشوں کا معائنہ کیا جہاں پولیس کے تفتیشی افسران کے بقول حالات مشکوک پائے گئے۔

ملتان کے سٹی پولیس آفیسر اختر فاروق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جہاں ایک گھر میں آگ لگے اور تین افراد گھر کے اندر موجود ہوں تو آگ سے بچنے کے لیے بھاگنے کی کوشش کے آثار ہونے چاہییں۔

’لاشوں کی پوزیشن سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جب آگ لگی یا آگ سے جھلسنے والے نے مزاحمت یا بچاؤ کی کوشش کی، لیکن یہاں لاشیں سیدھی پڑی ہوئی تھیں جس سے اس بات کا شک ہوا کہ کہیں انھیں پہلے سے نہ مار دیا گیا ہو یا بےہوش کر دیا گیا ہو جس کے بعد آگ لگائی گئی۔‘

سی پی او اختر فاروق کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد یہ افواہ پھیلی کہ شاید سلینڈر پھٹنے سے گھر کو آگ لگی ہو گی، تاہم یہ بات بھی جلد واضح ہو گئی کہ جس کمرے میں آگ لگی تھی اس کمرے کے باہر کچن کے قریب سلینڈر درست حالت میں موجود تھا جوکہ پھٹا ہوا نہیں تھا اور نہ ہی اس سے گیس لیکج ہوئی تھی۔

’تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کمرے میں آگ کیسے لگی جس میں خاتون اور اس کی دو بیٹیاں موجود تھیں، اور وہ کمرے سے باہر کیوں نہیں نکل سکیں، اور سب سے اہم بات یہ کہ جب مرکزی دروازے کو اندر سے کنڈی لگانے کی آپشن موجود تھی تو باہر تالہ کیوں لگایا گیا۔‘

جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے والی تحقیقاتی ٹیم نے ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس افسران کو بتایا کہ ممکنہ طور پر یہ آگ پٹرول کے باعث لگی تھی، جس پر پولیس نے علاقے کے پٹرول پمپ کا اس روز کا سی سی ٹی وی ریکارڈ نکلوا لیا جس روز یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

تھانہ ڈی ایچ اے کے ایس ایچ او ابراہیم سیف کا کہنا ہے کہ ’اسی روز دن گیارہ بج کر 54 منٹ پر بیٹا پٹرول خریدنے کے لیے اس پٹرول پمپ پر آتا ہے اور ایک بوتل میں پٹرول خریدتا ہے۔‘

’پولیس نے اسی ایک ثبوت پر اکتفا نہ کیا بلکہ فیملی کے کچھ اور لوگوں کو بھی باری باری تھانے بلایا اور ان سے پوچھ گچھ کی تاکہ اصل بات کھل کر سامنے آسکے۔ خاندان کے کچھ لوگوں نے بھی مبینہ طور پر لڑکے پر شک کا اظہار کیا اور پولیس کو بتایا کہ اس کی والدہ ایک شخص سے دوسری شادی کرنا چاہتی تھی لیکن یہ لڑکا اپنی والدہ کی شادی کی راہ میں رکاوٹ تھا۔‘

ایس ایچ او ابراہیم سیف بتاتے ہیں کہ ’جب امان عباس کو تھانے بلا کر اس سے تفتیش کی گئی تو پہلے وہ پولیس کے ہر سوال کا جواب فورا دیتا گیا جیسے وہ ذہنی طور پر ان سوالات کے لیے تیار ہو، لیکن جب تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے اس کے سامنے پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج رکھی گئی اور پوچھا گیا کہ اس نے اسی روز یہ یہ پٹرول کیوں لیا تھا جس روز آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا اور اس کو کہاں استعمال کیا تھا، تو اس سوال پر وہ گھبرا گیا۔‘

ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟

ملتان کے تھانہ ڈی ایچ اے میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مدعی پولیس آفیسر محمد اظہر ہیں، جن کے مطابق یہ وقوعہ 28 اکتوبر کو پیش آیا اور آگ لگنے کے واقعہ کی رپورٹ تھانے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت درج کی گئی تاہم ایف آئی آر کا اندراج 3 نومبر کو کیا گیا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’ایک شہری اعجاز حسین نے اپنے ساتھیوں محمد علی اور منیر عباس کے ہمراہ حاضر ہوکر بیان دیا کہ میرے حقیقی بھانجے نے مجھے گواہان کے روبرو بتایا کہ 28 اکتوبر کو میں نے اپنی والدہ پروین سرور اور دو بہنوں کو ان کے سروں پر ڈنڈے کے وار کرکے شدید مضروب کر کے قتل کیا اور بعد ازاں تینوں کو کمرے میں بند کرکے ان پر پٹرول چھڑکا اور آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں تینوں خواتین جل کر ہلاک ہو گئیں۔‘

’ملزم نے گواہان کے روبرو اپنی والدہ اور دونوں بہنوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی والدہ ایک شخص سے شادی کرنا چاہتی تھیں، جسے وہ ناپسند کرتا تھا، اس نے متعدد مرتبہ اپنی والدہ کو مذکورہ شادی سے منع کیا ، لیکن اس کی والدہ اپنے فیصلے سے باز نہ آئی۔‘

ایف آئی آر کے مطابق اسی رنجش پر اس نے ’اپنی والدہ اور بہنوں کو قتل کر دیا، اور بعد ازاں اپنے سنگین جرم کو چھپانے اور اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کی غرض سے تینوں خواتین کو قتل کرنے کے بعد ان پر پٹرول چھڑک کر کمرے میں آگ لگا دی تاکہ وقوعہ کو بظاہر حادثاتی آتشزدگی کا رنگ دے کر اپنے جرم سے بچا جا سکے۔‘

’مدعی مقدمہ نے ایف آئی آر میں بتایا کہ ان کے بھانجے نے انھیں مزید بتایا کہ جب سے اس نے یہ وقوعہ کیا ہے اسے رات کو نیند نہیں آتی، اور بہت زیادہ احساس ندامت ہے، اس لیے اس نے اپنے ماموں (مدعی مقدمہ کو) یہ سارا وقوعہ بتایا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ملزم سی سی ڈی کے حوالے

ملتان پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا پر ملزم امن عباس کی تصویر شئیر کی گئی اور بتایا گیا کہ تھانہ ڈی ایچ اے کی حدود میں آتشزدگی کے واقعے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

تھانہ ڈی ایچ اے کے ایس ایچ او ابراہیم سیف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ منگل کے روز ملزم کی گرفتاری کا تھانے میں اندراج کرلیا گیا تھا، تاہم اعلی حکام کی طرف سے زیرحراست ملزم کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کرنے کے احکامات ملنے پر ملزم کو سی سی ڈی کی تحویل میں دے دیا گیا، کیونکہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے۔

ایس ایچ او کے مطابق سی سی ڈی کی ٹیم نے ملزم کو بدھ کے روز عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جس پٹرول پمپ کے اہلکار نے ملزم کو بوتل میں پٹرول دیا تھا اس پٹرول پمپ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور اسے سیل کرنے کے لیے پولیس کی طرف سے ڈپٹی کمشنر ملتان کو مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے کیونکہ قانونا بوتل یا کسی کھلے ڈبے میں پٹرول دینا جرم ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ’مقتولہ کو گیارہ سال پہلے طلاق ہوئی تھی، لیکن وہ محنت مزدوری کرکے اپنے بچے پالتی رہی، اور دو ماہ پہلے ہی ضلع جھنگ سے یہاں ملتان شفٹ ہوئی تھی کیونکہ ملتان میں اس کا بھائی اور کچھ قریبی رشتے دار رہتے ہیں، ملزم نے ایک ماہ پہلے ہی کسی دکان پر ملازمت شروع کی تھی۔‘

Source: BBC Urdu · احتشام احمد شامی

At a glance

Topic
World
Country
🇵🇰 PK
Publisher language
UR
Added to Allnira