کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
،تصویر کا ذریعہKanganpur Police
- مصنف, احتشام شامی
- عہدہ, صحافی
وقت اشاعت 2 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 7 منٹ
یہ 22 اکتوبر کی بات ہے کہ جب صوبہ پنجاب میں ضلع قصور کے قصبہ کنگن پور کے قریب واقع گاؤں ’محمود خانیکے‘ میں قاسم علی کی اہلیہ نے ناشتے کے لیے کھیر بنائی۔
یہ خاندان پانچ افراد پر مشتمل تھا یعنی 55 سالہ قاسم علی، اُن کی 52 سالہ اہلیہ حسنہ بی بی اور تین جوان بیٹے، 28 سالہ آصف علی، 25 سالہ ناظم علی اور 15 سالہ امانت علی۔
قاسم علی پیشے کے لحاظ سے کاشتکار تھے اور اُن کے تینوں بیٹے بھی اُن کے ساتھ کھیتوں میں ہی کام کرتے تھے۔ چونکہ اِن دنوں مونجی (چاول) کی فصل تیاری کے مرحلے میں ہے، چنانچہ آج کل ان چاروں باپ بیٹوں کا معمول تھا کہ وہ علی الصبح اٹھ کر کھیتوں میں جاتے تھے۔
مقامی پولیس اور رشتہ داروں کے مطابق قاسم علی کی اہلیہ حسنہ بی بی نے 22 اکتوبر کو خود بھی کھیر کھائی اور اپنے شوہر اور تینوں بیٹوں کو بھی کھلائی، جس کے بعد مرد حضرات کھیتوں میں کام کے لیے روانہ ہو گئے۔
تاہم دوپہر 12 بجے تک خاندان کے ایک کے بعد ایک شخص کی طبیعت کچھ خراب ہونا شروع ہوئی۔
تاہم اس خاندان نے ہسپتال کا رُخ کرنے کے بجائے اپنے ہی گاؤں کے ایک 'روحانی معالج' (پیر صاحب) سے رابطہ کیا جنھوں نے بیمار افراد کو دم کیا۔
ہلاکت سے قبل ہسپتال میں موجود حسنہ بی بی اور اُن کے شوہر کی جانب سے پولیس کو دیے گئے بیانات میں بتایا گیا کہ اُن کے خاندان میں پہلے بھی جب کسی کو بخار، سردرد، پیٹ خرابی یا کوئی اور اس نوعیت کا مسئلہ ہوتا تھا تو 'پیر صاحب' کے دم کرنے سے ہی ٹھیک ہو جاتا تھا۔
لیکن اب کی بار ایسا نہ ہو سکا اور مسلسل تین روز تک دم کروانے کے باوجود ان پانچوں افراد کی حالت زیادہ سے زیادہ بگڑتی گئی۔ طبعیت زیادہ خراب ہونے والے رشتہ دار ان پانچوں افراد کو لیے 25 اکتوبر کو گاؤں سے 15 کلومیٹر دور واقع کنگن پور ہسپتال لے گئے۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ہسپتال میں موجود ڈاکٹرز نے مریضوں کی خراب حالت دیکھتے ہی انھیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (ڈی ایچ کیو) ہسپتال ریفر کیا اور پولیس اور رشتہ داروں کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بھی ڈاکٹروں نے جسم میں زہر پھیل جانے کی تشخیص کرتے ہوئے مریضوں کو جنرل ہسپتال لاہور منتقل کر دیا۔
25 اکتوبر کی شام جب اِن پانچوں افراد کو جنرل ہسپتال لاہور لایا گیا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ اُسی رات سب سے پہلے 25 سالہ بیٹا ناظم علی دم توڑ گیا جبکہ باقی افراد کو ہنگامی بنیادوں پر وینٹی لیٹرز پر منتقل کیا گیا اور علاج معالجہ شروع ہوا۔ مگر یہ اس خاندان میں ایک کے بعد ایک موت کا آغاز تھا۔
اگلے روز یعنی 26 اکتوبر کو باقی دو بیٹے 28 سالہ آصف علی اور 15 سالہ امانت علی بھی موت کے منہ میں چلے گئے۔
27 اکتوبر کو اس خاندان کے سربراہ قاسم علی بھی دوران علاج چل بسے اور جب اگلے روز یعنی 28 اکتوبر کو ان کی اور اُن کے دو بیٹوں کی اجتماعی نماز جنازہ گاؤں کے قبرستان میں ادا کی جا رہی تھی تو جنرل ہسپتال لاہور سے اطلاع آ گئی کہ اس خاندان میں واحد زندہ بچنے والی 52 سالہ حسنہ بی بی بھی وفات پا گئی ہیں۔
