امریکہ، چین اور روس کی حمایت: اقوام متحدہ میں روایتی ہتھیاروں پر پاکستانی قرارداد جس کی مخالفت صرف انڈیا اور اسرائیل نے کی

کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

انڈیا

،تصویر کا ذریعہ@bedi_sher

وقت اشاعت 8 منٹ قبل

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی نے بھاری اکثریت سے پاکستان اور بیلاروس کی جانب سے پیش کردہ قراردار کو منظور کیا تو اس کی مخالفت کرنے والوں میں صرف انڈیا اور اسرائیل شامل تھے جبکہ روس اور امریکہ نے بھی اس قراردار کی حمایت میں ووٹ دیا۔ یہ قراردار ’علاقائی اور ذیلی سطح پر روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول‘ سے متعلق تھی۔

انڈیا اور اسرائیل ہی وہ دو ممالک تھے جنھوں نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ انڈیا کا موقف تھا کہ سیکیورٹی خدشات علاقائی اور ذیلی سطح تک محدود نہیں رہ سکتے۔

پاکستان اور بیلاروس کی اس قراداد کی حمایت نہ صرف امریکہ اور چین نے بلکہ انڈیا کے روایتی دوست روس نے بھی کی۔ قرارداد کے مسودے کو 193 رکنی اقوام متحدہ کی باڈی میں 180 ووٹوں کے ساتھ منظور کیا گیا۔

انڈیا کی مخالفت کی وضاحت کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکریٹری، انمول شیر بیدی نے کہا کہ روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول ایک عالمی مسئلہ ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا اس مسئلے کو بنیادی طور پر علاقائی اور ذیلی علاقائی فریم ورک کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی میں انڈیا کے ووٹ کی وجہ بتاتے ہوئے بیدی نے کہا ’ہم پوری طرح سے اس بات پر قائل نہیں ہیں کہ اس مسئلے کو بنیادی طور پر علاقائی اور ذیلی علاقائی تناظر میں آگے بڑھایا جائے۔‘

انڈیا کی مخالفت کی وجہ کیا ہے؟

انڈیا نے اقوام متحدہ کے اسلحہ کمیشن کو ایسے اصول تیار کرنے کا کام سونپنے کی تجویز پر تشویش کا اظہار کیا جو روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق علاقائی معاہدوں کا فریم ورک تشکیل دے گا۔

انڈیا کے مندوب نے کہا کہ کمیشن روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق رہنما خطوط اور سفارشات پر پہلے ہی اتفاق رائے پر پہنچ چکا ہے۔

ان میں 1993 میں اختیار کردہ علاقائی تخفیف اسلحہ سے متعلق رہنما خطوط، 1999 میں اپنائے گئے روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول اور تخفیف اسلحہ سے متعلق رہنما خطوط، اور 2017 میں اپنائے گئے روایتی ہتھیاروں کے میدان میں اعتماد سازی کے عملی اقدامات شامل ہیں۔

Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

  • تصویر

  • Bashir Zeb

  • فاز میزائل

  • محمد عامر

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے پر ایک ہی کمیشن میں پہلے ہی تین متفقہ نتائج آچکے ہیں، لیکن اب اسی کمیشن کو شروع سے کام کرنے کو کہا جا رہا ہے۔‘

بیدی نے کہا کہ ’ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک ایسے موضوع پر بحث کے دوسرے دور کی ضرورت کیوں ہے جس پر پہلے ہی تفصیل سے بات ہو چکی ہے، جب تک کہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کے نظام کو مصروف رکھنا نہ ہو۔‘

پاکستان کے مستقل نمائندے طاہر اندرابی

،تصویر کا ذریعہ@BDPM_Geneva

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے مستقل نمائندے طاہر اندرابی اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کے مستقل نمائندے ریاض حمید اللہ کے ساتھ

روس نے اس قرارداد کی حمایت کیوں کی؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

روس کی حمایت کو انڈیا کے خلاف پاکستان کی حمایت کے طور پر دیکھنے کے بجائے اس کے موقف کو ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق ایک دیرینہ اور وسیع پیمانے پر حمایت یافتہ تجویز کی حمایت کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

روس نے 2025 میں اس قرارداد کے پچھلے ورژن کی حمایت کی تھی۔ اس لیے اسے اپنی پالیسی میں نئی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ تاہم حالیہ ووٹ میں روس کی حمایت کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

کیا روس کے ووٹ کا مطلب یہ ہے کہ وہ انڈیا کے دفاعی سودوں پر پابندیوں کی حمایت کرتا ہے؟ دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا۔

قرارداد کے مسودے میں نہ تو کوئی پابند علاقائی ہتھیاروں کی حد مقرر کی گئی ہے، نہ ہی یہ انڈین ہتھیاروں کی خریداری پر پابندی عائد کرتی ہے اور نہ ہی یہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی برابری کا کوئی طریقہ کار قائم کرتی ہے۔ اس کا مقصد اصولوں پر مبنی اور بات چیت کے ذریعے علاقائی معاہدوں کو فروغ دینا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل قرارداد کی حمایت کرنا اور ایک مخصوص، قانونی طور پر پابند معاہدے کے تحت پابندیاں قبول کرنا دو مختلف چیزیں ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنروس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف (بائیں) پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا 20 فروری 2018 کو ماسکو کے دورے پر استقبال کر رہے ہیں۔

حمایت کرنے والے ممالک علاقائی ہتھیاروں کے کنٹرول کے اصولوں کی حمایت کر رہے ہیں، جب کہ انڈیا کا خیال ہے کہ علاقائی فوجی توازن کا فریم ورک اس کی وسیع تر سلامتی کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا۔

پاکستان کی حمایت یافتہ قرارداد کیا کہتی ہے؟

قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول کی کوششوں کو بنیادی طور پر علاقائی اور ذیلی علاقائی میکانزم کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ اس کا موقف ہے کہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو بہت سے موجودہ خطرات پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی سے پیدا ہوتے ہیں۔

قرارداد میں ایسے معاہدوں کا مطالبہ کیا گیا ہے جن کا مقصد ہتھیاروں اور فوجی دستوں کی تعداد کو کم سے کم سطح پر رکھ کر علاقائی سلامتی کو مضبوط کرنا ہے۔

یہ تجویز علاقائی سلامتی کے انتظامات کو آگے بڑھانے کے لیے زیادہ فوجی صلاحیتوں کے حامل ممالک کو خصوصی ذمہ داری بھی تفویض کرتی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ’اہم ممالک اور زیادہ فوجی صلاحیتوں کے حامل ممالک پر ایسے معاہدوں کو فروغ دینے کی خصوصی ذمہ داری ہے۔‘

تاہم، انڈیا کے اعتراضات کی بنیادی بنیاد یہ تھی کہ سلامتی کے خدشات کو صرف علاقائی حدود کے اندر ہی حل نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب فوجی صلاحیتیں اور سٹریٹجک مفادات ان حدود سے باہر ہوتے ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے قرارداد کی منظوری کے بعد ایک بیان جاری کیا ۔ بیان میں، پاکستان نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی نے پاکستان کی تجاویز کو زبردست حمایت کے ساتھ منظور کیا۔ یہ پاکستان کی ہتھیاروں پر قابو پانے کی کوششوں کے لیے عالمی برادری کی حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان نے کہا ’علاقائی اور ذیلی علاقائی سیاق و سباق میں اعتماد سازی کے اقدامات‘ کے عنوان سے قرارداد کو بغیر ووٹ کے منظور کیا گیا۔ ’علاقائی اور ذیلی سطح پر روایتی ہتھیاروں کا کنٹرول‘ کے عنوان سے قرارداد کو 180 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا۔ کئی دہائیوں سے، ہم اقوام متحدہ کی پیش قدمی کے طور پر اس طرح کے ہتھیاروں کے معاملات میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔‘

پاکستان اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے طاہر اندرابی نے ایکس پر لکھا ’ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی میں پاکستان کی زیرقیادت تین قراردادوں کو ملنے والی وسیع حمایت سے خوش ہیں۔‘

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں ہے۔

Source: BBC Urdu · BBC News اردو

At a glance

Topic
World
Country
🇵🇰 PK
Publisher language
UR
Added to Allnira