انڈیا اور چین کے تعلقات میں بہتری آ رہی تھی، پھر ایک سرحدی افسر کے بیان نے نیا تنازع چھیڑ دیا

کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

AFP via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    • مصنف, انباراسن ایتھیراجن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت 2 منٹ قبل

  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

انڈیا اور چین کے تعلقات گذشتہ ایک برس کے دوران محتاط انداز میں بہتری کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے تھے۔

ہمالیائی سرحد سے متعلق تنازع کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔

تاہم حالیہ چند دنوں کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2020 میں ہونے والی تازہ جھڑپوں کے بعد تعلقات میں آنے والی گرم جوشی شاید اتنی مضبوط نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے۔

تازہ تشویش اُس وقت پیدا ہوئی جب انڈیا کی سرحدی پولیس کے سربراہ نے کہا کہ رواں برس کے آغاز میں چینی فوجی بڑی تعداد میں ہمالیائی سرحد کے متنازع علاقوں میں واپس آئے اور انڈیا کے دعوے کے مطابق اپنی حدود سے کئی کلومیٹر اندر خیمے نصب کیے۔

ہند۔تبتی سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت سنگھ کپور کے ان ریمارکس نے دہلی میں سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

سب سے پہلے تو یہ بات غیرمعمولی سمجھی جا رہی ہے کہ کسی حاضر سروس افسر نے اس نوعیت کے بیانات دیے ہیں۔ حساس سرحدی معاملات پر عموماً وفاقی حکومت ہی وزارتِ دفاع یا وزارتِ خارجہ کے ذریعے مؤقف پیش کرتی ہے۔

راجستھان میں افسران کے ایک حالیہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کپور نے کہا کہ انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں اور یہ کشیدگی اب بھی جاری ہے۔

ان کے مطابق یہ جھڑپ نما صورتحال جولائی میں شروع ہوئی تھی، تاہم ابتدا میں دونوں جانب سے فوجی واپس چلے گئے تھے۔

Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

  • آبنائے ہرمز

  • NA PTV

  • Maryam Nawaz

  • Arab Israel

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کپور نے کہا کہ چند روز بعد چینی فوجی زیادہ بڑی تعداد میں دوبارہ آئے اور ’لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے بارے میں انڈیا کے مؤقف کے مطابق تقریباً چھ سے سات کلومیٹر اندر خیمے لگا لیے۔‘

ایل اے سی ایک غیر واضح حد بندی ہے جو دونوں ہمسایہ ممالک کے زیرِ انتظام علاقوں کو الگ کرتی ہے۔ انڈیا اور چین اس 3440 کلومیٹر طویل متنازع سرحد کے معاملے پر کئی دہائیوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔

چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم دہلی ہمیشہ اس دعوے کو مسترد کرتا آیا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ یہ ریاست انڈیا کا اٹوٹ حصہ ہے۔

یہ تنازع 1947 میں برطانوی استعمار سے آزادی کے بعد انڈیا کو ورثے میں ملنے والے پیچیدہ مسائل میں سے ایک ہے۔ اسی تنازع نے 1962 کی مختصر مگر اہم سرحدی جنگ کو جنم دیا تھا، جس میں انڈیا کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود سرحد کے بڑے حصے کی باقاعدہ نشاندہی نہیں ہو سکی اور دونوں ممالک اب بھی متعدد علاقوں پر اپنے اپنے دعوے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

علاقے کا دشوار گزار جغرافیہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ دریاؤں کے بدلتے ہوئے راستے، جھیلیں اور برف سے ڈھکی چوٹیاں واضح سرحدی لکیر کے تعین میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

اسی وجہ سے دونوں ممالک کے فوجی دستے سرحدی علاقوں میں بعض اوقات آمنے سامنے آ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کبھی کبھار پرتشدد جھڑپیں اور سفارتی کشیدگی بھی جنم لیتی ہے۔

Anbarasan Ethirajan/BBC

،تصویر کا ذریعہAnbarasan Ethirajan/BBC

سرحدی کشیدگی میں آخری بڑا اضافہ جون 2020 میں ہوا تھا، جب لداخ کی گلوان وادی میں انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ اس واقعے میں کم از کم 20 انڈین اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

یہ 1975 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا مہلک تصادم تھا۔ اس کے بعد انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے چین کے ہاتھوں اپنی سرزمین کھو دی ہے، تاہم وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت بارہا اس دعوے کی تردید کر چکی ہے۔

ان جھڑپوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات شدید متاثر ہوئے، سفارتی روابط میں تعطل آیا اور تجارت و سفر بھی متاثر ہوئے۔ کئی ادوار پر مشتمل مذاکرات کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک نے 2024 میں سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا۔

اس کے بعد دونوں ملکوں نے براہِ راست پروازیں بحال کرنے اور جھڑپوں کے بعد عائد کی گئی ویزا پابندیوں میں نرمی کے لیے اقدامات شروع کیے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے ستمبر میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا کا دورہ بھی کیا، جو سات برس کے دوران ملک کا ان کا پہلا دورہ تھا۔

ان پیش رفتوں کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ دونوں ممالک کے تعلقات وسیع پیمانے پر معمول پر آ سکتے ہیں۔ تاہم سرحد پر حالیہ مبینہ آمنے سامنے کی صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ زمینی سطح پر حقیقی پیش رفت کتنی ہوئی ہے۔

کپور کے بیانات کے بعد مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ایک مرتبہ پھر مودی حکومت پر بیجنگ کو رعایتیں دینے کا الزام عائد کیا۔

کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا کہ ’وزیرِ اعظم اور ان کا پورا حکومتی نظام اس سنگین معاملے پر خاموش ہے۔‘

انڈین حکومت نے کپور کے اس دعوے کی براہِ راست تردید نہیں کی کہ چینی فوجیوں نے ایل اے سی کے اس حصے میں، جسے انڈیا اپنا علاقہ سمجھتا ہے، کئی کلومیٹر اندر خیمے نصب کیے تھے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’سرحدی علاقوں میں صورتِ حال وقتاً فوقتاً اس وقت متاثر ہوتی ہے جب چینی افواج طے شدہ گشت کے طریقہ کار سے ہٹ جاتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک فوجی اور سفارتی ذرائع سے باقی ماندہ مسائل کے حل کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین نے انڈیا کے ساتھ طے پانے والے متعلقہ معاہدوں پر ’مسلسل اور سختی سے عمل‘ کیا ہے اور سرحدی علاقوں میں ’علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے معمول کی گشت اور انتظامی سرگرمیاں‘ انجام دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

ماہرین کا کہنا ہے کہ کپور کے بیانات متنازع سرحدی علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی جارحانہ فوجی حکمتِ عملی کی ایک نادر جھلک پیش کرتے ہیں۔

انڈیا کے سابق سیکریٹری خارجہ شیام سرن، جنھوں نے 2000 کی دہائی کے وسط میں چین کے ساتھ سرحدی مذاکرات کے کئی ادوار کی قیادت کی تھی، نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ اروناچل پردیش کی سرحد کے مختلف مقامات پر چینی سرگرمیوں کا یہ انداز کافی عرصے سے جاری ہے۔

ان کے بقول ’یہ اقدامات فوری جنگ کا سبب بننے کے لیے کافی نہیں ہوتے، لیکن زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کے لیے ضرور کافی ہوتے ہیں۔‘

انڈیا کی اپوزیشن جماعتیں طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ چین نے لداخ اور اروناچل پردیش دونوں میں اپنی موجودگی بڑھائی ہے، جس کے باعث کشیدگی پیدا ہوئی۔

بیجنگ کی سنگھوا یونیورسٹی سے وابستہ اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے ریٹائرڈ سینئر کرنل ژو بو کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے 2020 میں گلوان وادی کی جھڑپوں سے سبق حاصل کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’دونوں فریقوں کو زیادہ محتاط ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات سے بچا جا سکے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چینی ذرائع ابلاغ نے اروناچل پردیش میں حالیہ صورتحال کے بارے میں کوئی رپورٹ شائع نہیں کی۔

انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے معاشی تعلقات بھی خاصے پیچیدہ ہیں۔

اختلافات کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔ گذشتہ برس دوطرفہ تجارت کا حجم 151 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ تاہم تجارتی توازن واضح طور پر چین کے حق میں ہے اور انڈیا کو چینی برآمدات کا حجم تقریباً 131 ارب ڈالر رہا۔

انڈیا اب بھی مشینری، نایاب ارضی مقناطیسوں (ریئر ارتھ میگنیٹس)، برقی گاڑیوں کی بیٹریوں اور دواسازی کی بعض مصنوعات کے لیے چینی درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ انحصار اس بات کا مطلب ہے کہ بیجنگ کے ساتھ کشیدگی کے اثرات سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ انڈین صنعتوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے چین نے میٹرو ریل اور شاہراہوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی سرنگیں کھودنے والی مشینوں (ٹنل بورنگ مشینز) کی برآمد پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ چین کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات قومی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

اگرچہ یہ پابندیاں خاص طور پر انڈیا کے خلاف نہیں تھیں، تاہم ان سے انڈیا کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔

نیویارک کی یونیورسٹی ایٹ البانی کے پروفیسر کرسٹوفر کلَیری نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’انڈیا کے بارے میں چین کی پالیسی اس کی ترقی کے عمل کو پیچیدہ بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے بعض شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کی اس کی صلاحیت بھی شامل ہے۔‘

اسی نوعیت کی ایک مشکل گذشتہ برس اُس وقت سامنے آئی تھی جب چین نے ریئر ارتھ میگنیٹس کی برآمد محدود کر دی تھی۔ یہ مقناطیس برقی گاڑیوں، سمارٹ فونز، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائنوں اور طبی سکیننگ آلات میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔

اس اقدام کے باعث انڈین صنعتوں کو عارضی طور پر سپلائی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس سے یہ واضح ہوا کہ اہم خام مال پر بیجنگ کا کنٹرول عالمی سپلائی چینز کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔

اب انڈیا مقامی سطح پر ریئر ارتھ میگنیٹس تیار کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس صنعت کے قیام اور ترقی کے لیے وقت اور بڑی سرمایہ کاری درکار ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہAnbarasan Ethirajan/BBC

متنازع سرحدی علاقے کے قریب رہنے والے لوگوں کے لیے چین کے ساتھ کشیدگی کے اثرات کہیں زیادہ فوری اور عملی نوعیت کے ہیں۔

اروناچل ٹائمز کی سینئر صحافی تونگم رینا کے مطابق بعض سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ چینی دراندازی اور تجاوزات کے باعث وہ اپنی چراگاہوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔

انھوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ کوئی نئی بات نہیں، یہ صورتحال کافی عرصے سے جاری ہے۔‘

ان کے مطابق اس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں ’عدم تحفظ کا احساس‘ پیدا ہوا ہے۔

دیہاتی عموماً ان علاقوں میں دوبارہ جانے سے گریز کرتے ہیں جنھیں وہ اب ’ممنوعہ‘ سمجھتے ہیں۔ ان علاقوں میں شکار اور یاک پالنے کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، جبکہ مقامی لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ انھیں دوبارہ وہاں جانے کی اجازت کب ملے گی۔

سرحدی تنازع دہلی کے لیے وسیع تر تزویراتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ انڈین پالیسی سازوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین کے ساتھ معاشی روابط بڑھانے پر توجہ مستقبل میں بیجنگ کے ساتھ کسی ممکنہ تصادم کی صورت میں واشنگٹن کی جانب سے انڈیا کی حمایت کی خواہش کو محدود کر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چین کو شاید انڈیا کے ساتھ مکمل پیمانے کی جنگ میں کوئی خاص دلچسپی نہ ہو، لیکن وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ موجودہ تنازع کو برقرار رکھنے میں اس کے لیے کچھ فوائد موجود ہیں۔

چونکہ چین کی معاشی اور فوجی طاقت مسلسل بڑھ رہی ہے، اس لیے بیجنگ یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ طویل تعطل مستقبل کے کسی بھی مذاکرات میں اس کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا دے گا۔

دوسری جانب انڈیا کے لیے حالیہ سرحدی کشیدگی کی صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سفارتی تعلقات میں بہتری لازماً سرحدی علاقوں میں پائیدار استحکام کی ضمانت نہیں ہوتی۔

Source: BBC Urdu · انباراسن ایتھیراجن

At a glance

Topic
World
Country
🇵🇰 PK
Publisher language
UR
Added to Allnira