ایک ہی گھر کے پانچ افراد کی ہلاکت پر گاؤں میں سوگ کی فضا انتہائی سوگوار ہے۔
،تصویر کا ذریعہKanganpur Police
’چار لاشوں کا پوسٹمارٹم کروایا گیا ہے‘
قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر آفتاب احمد پھلروان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اب تک کی تفتیش میں یہی سامنے آیا ہے کہ بظاہر یہ واقعہ ایک حادثہ ہے۔
اُن کے مطابق پولیس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت قانونی کارروائی مکمل کی ہے اور تھانے میں باقاعدہ رپٹ کا اندراج کرنے کے بعد ہلاک ہونے والے پانچ میں سے چار افراد کا سول ہسپتال سے پوسٹمارٹم بھی کروا لیا گیا ہے۔
ڈی پی او قصور کے مطابق کھیر اور لاشوں کے اجزا سے نمونے پنجاب فرانزک لیب لاہور بھجوا دیے گئے ہیں، اور پوسٹمارٹم رپورٹ اور فرانزک لیب سے حتمی رپورٹ آنے کے بعد کسی قانونی کارروائی کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
مقامی پولیس کے مطابق 25 اکتوبر کو جب اس خاندان کے پہلے فرد 25 سالہ ناظم علی کی وفات ہوئی تو اُس وقت پولیس کو اس واقعہ بارے آگاہ نہ کیا تھا اور اُس کی میت کی تدفین کر دی تھی، جس وجہ سے اس کا پوسٹمارٹم نہیں کروایا جا سکا، تاہم اس کے بعد فوت ہونے والے چاروں افراد کی لاشوں کا پوسٹمارٹم کروایا گیا ہے۔
تھانہ کنگن پور کے ایس ایچ او وحید عارف نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ انھوں نے جنرل ہسپتال لاہور میں زیر علاج قاسم علی اور اُن کی اہلیہ حسنہ بی بی سے بات چیت کی تھی اور اُن کے ابتدائی بیانات قلمبند کیے تھے جنھوں نے پولیس کو یہی بتایا تھا کہ اُن کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں، اور یہ بھی کہ اس خاندان نے صبح ناشتے میں پیٹ بھر کر صرف کھیر ہی کھائی تھی۔
وحید عارف کے مطابق ’یہ سادہ لوح اور دیہاتی خاندان تھا اور زیادہ تعلیم نہ ہونے کے باعث عموماً چھوٹی موٹی بیماری میں مقامی طور پر ہی کسی پیر، فقیر سے دم کروا لیا جاتا تھا۔ اور سات روز قبل بھی جب زہریلی کھیر کھانے سے علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں تو انھوں نے اس کا ڈاکٹر سے علاج کروانے کی بجائے پیر صاحب سے علاج کروانا بہتر سمجھا۔‘
ایس ایچ او کے مطابق اُن کی اس کیس کو دیکھنے والے جن ڈاکٹرز سے بات ہوئی انھوں نے ان افراد کے جسموں میں زہر پھیلنے کا خدشہ ہی ظاہر کیا تھا، مگر پولیس لیب رپورٹس کے بعد ہی کوئی حتمی نتیجہ اخذ کر سکے گی۔
انھوں نے کہا کہ جب تین روز کے بعد ان افراد کی حالت زیادہ خراب ہوئی تو یہ ہسپتال بھاگے، لیکن اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔
پولیس آفیسر وحید عارف کہتے ہیں کہ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور وہ پوسٹمارٹم رپورٹ اور پنجاب فرانزک لیب کی رپورٹس کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد کوئی حتمی قانونی رائے حاصل کی جا سکے گی۔
پنجاب کے وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قصور سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔
،تصویر کا ذریعہKanganpur Police
’گاؤں میں لوگ کھیر میں چھپکلی گرنے کی بات کر رہے ہیں‘
رانا جہانگیر اسی گاؤں کے رہائشی ہیں جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔
رانا جہانگیر بتاتے ہیں کہ کھیر میں چھپکلی گرنے کے واقعے کا ابتدا میں کسی نے تذکرہ نہیں کیا مگر اس خاندان کے رشتہ داروں کے مطابق خاندان کے سربراہ قاسم علی نے ڈی ایچ کیو میں ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ کھیر میں چھپکلی گری تھی جسے ناصرف انھوں نے نکال کر پھینک دیا تھا بلکہ اس کے ارد گرد موجود کھیر کو بھی نکال کر ضائع کر دیا تھا جس کے بعد خاندان نے کھیر کھائی۔
انھوں نے بتایا کہ یہ گاؤں پاکستان اور انڈیا کی باؤنڈری لائن کے بالکل قریب واقع ہے، جہاں طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ 'یہاں نہ تو بڑا ہسپتال ہے اور نہ ہی کوئی تعلیمی ادارہ۔ ایسے میں ہم گاؤں والے کس حال میں جی رہے ہیں یہ بات کوئی نہیں جانتا۔'
اُن کے مطابق ’گاؤں محمود خانکے میں لوگوں کا ذریعہ معاش مویشی پالنا اور کھیتی باڑی ہے۔ متاثرہ خاندان ایک بیٹا اور ایک بیٹی زندہ بچ گئے ہیں کیونکہ وہ شادی شدہ تھے اور الگ گھروں میں رہے تھے۔۔۔ یہ لوگ امن پسند تھے اور اُن کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، ہم نہیں جانتے کہ ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے۔‘
قصور کے صحافی سلمان یوسف کہتے ہیں کہ محمود خانیکے نامی گاؤں کنگن پور کے نزدیک دریائے ستلج کے بالکل پار (دوسری طرف) واقع ہے اور یہ دریا کے انتہائی قریبی کچے کے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
’کنگن پور شہر سے دریائے ستلج کا فاصلہ تقریباً 15 کلومیٹر ہے، تاہم محمود خانیکے گاؤں دریا کے بالکل نزدیک یا اس کے دوسری طرف واقع ہونے کی وجہ سے ستلج کی گزرگاہ سے محض ایک سے ڈیڈھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، یہی وجہ ہے کہ سیلاب یا دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کی صورت میں یہ علاقہ سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے۔‘
سلمان یوسف نے بتایا کہ اس گاؤں کے لوگ دریا کی ریتلی زمین سے گزرنا دشوار سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ شہر کی طرف کم ہی آتے ہیں اور بظاہر اس واقعے کے بعد انھوں نے شہر آ کر اپنا علاج کروانے کی بجائے گاؤں میں ہی دم کروانے اور دیسی ٹوٹکے استعمال کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہے۔
اس خاندان کے سربراہ قاسم علی کے ایک رشتہ دارعبداللہ کھرل نے بتایا کہ قاسم علی سادہ لوح اور نڈر انسان تھے جو اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔
عبداللہ کھرل کہتے ہیں کہ کھیر میں چھپکلی تھی یا کچھ اور، نہیں معلوم۔ ’ہمارے لیے یہ بات باعث تشویش ہے کہ ایک چھپکلی میں آخر کتنا زہر ہو گا کہ اس نے پانچ لوگوں کی جان لے لی۔ پولیس کو چاہیے کہ وہ واقعہ کی مکمل چھان بین کرے۔‘
Source: BBC Urdu · احتشام شامی
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira