انضمام الحق کا بچپن، نیند اور بھولنے کی عادت کے قصوں سے ٹیم میں سفارش پر شامل ہونے کے الزامات تک

کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

انھوں نے عمران خان کے اس اعتماد کو درست ثابت کیا کہ انضمام اس دور کے بہترین نوجوان بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJEWEL SAMAD/AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنانھوں نے عمران خان کے اس اعتماد کو درست ثابت کیا کہ انضمام اس دور کے بہترین نوجوان بلے بازوں میں سے ایک ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, سینیئر سپورٹس صحافی، کراچی
  • وقت اشاعت 3 منٹ قبل

  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

ذرا سوچیے، ایک 21 سالہ نوجوان کرکٹر پر اس وقت کیا گزری ہوگی جب اسی کی ٹیم کا ایک سینئر کھلاڑی اسے گالیاں دے اور کہے کہ تم سفارش کی بنیاد پر ٹیم میں آئے ہو۔

چند ہی روز بعد یہی نوجوان اپنی شاندار بیٹنگ کے ذریعے ٹیم کو ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچا دے۔ یہ کہانی کسی اور کی نہیں بلکہ انضمام الحق کی ہے، اور یہ واقعہ 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران پیش آیا تھا۔

یہ وہی ورلڈ کپ تھا جسے پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں جیتا تھا۔ انضمام الحق نے نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں 60 اور فائنل میں 42 رنز کی اہم اننگز کھیل کر پاکستان کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ان اننگز کے ذریعے انھوں نے عمران خان کے اس اعتماد کو درست ثابت کیا کہ انضمام اس دور کے بہترین نوجوان بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا تھا کہ پاکستان ٹیم کے ایک سینئر کھلاڑی نے انضمام الحق پر سفارش کی بنیاد پر ٹیم میں شامل ہونے کا الزام لگایا اور انھیں گالیاں تک دیں؟

'ایک سینئر نے کہا، تم سفارش کی وجہ سے ٹیم میں آئے ہو‘

جب انضمام الحق نے ایک انٹرویو میں یہ واقعہ بیان کیا تو سننے والوں کے لیے یقین کرنا مشکل تھا کہ ایک نوجوان کھلاڑی کو اپنی ہی ٹیم میں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انضمام الحق نے بتایا، ’ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا آخری گروپ میچ جیت چکی تھی۔ میں اس میچ میں صرف پانچ رنز بنا سکا تھا۔‘

انھوں نے کہا، ’تمام کھلاڑی خوشگوار موڈ میں ڈریسنگ روم کے شاور ایریا میں موجود تھے۔ اسی دوران ایک سینئر کرکٹر اچانک میرے پاس آئے اور مجھے گالیاں دینا شروع کر دیں۔ میں اُن کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتا۔ انھوں نے کہا کہ تم سفارش کی وجہ سے ٹیم میں آئے ہو۔‘

انضمام کے مطابق، ’یہ بات میرے لیے اتنی تکلیف دہ تھی کہ میں جتنی دیر شاور کے نیچے کھڑا رہا، مسلسل روتا رہا۔‘

وہ کہتے ہیں، ’میں سوچ رہا تھا کہ آخر میں سفارش کی بنیاد پر ٹیم میں کیسے آ گیا؟‘

’ورلڈ کپ سے پہلے میں سری لنکا کے خلاف ایک روزہ میچوں میں دو سنچریاں بنا چکا تھا، جبکہ پاکستان کے دو فرسٹ کلاس سیزنز میں بھی دس سنچریاں سکور کر چکا تھا۔‘

انضمام نے کہا، ’آج بھی میرے دل میں اس سینیئر کرکٹر کے لیے بہت احترام ہے، لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود میں ان کی وہ بات نہیں بھول سکا۔‘

انھیں 1992 کے ورلڈ کپ کا ایک اور واقعہ بھی یاد ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ بعض اوقات ٹیم میں موجود کچھ سینئر کھلاڑی نئے آنے والوں کو آسانی سے قبول نہیں کرتے اور ان کے رویے میں حسد بھی جھلکتا ہے۔

انضمام کے مطابق، ’ورلڈ کپ کے دوران پاکستان ٹیم ایک دعوت میں شریک ہوئی تھی۔ وہاں عمران خان نے میزبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میری جانب اشارہ کیا اور کہا کہ یہ نوجوان کھلاڑی غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے۔‘

’انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے جس دن اس کا بلا چل گیا، یہ ہمیں میچ جتوا دے گا۔‘

انضمام کا کہنا ہے کہ عمران خان کی یہ بات کچھ کھلاڑیوں کو پسند نہیں آئی تھی۔

’مجھے یاد ہے کہ انہوں نے بڑی ناراضی سے میری طرف دیکھا تھا۔‘

بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ جب 1992 کے ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ٹیم کا انتخاب ہو رہا تھا تو ایک سلیکٹر انضمام الحق کی شمولیت کے سخت خلاف تھا۔

رپورٹس کے مطابق اس سلیکٹر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا، لیکن عمران خان انضمام کی صلاحیتوں سے اس قدر متاثر تھے کہ وہ ہر صورت انھیں ٹیم میں شامل کرنا چاہتے تھے۔

انضمام الحق پر عمران خان کے اعتماد کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف ان کی 60 رنز کی جارحانہ اننگز اور پھر فائنل میں 42 رنز کی قیمتی باری نے پاکستان کو ورلڈ کپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا اور عمران خان کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔

شاندار بیٹنگ سے انضمام الحق خبروں کی زینت بن گئے

شاندار بیٹنگ سے انضمام الحق خبروں کی زینت بن گئے

،تصویر کا ذریعہMAX NASH/AFP via Getty Images

سینیئر انڈین سپورٹس صحافی ایاز میمن نے بی بی سی نیوز ہندی سے گفتگو میں کہا کہ 1992 کے ورلڈ کپ فائنل سے پہلے انضمام الحق کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں تھیں، لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں ان کی شاندار بیٹنگ نے انھیں اچانک شہرت دلا دی۔

انھوں نے کہا کہ ’فائنل سے قبل میلبورن میں ہماری عمران خان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا تھا کہ انضمام اس وقت دنیا کے بہترین نوجوان کرکٹر ہیں۔ ہمیں محسوس ہوا کہ کپتان شاید ان کی کچھ زیادہ ہی تعریف کر رہے ہیں، کیونکہ اس وقت تک انضمام نے بہت زیادہ اننگز نہیں کھیلی تھیں۔‘

ایاز میمن کے مطابق، ’لیکن جب انھوں نے فائنل میں 42 رنز کی اہم اننگز کھیلی اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا تو ہمیں ان کی غیر معمولی قابلیت کا اندازہ ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ انضمام میں صرف قدرتی صلاحیت ہی نہیں تھی بلکہ کھیل کے لیے ضروری تحمل اور سنجیدگی بھی موجود تھی۔

ایاز میمن نے مزید کہا، ’اس وقت سچن ٹنڈولکر بھی ایک باصلاحیت اور عالمی معیار کے بلے باز کے طور پر بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی جگہ بنا چکے تھے اور یہ ان کا بھی پہلا ورلڈ کپ تھا۔‘

انھوں نے کہا، ’ہر کھلاڑی کا اپنا مقام ہوتا ہے۔ انضمام الحق اور سچن ٹنڈولکر دونوں کا کیریئر شاندار رہا اور دونوں نے طویل عرصے تک بین الاقوامی کرکٹ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔‘

انڈین کرکٹرز کے دل میں انضمام کے لیے احترام

انڈین کرکٹرز کے دل میں انضمام کے لیے احترام

،تصویر کا ذریعہPRAKASH SINGH/AFP via Getty Images

انضمام الحق جس دور میں کرکٹ کھیلتے تھے، اس زمانے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان میدان میں سخت مقابلہ ہوتا تھا، لیکن میدان سے باہر دونوں ممالک کے کھلاڑیوں کے درمیان باہمی احترام اور محبت کا رشتہ بھی موجود تھا۔

انضمام الحق اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتے تھے۔ ان کے خلاف کھیلنے والے انڈین کرکٹرز ان کا بے حد احترام کرتے تھے اور انضمام کے دل میں بھی ان کے لیے ایسے ہی جذبات تھے۔

2004 کی پاک۔انڈیا سیریز کا وہ واقعہ آج بھی یاد کیا جاتا ہے جب انضمام الحق اپنے بیٹے ابتسام الحق کو سچن ٹنڈولکر سے ملوانے سٹیڈیم لے گئے تھے۔ انضمام نے سچن سے کہا تھا: ’یہ بیٹا تو میرا ہے، لیکن مداح آپ کا ہے۔‘

سچن ٹنڈولکر نے ایک ٹی وی پروگرام میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انضمام ہمیشہ ان کے لیے ایک قابلِ احترام کرکٹر رہے ہیں۔

انڈیا کے سابق کپتان سورو گنگولی نے بھی ایک تقریب میں، جہاں انضمام موجود تھے، ان کی بھرپور تعریف کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’انضی بھائی ہمارے خلاف سنچری سے کم پر بات ہی نہیں کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ نیند سے اٹھ کر آتے ہیں اور سنچری بنا دیتے ہیں۔ گویا یہ ان کے لیے کوئی بڑی بات ہی نہ ہو۔‘

انڈیا کے ایک اور سابق کپتان راہول ڈریوڈ نے آئی پی ایل کے ایک پروگرام میں انضمام کو دنیا کا بہترین مڈل آرڈر بلے باز قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق کوئی دوسرا کھلاڑی مڈل آرڈر میں انضمام کے مقام تک نہیں پہنچ سکا۔

راہول ڈریوڈ نے بتایا تھا کہ 2004 میں کراچی میں کھیلے گئے ایک ون ڈے میچ میں انضمام نے انڈیا کے خلاف جو سنچری سکور کی تھی، اس کی ریکارڈنگ انھوں نے ہوٹل واپس جا کر تین مرتبہ دیکھی تھی۔

سابق انڈین اوپنر ویرندر سہواگ بھی ایک ٹی وی پروگرام میں انضمام کو ایشیا کا بہترین مڈل آرڈر بلے باز قرار دے چکے ہیں۔ انھوں نے انضمام کے ساتھ میدان میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا تھا۔

سہواگ کے مطابق، ’میں دانش کنیریا کی بولنگ کا سامنا کر رہا تھا تو میں نے انضی بھائی سے کہا، ’باؤنڈری پر کھڑے فیلڈر کو ذرا آگے بلا لیجیے، میرا چھکا مارنے کا دل کر رہا ہے۔‘

انھوں نے بتایا، ’انضمام نے واقعی فیلڈر کو آگے بلا لیا اور میں نے اگلی ہی گیند پر چھکا لگا دیا۔ اس پر دانش کنیریا بہت ناراض ہوئے تھے۔‘

ایسے واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انڈین کرکٹرز کے درمیان انضمام الحق کتنے مقبول اور محترم تھے۔

انضمام نے ایک انٹرویو میں یہ بھی بتایا تھا کہ 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کے دورے میں انھیں شارٹ پچ گیندوں کو کھیلنے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔

اسی دوران سنیل گواسکر ان کے ساتھ انگلینڈ میں ایک چیریٹی میچ کھیل رہے تھے۔ انضمام نے ان سے مشورہ طلب کیا۔

انضمام کے مطابق سنیل گواسکر کی دی گئی تجاویز پر عمل کرنے کے بعد وہ اپنی اس کمزوری پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

انضمام الحق کا بچپن کیسا تھا؟

انضمام اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، اسی لیے وہ سب کے لاڈلے تھے، انضمام الحق کے والد

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI/AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنانضمام اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، اسی لیے وہ سب کے لاڈلے تھے، انضمام الحق کے والد

اب ذرا انضمام الحق کے بچپن پر نظر ڈالتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کے ابتدائی دن کیسے گزرے۔

انضمام الحق کے والد پیر انتظام الحق کے مطابق، انضمام اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اسی وجہ سے وہ گھر میں سب کے لاڈلے تھے، لیکن ساتھ ہی نہایت فرمانبردار بھی تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’انضمام کی اپنے بھائی انتظار الحق کے ساتھ چھوٹی موٹی نوک جھونک اور لڑائی ہوتی رہتی تھی، لیکن مذاق میں بھی شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جاتا تھا۔‘

پیر انتظام الحق کے مطابق ان کے بڑے بیٹے انتظار الحق نے انضمام کی کرکٹ میں ہمیشہ گہری دلچسپی لی اور انھیں مسلسل کلب کرکٹ کھیلنے کے مواقع فراہم کیے۔

انھوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’مجھے وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب انضمام ملتان میں کلب کرکٹ کھیلتے تھے۔ ایک روز ان کے کوچ نے مجھ سے کہا، ’پیر صاحب، یہ لڑکا بہت اچھی کرکٹ کھیلتا ہے، لیکن یہاں اس کی صلاحیت ضائع ہو جائے گی۔ آپ اسے لاہور کے گورنمنٹ کالج میں داخل کروا دیں۔‘

ان کے والد کے مطابق، اس مشورے کے بعد انھوں نے انضمام کو لاہور بھیج دیا۔

’انھوں نے وہاں شاندار بیٹنگ کی، اور پھر ان کا سفر مسلسل آگے بڑھتا چلا گیا۔‘

’لکھائی کمزور تھی، لیکن بیٹنگ شاندار تھی‘

انضمام الحق کے سکول کے ایک استاد محمد ہاشم خان نے بتایا تھا کہ، ’پڑھائی کے معاملے میں انضمام کوئی غیر معمولی طالب علم نہیں تھے۔ ان کی لکھائی بھی خاصی کمزور تھی، لیکن وہ اپنے اساتذہ کا بے حد احترام کرتے تھے۔‘

انھوں نے کہا، ’انضمام کو کرکٹ کا بہت شوق تھا۔ ایک دن ہمارے ہیڈ ماسٹر وسیم احمد نے ان کے مضبوط اور بھاری ہاتھوں پر غور کیا۔‘

’انھوں نے انضمام سے کہا کہ تم مضبوط گرفت رکھنے والے اچھے بلے باز بن سکتے ہو۔ اس کے بعد انضمام نے سکول کی ٹیم کے لیے کھیلنا شروع کر دیا۔‘

مسلم ہائی سکول اور ضلعی کھیل کے میدان کے درمیان صرف ایک سڑک حائل تھی۔

اس میدان کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کو ملتان میں لوگ ’چچا برکت‘ کے نام سے جانتے تھے۔

جب ان سے ملاقات ہوئی تو ان کی عمر 70 سال سے زیادہ تھی، لیکن جیسے ہی انضمام الحق کے بچپن کا ذکر آیا، وہ خود بھی کسی بچے کی طرح خوش اور پُرجوش ہو گئے۔

چچا برکت نے بتایا، ’انضمام روزانہ سکول کی چھٹی کے بعد میدان میں آتے اور کھیلنے کی خواہش ظاہر کرتے تھے۔‘

انضمام کے اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے انہیں بلے باز بننے کا مشورہ دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہINDRANIL MUKHERJEE/AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنانضمام کے سکول کے ہیڈ ماسٹر نے انھیں بلے باز بننے کا مشورہ دیا تھا

سکول کی کرکٹ کے دنوں میں الیاس پیرو انضمام کی ٹیم کے کپتان ہوا کرتے تھے۔

الیاس بتاتے ہیں، ’انضمام ایک ہمہ جہت کرکٹر تھے۔ بیٹنگ میں کمال کر دیتے تھے اور جس دن ان کا بلا نہیں چلتا تھا، اس دن بائیں ہاتھ کے بولر کے طور پر میچ جتوا دیتے تھے۔‘

الیاس پیرو کو وہ وقت بھی اچھی طرح یاد ہے، جب وہ انضمام سے اس دور میں ملنے گئے تھے، جب پوری دنیا انھیں ایک عالمی معیار کے بلے باز کے طور پر جان چکی تھی۔

انضمام کے گھر میں موجود مہمانوں نے ان سے الیاس کا تعارف کروانے کو کہا۔

اس پر انضمام نے کہا، ’یہ میرے سکول کے دنوں کے کپتان ہیں۔‘

یہ سن کر الیاس کو بہت خوشی ہوئی کہ انضمام اپنے پرانے دنوں کو نہیں بھولے تھے۔

دوستوں کے لیے آملیٹ بنانا

انضمام الحق کا مزاحیہ انداز بہت مشہور تھا۔ انہوں نے کئی بار پریس کانفرنسوں میں بھی اس کی جھلک دکھائی۔ لیکن جب وہ دوستوں کے درمیان ہوتے تھے تو بات ہی کچھ اور ہوتی تھی۔

انضمام اور مجتبیٰ کھوکھر کی دوستی بہت پرانی اور مضبوط تھی۔ اس دوستی میں کبھی یہ فرق محسوس نہیں ہوا کہ انضمام کے یہ دوست ایک سیلون چلاتے تھے اور لوگوں کے بال کاٹتے تھے۔

وہ بھی ایک وقت تھا جب انضمام اور مجتبیٰ رات بھر بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے۔ اس دوران انضمام آملیٹ بنایا کرتے تھے اور روٹیاں بنانے کی ذمہ داری مجتبیٰ کی ہوتی تھی۔

ورلڈ کپ جیتنے کے بعد جب انضمام ملتان واپس آئے تو مجتبیٰ ان کے استقبال کے لیے نہیں گئے تھے۔

لیکن انضمام کا بڑا پن دیکھیے کہ جب ان کے استقبال کا قافلہ مجتبیٰ کی دکان کے سامنے سے گزرا تو انھوں نے گاڑی رکوائی اور خود جا کر ان سے ملاقات کی۔

ہاشم خان، چچا برکت اور مجتبیٰ کھوکھر، تینوں اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

مجتبیٰ کھوکھر فروری 2024 میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث فوت ہو گئے تھے۔

نیند کے شوقین اور چیزیں بھول جانے کی عادت

پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں اسحاق پٹیل ایک معروف نام ہیں۔

انھوں نے کئی ایسے کرکٹرز کی رہنمائی کی جب انھیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ انضمام بھی انہی کھلاڑیوں میں شامل تھے۔

اسحاق پٹیل نے بی بی سی نیوز ہندی سے کہا، ’یہ اُس وقت کی بات ہے جب انضمام انڈر 19 کرکٹ کھیل رہے تھے۔ میں نے انھیں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) کی ٹیم میں شامل ہونے کی پیشکش کی تو انھیں لگا کہ میں مذاق کر رہا ہوں۔‘

’میں نے انھیں کراچی بلا لیا اور اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ یہاں وہ یو بی ایل کے ساتھ ساتھ میاں عظمت پروفیشنل کلب کی جانب سے بھی کلب کرکٹ کھیلتے تھے۔ میں اُس کلب کا انچارج تھا۔‘

اسحاق پٹیل بتاتے ہیں، ’اس دور میں رمضان کے مہینے میں کراچی میں بہت کرکٹ کھیلی جاتی تھی۔ انضمام مسلسل تین سال تک رمضان میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں حصہ لیتے رہے۔ ٹورنامنٹ ختم ہوتے ہی وہ عید منانے اپنے شہر چلے جاتے تھے۔‘

’ایک ٹورنامنٹ میں وہ ’پلیئر آف دی ٹورنامنٹ‘ بھی قرار پائے تھے۔ انعام کے طور پر انھیں لندن آنے جانے کا ٹکٹ ملا تھا۔‘

اسحاق پٹیل کہتے ہیں، "نیند کے معاملے میں انضمام کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔"

،تصویر کا ذریعہPRAKASH SINGH/AFP via Getty Images

اسحاق پٹیل کہتے ہیں، ’نیند کے معاملے میں انضمام کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ رمضان میں کئی بار انھیں سحری کے لیے اٹھاتے اٹھاتے فجر کی اذان ہو جاتی تھی، لیکن وہ نہیں اٹھتے تھے۔ اس کے باوجود وہ بغیر کچھ کھائے پیے روزہ ضرور رکھتے تھے۔‘

’انضمام کو چیزیں بھول جانے کی بھی عادت تھی۔ ایک دن انھوں نے کپڑے استری کرنے کے لیے ریفریجریٹر کا پلگ نکالا اور کپڑے استری کرنے کے بعد اسے دوبارہ لگانا بھول گئے۔‘

’اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریفریجریٹر میں رکھی ساری برف پگھل گئی اور فرش پر ہر طرف پانی پھیل گیا۔ کئی بار وہ کہیں جاتے تو گھر کی چابی بھی وہیں بھول کر واپس آ جاتے تھے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود وہ اپنے سے بڑوں کی عزت کرنے والے نوجوان تھے۔‘

کرکٹرز کے ساتھ پرانی دوستیاں

کرکٹرز میں انضمام الحق کی سب سے پرانی دوستی لیگ اسپنر مشتاق احمد کے ساتھ رہی ہے۔

یہ دوستی اُس وقت شروع ہوئی تھی جب دونوں انڈر 14 کرکٹ کھیلتے تھے۔ بعد میں وقار یونس بھی اس دوستی کا حصہ بن گئے۔

مشتاق احمد نے بی بی سی نیوز ہندی سے گفتگو کرتے ہوئے پرانے دنوں کو یاد کیا اور کہا، ’انضمام شروع سے ہی ایک باصلاحیت کرکٹر تھے۔ ان کا مزاحیہ انداز بھی ابتدا ہی سے شاندار تھا۔ لیکن وہ ہر کسی کے ساتھ مذاق نہیں کرتے تھے۔ وہ صرف انہی لوگوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں جن کے ساتھ خود کو پُرسکون اور مانوس محسوس کرتے ہیں۔‘

’انضمام کے مزاحیہ انداز کو سمجھنے کے لیے انھیں جاننا بہت ضروری ہے۔ ایک کرکٹر کے طور پر انہیں کھیل کی بہت اچھی سمجھ تھی۔ وہ اسکور بورڈ کو دیکھ کر اپنی اننگز کو آگے بڑھاتے تھے۔‘

’ان کی زیادہ تر سنچریاں ٹیم کو فتح دلانے میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔ انھوں نے ہمیشہ ایک بڑے مقصد کے ساتھ کرکٹ کھیلی۔ ان کی خواہش اور کوشش تھی کہ وہ جاوید میانداد کے سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ توڑ دیں، لیکن وہ چند رنز کے فرق سے ایسا نہ کر سکے۔‘

’وہ کبھی نیٹ پریکٹس سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ نیٹ پر وہ وقار یونس، وسیم اکرم اور شعیب اختر جیسے مشکل بولرز کا سامنا کرتے تھے۔‘

’آج کل بہت سے کھلاڑی اس ڈر سے ایسا نہیں کرتے کہ کہیں گیند انہیں لگ نہ جائے۔‘

’انضمام جس آسانی سے تیز رفتار بولنگ کا سامنا کرتے تھے، اسی آسانی سے سپن بولرز کو بھی کھیلتے تھے۔‘

’سپن بولرز کے لیے سازگار وکٹوں پر بھی وہ بیک فٹ پر کٹ، پل اور سوئیپ شاٹس پورے اعتماد کے ساتھ کھیلتے تھے۔‘

’انضمام پُرسکون انداز میں بیٹنگ کرتے تھے‘

سینیئر انڈین صحافی ایاز میمن کہتے ہیں، ’انضمام کی بیٹنگ کا انداز بہت پُرسکون ہوا کرتا تھا۔ اُن کے پاس شاٹ کھیلنے کے لیے بہت وقت ہوتا تھا۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ بیٹنگ کو آسان بنا دیتے تھے۔ تیز رفتار بولنگ کے خلاف وہ شروع ہی سے بہت اچھا کھیلتے تھے، لیکن اسپن بولرز کے سامنے بھی ان کی بیٹنگ لاجواب ہوتی تھی۔‘

’ان کی شخصیت بہت باوقار تھی اور ان کا مزاحیہ انداز بھی کمال کا تھا۔ پریس کانفرنسوں میں وہ ہر سوال کا جواب ہنستے مسکراتے دیتے تھے۔ میں نے انھیں دباؤ کے لمحات میں بھی کبھی گھبراتے نہیں دیکھا۔ میدان میں بھی انھیں کبھی کسی کے ساتھ بدتمیزی کرتے نہیں دیکھا۔‘

بین الاقوامی امپائر علیم ڈار نے بی بی سی نیوز ہندی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’جب آپ امپائرنگ کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کی پوری توجہ اپنے کام پر ہوتی ہے۔ لیکن جب آپ اسکوائر لیگ پر کھڑے ہوتے ہیں تو پوری توجہ برقرار رکھنے کے باوجود کچھ ایسے لمحات مل جاتے ہیں جب آپ بلے باز اور بولر کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔‘

’اپنے کیریئر میں جن بلے بازوں کی بیٹنگ سے میں نے لطف اٹھایا، ان میں انضمام بھی شامل ہیں۔‘

’ویسے تو انضمام نے کئی یادگار اننگز کھیلیں، لیکن میں بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ میں کھیلی گئی ان کی 138 رنز کی اننگز نہیں بھول سکتا۔ اس اننگز کی بدولت انھوں نے اکیلے ہی پاکستان کو فتح دلائی تھی۔ میں اس ٹیسٹ میچ میں ٹی وی امپائر تھا۔‘

Source: BBC Urdu · عبدالرشید شکور

At a glance

Topic
World
Country
🇵🇰 PK
Publisher language
UR
Added to Allnira