لازمی فوجی خدمت سے انکاری مشتعل قدامت پسند یہودیوں کا اسرائیلی فورسز کو نازی ہونے کا طعنہ: کیا یہ نیتن یاہو کے اقتدار کے ممکنہ خاتمے کا سگنل ہے؟
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
- مصنف, سیبسٹین اشر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
وقت اشاعت 2 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 14 منٹ
اسرائیل میں سینکڑوں مشتعل افراد سکیورٹی اہلکاروں کو ’نازی‘ قرار دے رہے ہیں۔ لیکن یہ لندن یا پیرس کی سڑکوں پر فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے کسی مظاہرے کا منظر نہیں، بلکہ اسرائیل کے وسط میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ سفید قمیضوں، سیاہ ہیٹوں اور لمبے سیاہ کوٹوں میں ملبوس انتہائی قدامت پسند یہودی یا حریدی مردوں کا سامنا فوجی پولیس سے ہے۔
یہ کشیدگی یروشلم اور تل ابیب کے درمیان واقع شہر مودعین کی ایک عمارت کے باہر شروع ہوئی، جہاں ایک الٹرا آرتھو ڈاکس‘ یعنی انتہائی قدامت پسند یہودی نوجوان رہتا ہے۔ پولیس اسے گرفتار کرنے پہنچی تھی کیونکہ اس نے لازمی فوجی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنے سے انکار کیا تھا۔
اکتوبر کے اوائل میں پیش آنے والے اس واقعے کی ویڈیو بی بی سی نے دیکھی ہے۔ یہ حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے ایسے متعدد واقعات میں سے ایک ہے جنھوں نے اسرائیلی معاشرے کی گہری تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
اسرائیل میں یہ اختلاف ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب ملک کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے۔ ان میں غزہ میں حماس کے خلاف جاری تنازع بھی شامل ہے، جو اب تک حل نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے تشدد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
کبھی اسرائیلی معاشرے کی ایک چھوٹی سی اقلیت سمجھے جانے والے انتہائی قدامت پسند یہودیوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم، ان کا طرزِ زندگی اب بھی اسرائیلی معاشرے کے دوسرے طبقات سے مختلف ہے۔
اندازوں کے مطابق یہ برادری اسرائیل کی مجموعی آبادی کا تقریباً 14 فیصد ہے۔ اس برادری میں بچوں کی پیدائش کی شرح بھی دوسرے اسرائیلیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اگر آبادی میں اضافے کی یہی رفتار برقرار رہی تو 2050 تک انتہائی مذہبی یہودی یا حریدی اسرائیل کی یہودی آبادی کا ایک تہائی حصہ بن سکتے ہیں۔
اس برادری کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ اسے فراہم کی جانے والی سرکاری مالی معاونت پر بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ رقوم اس لیے دی جاتی ہیں تاکہ اس برادری کے افراد اپنی پوری توجہ مذہبی تعلیم پر مرکوز رکھ سکیں۔
اندازوں کے مطابق انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو دی جانے والی مالی معاونت پر اسرائیلی حکومت سالانہ 35 ارب شیکل، یعنی تقریباً 8.4 ارب پاؤنڈ خرچ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، حالیہ عرصے تک اس برادری کے افراد کو لازمی فوجی خدمت سے استثنیٰ حاصل تھا۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم، اب جبکہ اس برادری کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اسرائیلی معاشرے میں ایک بڑا حصہ بنتی جا رہی ہے، اس پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے کہ وہ باقی معاشرے کے ساتھ زیادہ گھلیں ملیں اور اس کے معاملات میں زیادہ حصہ لے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
قومی سلامتی اور معیشت اس انتخاب کے دو اہم ترین مسائل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انتہائی قدمات پسند یہودیوں اور اسرائیلیوں کی اکثریت کے درمیان اختلاف پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔ اکثریت کا خیال ہے کہ انتہائی قدامت پسند یہودی قومی سلامتی اور معیشت، دونوں شعبوں میں اپنا منصفانہ حصہ نہیں ڈال رہے۔
موجودہ سیاسی اتحادوں میں سے کسی کو بھی واضح اکثریت ملنے کا امکان نہیں، جبکہ وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل بھی غیر یقینی ہے۔ ایسے میں چھوٹی جماعتوں، جن میں انتہائی مذہبی یہودیوں کی جماعتیں بھی شامل ہیں، کا کردار ایک بار پھر فیصلہ کن ہو سکتا ہے کہ اسرائیل میں حکومت کون بنائے گا۔
اقتدار میں رہنے کے لیے نیتن یاہو کو انتہائی قدامت پسند یہودی یا حریدی جماعتوں کی حمایت برقرار رکھنا ضروری ہے، خواہ اسرائیل کے اندر ان کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا مطالبہ کتنا ہی زور کیوں نہ پکڑ رہا ہو۔
ایک الگ تھلگ برادری
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انتہائی قدامت پسند یہودیوں کے نقطۂ نظر سے اسرائیلی ریاست کے ساتھ ان کا سماجی معاہدہ مسلسل دباؤ کی زد میں ہے۔ ان کی توجہ تقریباً مکمل طور پر یہودیت کی مذہبی کتابوں، مثلاً تورات، کے مطالعے پر مرکوز رہتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کا تعلیمی نظام الگ ہے اور ان میں سے بہت سے افراد اسرائیل کی افرادی قوت کا حصہ نہیں ہیں۔
اس برادری کے لیے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ روایتی مذہبی اداروں، یعنی یشیوا، میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اسرائیلی فوج میں لازمی خدمت سے حاصل استثنیٰ برقرار رہے۔ یہ استثنیٰ اسرائیلی ریاست کے ابتدائی دنوں سے چلا آ رہا ہے، جب ہولوکاسٹ میں تقریباً صفحۂ ہستی سے مٹ جانے کے بعد انتہائی قدامت پسند یہودیوں کی یہ برادری بہت چھوٹی تھی اور دوبارہ اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی تھی۔
لیکن سات اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیل کو درپیش مشکلات میں اضافے اور کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کے باعث ملک کی لازمی فوجی بھرتی سے اس برادری کی تقریباً مکمل غیر موجودگی پر تنازع زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
قدامت پسند طلبہ اور ان کے ربیوں، یعنی یہودی مذہبی پیشواؤں، کا خیال ہے کہ اگر نوجوان انتہائی قدامت پسند یہودی یا حریدی فوج میں شامل ہوئے تو انھیں ایسے اثرات اور رویوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو انھیں اپنی برادری سے ہمیشہ کے لیے دور کر دیں۔ ان کے نزدیک اپنی برادری کی روایات پر قائم رہنا نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری یہودی قوم کی بقا کے لیے بھی ضروری ہے۔
سات اکتوبر کے حملوں کے کچھ ہی عرصے بعد جب برادری کے ایک سینئر رہنما، ربی ڈوو لانڈاؤ، سے پوچھا گیا کہ ایسی ہنگامی صورتحال میں انتہائی قدامت پسند یہودی فوج میں زیادہ حصہ کیوں نہیں ڈالتے تو انھوں نے کہا کہ ’مذہبی طلبہ کو نہ صرف فوج میں خدمات انجام نہیں دینی چاہییں بلکہ انھیں زخمی فوجیوں کی عیادت کے لیے بھی نہیں جانا چاہیے اور نہ ہی فوجیوں کی آخری رسومات میں شرکت کرنی چاہیے۔‘
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ربی نے کہا کہ خطرے کی ایسی صورتحال میں صرف تورات کے طلبہ ہی روحانی طور پر اسرائیل کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ان ککا مئد کہنا ہے کہ ’نجات صرف تورات کے مطالعے سے ملتی ہے، باقاعدگی سے تورات پڑھنے سے۔ اگر اس مطالعے میں کوتاہی کی گئی یا اس میں خلل ڈالا گیا تو پھر جو کچھ ہو گا، اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔۔۔ تورات پڑھنے والوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو گی اور وہ جتنا زیادہ مطالعہ کریں گے، اتنا ہی بہتر ہے۔ وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں۔‘
یہ کہنا بھی کم ہو گا کہ اسرائیلی معاشرے کی وسیع تر آبادی اس نقطۂ نظر سے اتفاق نہیں کرتی۔ غزہ میں جنگ کے دوران ہونے والے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ انتہائی مذہبی یہودیوں کو فوج میں بھرتی کرنے کی حمایت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
بہت سے اسرائیلیوں کے نزدیک یہ برادری اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کر رہی ہے اور اس پر غصے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کا بوجھ ٹیکس دہندگان کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) افرادی قوت کی کمی کی شکایت کرتی رہی ہے، جبکہ گذشتہ تین برس میں بہت سے اسرائیلیوں کو سینکڑوں دن فوجی خدمت انجام دینا پڑی ہے۔
اسرائیل کی معروف سیاسی مشیر اور رائے عامہ کے جائزے کرنے والی ماہر ڈاہلیا شائنڈلن کہتی ہیں کہ ’یہ مسئلہ نیتن یاہو کے لیے انتہائی اہم ہے اور غزہ کی جنگ کے پس منظر میں اسرائیلی معاشرے کی موجودہ صورتحال، خصوصاً دائیں بازو کی سیاست، کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔‘
ان کے بقول ’اس وقت سب سے سنگین اور فوری مسئلہ دائیں بازو کے حلقوں کا غصہ ہے۔ وہ حکومت سے اس لیے ناراض ہیں کہ اس نے انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو فوج میں بھرتی سے مکمل استثنیٰ دینے کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے، جبکہ اس وقت، خصوصاً دائیں بازو کے لوگ، بلکہ اسرائیل کی یہودی برادری کے تقریباً سبھی افراد، ان جنگوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور بہت سے اپنی جانیں بھی گنوا رہے ہیں۔‘
دو سال قبل اسرائیل کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ انتہائی قدامت پسند یہودی یا حریدی مردوں کو فوجی خدمت سے حاصل استثنیٰ مؤثر طور پر ختم ہو چکا ہے۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہو سکتا تھا کہ اب مکمل وقت مذہبی تعلیم کے لیے وقف کرنے والے افراد کو بھی فوج میں بھرتی کیا جائے۔
اس فیصلے پر انتہائی مذہبی یہودی برادری کا ردعمل شدید غصے کی صورت میں سامنے آیا۔ لاکھوں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے اور اہم شاہراہیں بند کر دیں۔ مودعین میں پیش آنے والے واقعے کی طرح مظاہرین نے لازمی فوجی خدمت سے بچنے والے مذہبی طلبہ کی گرفتاری روکنے کی بھی کوشش کی۔
وقفے وقفے سے احتجاج جاری رہے ہیں اور گنجان آباد حریدی علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔
انتخابات پر اثرات
فوجی خدمت سے استثنیٰ کا یہ تنازع اب انتخابی مہم میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
روایتی طور پر دو سیاسی جماعتیں انتہائی قدامت پسند یہودی برادری کی نمائندگی کرتی آئی ہیں۔ ان میں سے ایک ’یونائیٹڈ تورات یہودیت‘ (یو ٹی جے) ہے، جو اشکنازی یہودیوں، یعنی یورپی نسل سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ دوسری جماعت ’شاس‘ ہے، جو بعد میں قائم ہوئی اور سفاردی و مزراحی یہودیوں کی نمائندہ ہے۔ ان میں شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے یہودی شامل ہیں۔
دونوں جماعتوں کا بنیادی ایجنڈا ایک جیسا ہے، مذہبی تعلیم کو ہر چیز پر ترجیح دینا، حتیٰ کہ فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات جیسے معاملات پر بھی۔
یو ٹی جے اور شاس دونوں نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کا حصہ رہی ہیں اور انھوں نے اپنے سیاسی اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد روکنے کے طریقے تلاش کیے۔ متعدد مواقع پر دونوں جماعتوں نے حکومتی اتحاد سے نکلنے اور حکومت گرانے کی دھمکی بھی دی۔
یو ٹی جے نے اتحاد سے علیحدگی اختیار کی، تاہم حکومت کی باہر سے حمایت جاری رکھی، جبکہ شاس حکومتی اتحاد میں برقرار رہی۔
مرکز سے دائیں بازو کی سیاست کرنے والے گادی آئزنکوٹ، جو اس ماہ ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کے اہم حریف کے طور پر سامنے آئے ہیں، انتہائی قدامت پسند یہودی یا حریدی جماعتوں کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے اندر اپنے قوانین کے ساتھ ایک الگ ریاست جیسی حیثیت رکھنے والی انتہائی قدامت پسند یہودی برادری کا تصور اب ناقابلِ قبول ہوتا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق ’جو ملک اپنے بہترین بیٹوں اور بیٹیوں کو لڑنے اور جانیں قربان کرنے کے لیے بھیجتا ہے، وہ ایسی صورتحال برداشت نہیں کر سکتا جس میں ایک ریاست کے اندر دوسری ریاست موجود ہو۔‘
اس تمام صورتحال کے باعث انتہائی قدامت پسند یہودی مردوں کو فوجی خدمت سے استثنیٰ دلوانا شاس اور یو ٹی جے، دونوں کی انتخابی ترجیحات میں سرفہرست آ گیا ہے۔
حال ہی میں یو ٹی جے کے پارلیمانی امیدوار ایلیاکیم سٹارک کے ایک بیان نے اس تنازع کو مزید بھڑکا دیا۔ انھوں نے فوج میں لازمی بھرتی سے بچنے والے انتہائی مذہبی یہودی مردوں کی صورتحال کا موازنہ ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں پر ہونے والے مظالم سے کیا۔ اس بیان پر مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن رہنماؤں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
انتہائی مذہبی یہودی برادری کے معاملات پر کام کرنے والے کارکن ڈینیئل گولڈمین کا کہنا ہے کہ اس برادری کی دو بڑی جماعتیں خود کو پہلے سے زیادہ دباؤ میں محسوس کر رہی ہیں اور سمجھوتے کے لیے ان کی آمادگی بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
ان کا کہنا ہے کہ ’انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو یقین نہیں کہ فوج میں اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کے لیے ریاست کو واقعی ان کے نوجوانوں کی ضرورت ہے۔‘
ڈینیئل گولڈمین کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ’حریدی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ ریاست ان کے نوجوانوں کو برادری سے الگ کرکے ان کی زندگی بدلنا چاہتی ہے، تاکہ وہ انتہائی قدامت پسند یہودی رہنے کے بجائے عام مذہبی یا، خدا نہ کرے، غیر مذہبی بن جائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ کشیدگی کے اس ماحول میں انھوں نے اپنے مؤقف مزید سخت کر لیے ہیں۔‘
یونائیٹڈ تورات یہودیت (یو ٹی جے) کے سابق وزیر یتزحاک گولڈکنوف نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ اپنی برادری کے لیے ایک واضح شرط رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق ’فوج اور جنگ کی وجہ سے انتہائی قدامت پسند یہودی اپنا طرزِ زندگی نہیں بدلیں گے۔۔۔ اگر کوئی راستہ نہ بچا اور انھیں ملک چھوڑنا پڑا تو وہ چلے جائیں گے۔‘
تاہم، اس تنازع کے اثرات نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کے انتخابی امکانات پر واضح طور پر پڑ رہے ہیں۔ اس اتحاد میں شاس طویل عرصے سے ایک اہم جماعت رہی ہے۔ ان جماعتوں کی حمایت کے بغیر نیتن یاہو کا اتحاد کنیسٹ میں اکثریت کے لیے درکار 60 سے زیادہ نشستیں حاصل نہیں کر سکے گا۔
اسرائیلی رائے عامہ کی ماہر ڈاہلیا شائنڈلن کہتی ہیں کہ ’شاس اور یو ٹی جے کی جانب سے انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو فوج میں بھرتی سے حاصل استثنیٰ ختم کرنے سے انکار نیتن یاہو کے اتحاد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ان اہم وجوہات میں سے ایک ہے جن کے باعث حکومتی اتحاد سنہ 2022 میں حاصل ہونے والی حمایت دوبارہ حاصل نہیں کر پا رہا، جب اس نے 64 نشستیں جیتی تھیں۔ اس وقت رائے عامہ کے جائزوں میں اسے تقریباً 50 سے 52 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔‘
نیتن یاہو کے تمام حریف انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو فوجی خدمت سے حاصل استثنیٰ ختم کرنے اور فوج میں بھرتی سے انکار کرنے والے اداروں یا افراد کی مالی معاونت روکنے کے حامی ہیں۔ بائیں بازو کے رہنما یائر گولان نے تو ایسے اہل افراد کو فوری طور پر فوج میں بھرتی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
شاس اور یونائیٹڈ تورات یہودیت (یو ٹی جے) کی جانب سے یہ دھمکیاں دیے جانے کے باوجود کہ اگر نیتن یاہو نے ان کی حمایت کم کی تو وہ اپنا سیاسی ساتھ بدل لیں گی، فی الحال ان جماعتوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
انشل فیفر کئی برس سے اسرائیلی سیاست پر اہم تبصرہ نگار رہے ہیں اور اب زیادہ تر برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کے لیے اسرائیل میں نامہ نگار کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’نیتن یاہو کی سیاسی پوزیشن کمزور دکھائی دے رہی ہے۔‘
انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’دو چیزیں موجودہ اپوزیشن اتحاد کو ایک ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں اور دوسری یہ کہ وہ آج کل انتہائی قدامت پسند یہودیوں کے خلاف پائے جانے والے شدید عوامی ردعمل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ فوج میں بھرتی کا معاملہ ہے۔‘
ان کے مطابق ’نیتن یاہو کئی برس سے انتہائی مذہبی یہودیوں کو ان کی تقریباً ہر خواہش پوری کرنے کے لیے تیار رہے ہیں، لیکن انھیں اپوزیشن سے ایسی حمایت نہیں ملے گی۔‘
کیا کوئی سمجھوتہ ممکن ہے؟
ناراضی اور اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہنے کے اس ماحول میں رواں سال ایک نئی انتہائی مذہبی یہودی جماعت سامنے آئی ہے، جو خود کو شاس اور یو ٹی جے کی روایتی سوچ سے مختلف قرار دیتی ہے۔
’ہریڈی پبلک پارٹی‘ دراصل ایک ایسے سمجھوتے کی پیشکش کر رہی ہے جس کے تحت انتہائی مذہبی یہودی اپنی شناخت کے بنیادی پہلو برقرار رکھتے ہوئے اسرائیلی معاشرے کے لیے زیادہ کردار ادا کر سکیں گے۔
انتہائی مذہبی یہودی برادری کی تاریخ میں پہلی بار اس جماعت نے دو خواتین امیدواروں کو بھی انتخابی میدان میں اتارا ہے۔
ان میں سے ایک امیدوار زیوا گنز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت فوج میں بھرتی کے معاملے پر کیا مؤقف رکھتی ہے۔ ان کے مطابق بنیادی شرط یہ ہے کہ فوج میں خدمات انجام دینے والے مردوں کو اپنی انتہائی قدامت پسند یہودی شناخت برقرار رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
انھوں نے کہا ’جن لوگوں کی زندگی واقعی مکمل وقت تورات کے مطالعے کے لیے وقف ہے، انھیں اپنا مطالعہ جاری رکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ لیکن جو لوگ پورا دن بیٹھ کر مذہبی تعلیم حاصل نہیں کرتے، انھیں اسرائیل کے دوسرے نوجوانوں کے ساتھ فوج میں خدمات انجام دینی چاہییں۔ ایسے انتظامات ہونے چاہییں کہ ایک نوجوان حریدی کی حیثیت سے فوج میں داخل ہو اور اپنی یہی شناخت برقرار رکھتے ہوئے واپس آئے۔‘
تاہم، ممکن ہے کہ سمجھوتے کی یہ کوششیں اس انتخاب میں کوئی خاص اثر نہ ڈال سکیں۔
انشل فیفر کا کہنا ہے کہ ’حریدی برادری کے بنیادی ووٹروں کا رجحان بدلنا مشکل ہے، کیونکہ ان میں سے زیادہ تر اب بھی اپنے ربی کی ہدایات کے مطابق ووٹ دیتے ہیں۔‘
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اور جب لوگ دوسری جماعتوں کو ووٹ دینے لگتے ہیں تو ضروری نہیں کہ وہ کسی دوسری انتہائی قدامت پسند یہودی جماعت کا انتخاب کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم انتہائی دائیں بازو کے رہنما اور وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر جیسے سیاست دانوں کو اس برادری میں جگہ بناتے دیکھ رہے ہیں۔ وہ واحد غیر حریدی جماعت کے رہنما ہیں جو نوجوان انتہائی مذہبی یہودیوں سے بات کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر اسرائیل کی باقی جماعتیں تو ایسا کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتیں۔‘
،تصویر کا ذریعہEPA
رائے عامہ کے جائزوں میں بھی اس رجحان کی عکاسی ہوتی ہے، جن کے مطابق بن گویر کی جماعت ’یہودی طاقت‘ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اگرچہ مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے جیسی پالیسیوں کی حمایت کے باعث بن گویر کے اقدامات کو اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے نقصان دہ سمجھا جا رہا ہے، لیکن ملک کے اندر ان کا سخت گیر مؤقف زیادہ لوگوں کی حمایت حاصل کر رہا ہے۔
ان کی انتہائی قوم پرستانہ سوچ روایتی طور پر انتہائی مذہبی یہودی جماعتوں کی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتی، تاہم اسرائیلی سیاست میں دونوں دائیں بازو کی جانب کھڑے ہیں۔
چنانچہ بعض ایسے حریدی ووٹرز کے لیے جو کسی نئی سیاسی جماعت سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں، بن گویر قریب ترین متبادل بن کر سامنے آئے ہیں۔
وہ خود کو ایک ایسے مضبوط رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں جو بین الاقوامی مذمت کی پروا کیے بغیر اسرائیل کے دشمن سمجھے جانے والوں کے خلاف سخت ترین مؤقف اختیار کرنے سے نہیں گھبراتا۔ یہ اندازِ سیاست انتہائی مذہبی یہودی برادری کے ان ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کر سکتا ہے جو پہلے ہی انتہائی دائیں بازو کی سوچ کی طرف مائل ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
تاہم، فی الحال کوئی بھی سیاسی اتحاد واضح اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس لیے انتخابات کے بعد قابلِ عمل حکومت بنانے کے لیے جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ اور سودے بازی کا امکان ہے۔
نیتن یاہو فطری طور پر اپنی غیر معمولی سیاسی مہارتیں استعمال کرتے ہوئے کسی نہ کسی طرح اقتدار میں رہنے کی کوشش کریں گے۔
ہمیشہ کی طرح، اس صورتحال میں چھوٹی جماعتوں کے پاس حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا موقع ہو گا۔ ماضی میں انتہائی مذہبی یہودی جماعتیں یہ کردار ادا کرتی رہی ہیں، لیکن اس بار ممکن ہے کہ فیصلہ کن حیثیت ان کے پاس نہ ہو۔
ڈاہلیا شائنڈلن کہتی ہیں کہ ’حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی چھوٹی جماعت حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ میرے خیال میں حریدی جماعتوں کو نیتن یاہو سے الگ کرنے کے لیے زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں انھیں اپنے ساتھ شامل کرنے میں اس وقت تک دلچسپی نہیں لیں گی جب تک انھیں یقین دہانی نہ مل جائے کہ وہ فوج میں بھرتی کے معاملے پر واقعی سنجیدہ رعایتیں دینے کے لیے تیار ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس مسئلے کو اپنے انتخابی منشور اور ووٹروں سے کیے گئے وعدوں کا بنیادی حصہ بنا رکھا ہے۔‘
اس بار ممکن ہے کہ حریدی جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے بجائے نیتن یاہو کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بن جائیں۔
Source: BBC Urdu · سیبسٹین اشر
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira