امریکی انتخابات میں کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کیسے ہو گا اور کیا صدر ٹرمپ سیاسی روایات کے برخلاف نتائج حاصل کر پائیں گے؟
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
وقت اشاعت 12 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 7 منٹ
امریکہ میں آج (تین نومبر) ووٹرز پولنگ سٹیشنوں کا رُخ کریں گے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا باقی دور کس طرح گزرے گا۔
امریکہ بھر میں حکومت کے مختلف سطحوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، تاہم ووٹرز کے لیے سب سے اہم مرحلہ ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) اور سینیٹ کے ارکان کا انتخاب ہو گا۔ ایوان نمائندگان اور سینیٹ مل کر کانگریس تشکیل دیتے ہیں۔
اس وقت کانگریس کے دونوں ایوانوں پر صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے۔ ٹرمپ کے اقتدار کے رہ جانے والے آخری دو برسوں کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اِن وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ہو سکتا ہے۔
وسط مدتی انتخابات ایسے وقت پر آئے ہیں جو صدر ٹرمپ کے لیے ناموزوں ہے
اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے پاس کانگریس کا کنٹرول واپس حاصل کرنے میں ایک اہم عنصر صدر ٹرمپ کی کم ہوتی عوامی مقبولیت بھی ہے۔
پولنگ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والی ویب سائٹ ’سلور بلیٹن‘ کے مطابق، ٹرمپ نے اپنے دور صدارت کا آغاز 50 فیصد سے کچھ زائد عوامی حمایت کے ساتھ کیا تھا، تاہم ان کے حلف اٹھانے کے کچھ عرصہ بعد یہ شرح کم ہو کر جلد ہی 40 فیصد کی سطح تک گر گئی تھی۔
رواں سال فروری میں جب ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو اُن کی عوامی مقبولیت تقریباً 42 فیصد کے قریب تھی، تاہم اس کے فوراً بعد یہ شرح 40 فیصد سے بھی نیچے چلی گئی اور اس وقت اُن کی مقبولیت تقریباً 38 فیصد کے لگ بھگ ہے۔
آٹھ سال قبل اپنی پہلی صدارتی مدت کے اِسی مرحلے پر (یعنی مڈ ٹرم کے قریب) ٹرمپ کی مقبولیت 43 فیصد تھی، جو موجودہ شرح سے نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ اُسی مرحلے پر جو بائیڈن کی مقبولیت 40 فیصد تھی۔
ٹرمپ کی کم عوامی مقبولیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ڈیموکریٹس کیوں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی کے لیے پُرامید ہیں اور کیوں انھوں نے اپنی توجہ ان ریاستوں پر مرکوز کر رکھی ہے جہاں حالیہ برسوں میں ریپبلکن جماعت مسلسل کامیاب ہوتی رہی ہے۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایوانِ نمائندگان کی جنگ
کانگریس کے ایوانِ نمائندگان، یعنی ایوانِ زیریں، میں ریپبلکن جماعت کو فی الحال حاصل اکثریت انتہائی معمولی ہے۔ اُن کے پاس 218 نشستیں ہیں، جو ایوان پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے درکار کم از کم تعداد ہے، جبکہ ایک آزاد رکن بھی اُن کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔
ایوانِ نمائندگان کے ارکان کی مدتِ رکنیت دو سال ہوتی ہے، چنانچہ اس لیے ہر دو سال بعد نومبر کے پہلے منگل کو ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں۔
تاہم اس کے زیادہ تر انتخابی حلقوں کو سخت مقابلے والا نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہاں موجود جماعت کو اتنی مضبوط حمایت حاصل ہوتی ہے کہ نتیجہ تقریباً طے شدہ تصور کیا جاتا ہے۔
انتخابی مہمات اور انتخابات کا تجزیہ کرنے والے ادارے ’کُک پولیٹیکل رپورٹ‘ کے مطابق صرف 18 حلقے ایسے ہیں جنھیں ’ٹاس اپ‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی جہاں دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔
ان 18 حلقوں میں سے 14 پر اس وقت ریپبلکن اور چار پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہے۔ تاہم اگر ڈیموکریٹس ان میں سے ایک بھی نشست نہ جیتیں، تب بھی وہ ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ان 36 نشستوں میں کامیاب ہو جائیں جنھیں ڈیموکریٹس کے حق میں جھکاؤ رکھنے والی یا ان کی ممکنہ کامیابی والی نشستیں قرار دیا گیا ہے۔
تاریخی طور پر وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان میں بڑی تعداد میں نشستوں کا تبادلہ ہوتا ہے، جسے عموماً وائٹ ہاؤس کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سنہ 1934 سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق برسرِ اقتدار صدر کی جماعت مڈٹرم میں اوسطاً 27 نشستیں کھو دیتی ہے۔ سنہ 1934 کے بعد ہونے والے 23 وسط مدتی انتخابات میں برسراقتدار صدر کی جماعت صرف تین مواقع پر اپنی نشستوں میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
سینیٹ کی جنگ
ریپبلکن جماعت کی سینیٹ پر گرفت نسبتاً زیادہ مضبوط ہے۔ 100 رکنی سینیٹ میں ان کے پاس 53 نشستیں ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 45 نشستیں ہیں اور دو آزاد ارکان بھی ان کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں۔
سینیٹ کے ارکان چھ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں، اس لیے ہر دو سال بعد تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں۔
نومبر 2026 میں سینیٹ کی 35 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، تاہم کُک پولیٹیکل رپورٹ کے تجزیے کے مطابق ان میں سے صرف سات نشستیں ایسی ہیں جن پر کسی بھی جماعت کی کامیابی ممکن ہو سکتی ہے۔
ان سات غیر یقینی نشستوں میں سے چھ اس وقت ریپبلکنز اور ایک ڈیموکریٹس کے پاس ہے۔ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ان سات میں سے چار نشستیں جیتنا ہوں گی، ساتھ ہی ان چار نشستوں کو بھی برقرار رکھنا ہو گا جنھیں ڈیموکریٹس کے حق میں جھکاؤ رکھنے والی یا ان کی ممکنہ کامیابی والی نشستیں قرار دیا گیا ہے، تاکہ ان کی مجموعی تعداد 51 تک پہنچ سکے۔
تاہم ڈیموکریٹس کے لیے اکثریت حاصل کرنا آسان نہیں ہو گا۔
انھیں مشیگن میں اپنی موجودہ نشست کا دفاع بھی کرنا ہو گا، جہاں بعض سرویز کے مطابق بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نسبتاً غیر روایتی امیدوار عبدال السید اور ان کے ریپبلکن حریف مائیک راجرز، جو ٹرمپ کے اتحادی اور سابق ایف بی آئی اہلکار ہیں، کے درمیان مقابلہ ڈیموکریٹس کی توقع سے زیادہ سخت ہے۔
اس کے علاوہ ڈیموکریٹس کو ان ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کرنا ہو گی جہاں سنہ 2024 میں ٹرمپ نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی، جن میں الاسکا، آئیووا اور اوہائیو شامل ہیں۔
تاہم رائے عامہ کے جائزوں سے عندیہ ملتا ہے کہ ڈیموکریٹس کے پاس مواقع موجود ہیں، حتیٰ کہ ٹیکساس میں بھی، جہاں جیمز ٹالاریکو موجودہ ریاستی اٹارنی جنرل اور ٹرمپ کے قریبی اتحادی کین پیکسٹن کو شکست دے کر 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹ بن سکتے ہیں۔
ووٹرز کے لیے اہم مسائل کیا ہیں؟
ٹرمپ نے اپنی سنہ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ’مہنگائی کا خاتمہ‘ کرنے اور امریکہ میں اخراجات زندگی کو دوبارہ قابلِ برداشت بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجات زندگی کی موجودہ لاگت ووٹرز کے لیے سب سے اہم مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے رواں 24 فروری کو اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں فخر کے ساتھ کہا تھا کہ بیشتر ریاستوں میں پیٹرول کی قیمت ’2.30 ڈالر فی گیلن سے بھی کم‘ ہو چکی ہے۔ تاہم چار روز بعد ایران کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی، جس سے مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی اور امریکہ میں پیٹرول کی قیمت بڑھ کر چار ڈالر فی گیلن تک جا پہنچی۔
جنگ کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جانے لگے اور اس کے معاشی نتائج بالآخر امریکی صارفین پر بھی پڑے، جس کے باعث یہ جنگ بتدریج غیر مقبول ہوتی گئی۔ اگست میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 63 فیصد جواب دہندگان نے اس صورتحال سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقہ کار کو ناپسند کیا۔
ووٹرز کے نزدیک دیگر اہم مسائل میں صحت کی سہولیات اور امیگریشن بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں امیگریشن سے متعلق اپنی پالیسیوں کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد عبور کرنے والوں کی تعداد حالیہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔
دوسری جانب کئی ڈیموکریٹ امیدوار امریکی صحت انشورنس نظام کی بڑھتی ہوئی لاگت اور ٹرمپ کی قانون سازی کے صحت کی سہولیات تک رسائی پر پڑنے والے اثرات کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی موضوع بنا رہے ہیں۔
کیا ٹرمپ سیاسی روایات کے برخلاف نتائج حاصل کر سکتے ہیں؟
زیادہ تر اشارے اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں، تاہم اگر ٹرمپ اور ان کی جماعت توقعات سے زیادہ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ پہلی بار نہیں ہو گا کہ انھوں نے رائے عامہ کے جائزوں کی پیش گوئیوں سے بہتر نتائج حاصل کیے ہوں۔
ریپبلکن جماعت کے حق میں موجود چند عوامل میں سے ایک ان کی نمایاں مالی برتری ہے۔
اکتوبر کے وسط تک ریپبلکن نیشنل کمیٹی اور اس سے وابستہ گروپوں کے پاس تقریباً 32 کروڑ ڈالر موجود تھے، جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس اس کے مقابلے میں تقریباً 23 کروڑ ڈالر تھے۔
اس کے علاوہ ریپبلکنز کے پاس ٹرمپ کے میگا اِنک گروپ کے تحت 16 کروڑ ڈالرسے زائد فنڈز بھی موجود تھے، جو ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ سیاسی تحریک کے لیے چندہ جمع کرنے اور اخراجات کرنے والا مرکزی ادارہ ہے۔
ریپبلکنز اپنی اس مالی برتری کو اشتہاری مہم پر خرچ کر رہے ہیں۔
تحقیقی ادارے ایڈ امپیکٹ کے مطابق ستمبر میں امریکی ووٹرز کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے سیاسی اشتہارات نشر کیے گئے۔ ریپبلکنز نے ڈیموکریٹس کے مقابلے میں تقریباً 20 کروڑ ڈالر زیادہ خرچ کیے اور سینیٹ کی تقریباً تمام ان نشستوں میں ان کا اشتہاری خرچ زیادہ رہا جنھیں سخت مقابلے والی نشستیں قرار دیا گیا تھا۔
ٹرمپ کو امید ہو گی کہ انتخاب سے قبل پیغام رسانی کی یہ بھرپور مہم زیادہ سے زیادہ ریپبلکن ووٹرز کو آج ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرے گی، جس سے ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ ہو گا اور ان کی جماعت کو ممکنہ نقصان کم کرنے میں مدد ملے گی۔
نتیجہ جو بھی ہو، توجہ جلد ہی سنہ 2028 کے صدارتی انتخابات کی جانب منتقل ہو جائے گی۔ وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی غیر مقبولیت ایک مرکزی موضوع رہی ہے، لیکن چونکہ آئینی طور پر وہ تیسری بار صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکتے، اس لیے آئندہ توجہ اس بات پر مرکوز ہو گی کہ ڈیموکریٹس کن پالیسیوں اور نظریات کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ کہ صرف اس بات پر کہ وہ کن معاملات کی مخالفت کرتے ہیں۔
Source: BBC Urdu · BBC News اردو
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira