کراچی کے نومولود بچے میں ایم پاکس کی تصدیق، تحقیقات میں ہسپتال کے آلات سے وائرس لگنے کا انکشاف

کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

Monkeypox

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، کراچی
  • وقت اشاعت ایک منٹ قبل

  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

کراچی کے محمد وقار کے لیے اپنے پہلے بیٹے عیسیٰ کی پیدائش خوشی کا موقع تھی، لیکن ابتدائی ہفتوں میں ہی ان کے خاندان کو ایک ایسی صورتِحال کا سامنا کرنا پڑا جس نے انھیں ہسپتالوں، طبی معائنے اور ایک غیر متوقع بیماری کے درمیان لا کھڑا کیا۔

محمد وقار نجی شعبے میں بطور ڈرائیور کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یکم ستمبر 2026 کو پیدا ہونے والی ان کی پہلی اولاد عیسیٰ کا 24 ستمبر کو کراچی کے ابنِ حسن ہسپتال میں ختنہ کرایا گیا تھا۔

انھیں اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ چند ہفتوں بعد ہی ان کے بچے میں منکی پاکس کی تصدیق ہو گی اور اسی طبی مرکز کے آلات کی جانچ بھی طبی تحقیقات کا حصہ بن جائے گی۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ابنِ حسن ایک پرانا ہسپتال ہے۔ میں نے لوگوں سے بھی اس کے بارے میں سنا تھا، اس لیے اپنے بچے کو وہاں لے گیا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ختنہ کے بعد بچے کو بخار ہوا اور ابتدائی طور پر انھیں یہ ایک معمول کی تکلیف محسوس ہوئی، لیکن پھر بچے کی حالت دیکھ کر ان کی تشویش بڑھنے لگی۔

معمولی دانوں سے پورے جسم پر پھیلنے والی علامات تک

کراچی کے رہائشی محمد وقار کا کہنا ہے کہ ابتدا میں بچے کے ہاتھوں اور پیروں پر چند دانے نمودار ہوئے اور ان کے خاندان نے اسے الرجی سمجھا کیونکہ اس مرحلے پر دانوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔

اس کے بعد وہ اپنے نومولود بچے کو امراض جلد کے ماہر ڈاکٹر کے پاس لے گئے، جس نے لوشن تجویز کیا لیکن اگلے دو دن میں دانے زیادہ نمایاں ہو گئے اور چہرے، سر اور جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل گئے۔

وقار کے مطابق ’ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید بچے کو الرجی ہو گئی ہے۔ لیکن دو دن میں ہی دانوں نے بہت شدت اختیار کر لی اور جسم کے ہر حصے پر نکلنے لگے۔‘

Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

  • LIVE

  • تصویر

  • شہری کا سکوٹی سوار لڑکی پر تشدد:

  • تصویر

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

بچے کو بعد میں کورنگی نمبر پانچ کے سرکاری ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے منکی پاکس کا شبہ ظاہر کیا۔

Ibn-e-Hassan Hospital

،تصویر کا ذریعہSindh Healthcare Commission

محمد وقار کے مطابق ہسپتال کے طبی عملے نے بچے کو دیگر مریضوں سے الگ رکھا اور اسے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف انفیکشس ڈیزیزز ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا، جہاں 14 اکتوبر 2026 کو عیسیٰ میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی۔

قینچی میں وائرس کی موجودگی

کورنگی کے ڈسرکٹ ہیلتھ آفیسر اشفاق میمن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے سرویلنس نظام میں جب اس کیس کا اندراج ہوا تو یہ تحقیق کی گئی کہ بچہ علاج کے لیے کہاں کہاں گیا تھا اور اس طرح وہ ابن حسن ہسپتال پہنچے۔

ان کے مطابق انھوں نے ابن حسن ہسپتال کے آلات معائنے کے لیے ڈاؤ لیبارری بھیجے، جس میں ہسپتال کی قینچی کے نمونے میں منکی پاکس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

لیبارٹری کے نتائج کے بعد ضلعی محکمہ صحت نے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو ہسپتال کے خلاف کارروائی کے لیے خط لکھا، جس کے بعد قانونی کارروائی کرتے ہوئے اس کو سیل کردیا گیا۔

کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر ہسپتال کی انتظامیہ رجسٹریشن سمیت دیگر قانونی تقاضے پورے کر لیتی ہے تو اسے دوبارہ کھولنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

طبی غفلت برتنے کے معاملے پر کارروائی سے متعلق سوال کے جواب میں کمیشن کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس کے لیے متاثرہ خاندان کو تحریری شکایت دینی ہو گی، جس کی بنیاد پر کمیشن تحقیقات اور ضابطے کے مطابق کارروائی کر سکتا ہے۔

دوسری جانب متاثرہ بچے کے والد محمد وقار نے کہا کہ اگر انھیں تحقیقات کے لیے بلایا گیا تو وہ بیان دینے اور گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔

’میں جہاں بھی ضروری ہوا، حاضر ہوں گا۔ اگر میرا بیان یا گواہی درکار ہوئی تو میں وہی بات بتاؤں گا، جو میرے ساتھ ہوا ہے۔ ایسے ہسپتالوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تاکہ دوسرے والدین کو اپنے بچوں کے لیے ایسی صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

سندھ میں منکی پاکس کے کیسز

محکمہ صحت سندھ کے مطابق رواں سال سندھ میں اب تک منکی پاکس کے 44 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 16 کراچی میں سامنے آئے ہیں۔

سندھ میں ایم پاکس کے لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 106 ہو گئی ہے۔ صوبائی ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس یونٹ کے ڈیش بورڈ کے مطابق متاثرہ افراد میں 78 مرد اور 28 خواتین شامل ہیں۔

عمر کے لحاظ سے 30 سے 39 سال کا گروپ منکی پاکس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جس میں 30 کیسز رپورٹ ہوئے۔ صفر سے نو سال کی عمر کے بچوں میں 23، جبکہ 20 سے 29 سال کے افراد میں بھی 23 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 40 سے 49 سال کی عمر میں 16، 50 سے 59 سال میں سات، 10 سے 19 سال میں چھ اور 60 سال سے زائد عمر میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSindh Healthcare Commission

،تصویر کا کیپشنابن حسن ہسپتال کے ایک کمرے کی تصویر

اضلاع کے لحاظ سے خیرپور 22 کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ کراچی شرقی میں 18 اور ملیر میں 15 کیسز سامنے آئے ہیں۔ سکھر میں نو، کورنگی میں سات، کراچی جنوبی میں چھ، حیدرآباد اور کراچی وسطی میں پانچ پانچ، کراچی غربی میں چار، جبکہ گھوٹکی اور کشمور میں تین تین کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں پانچ، اپریل میں 31، مئی میں دو، جون میں چار، جولائی میں سات، اگست میں 17، ستمبر میں 20 اور اکتوبر میں 19 منکی پاکس کے کیسز رپورٹ ہوئے۔

لیبارٹری ذرائع کی فہرست میں ہوم وزٹ کے ذریعے حاصل کردہ نمونوں سے 26، آغا خان یونیورسٹی سے 23، سی ایل ایف سکھر سے تین، گمبٹ کی ڈائگنوسٹک اینڈ ریسرچ لیبارٹری سے دو اور انڈس ہسپتال کراچی سے ایک کیس درج ہے۔

منکی پاکس کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق منکی پاکس یا ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے۔ اس کی عام علامات میں بخار، سر درد، جسم میں درد، سوجن اور جلد پر دانے یا چھالے نکلنا شامل ہیں، جو بعض اوقات تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق یہ علامات عموماً دو سے چار ہفتے تک برقرار رہ سکتی ہیں۔ چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں بیماری شدید ہونے کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

گائیڈ لائینز میں کہا گیا ہے کہ منکی پاکس بنیادی طور پر متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی جسمانی رابطے، جلد پر موجود دانوں یا زخموں کو چھونے، بوسہ لینے اور بعض صورتوں میں قریب رہتے ہوئے سانس یا منہ سے خارج ہونے والے متعدی ذرات کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ لہذا متاثرہ شخص کے زیرِ استعمال کپڑوں، تولیوں، بستر یا آلودہ طبی آلات سے بھی وائرس منتقل ہونے کا امکان ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق منکی پاکس سے بچاؤ کے لیے ویکسین دستیاب ہیں، لیکن ترجیح ان افراد کو دی جاتی ہے جنھیں انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہو، مثلاً متاثرہ شخص سے قریبی رابطے میں آنے والے افراد اور مخصوص طبی کارکن۔

ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کہتی ہیں کہ زیادہ تر مریضوں کو علامات کم کرنے، درد پر قابو پانے، مناسب غذا اور پانی کی فراہمی اور پیچیدگیوں سے بچاؤ کے لیے طبی نگہداشت دی جاتی ہے۔ شدید بیماری کے خطرے والے مریضوں کو خصوصی علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Source: BBC Urdu · ریاض سہیل

At a glance

Topic
World
Country
🇵🇰 PK
Publisher language
UR
Added to Allnira