مصطفیٰ قریشی کا خصوصی انٹرویو: دس روپے کا پہلا چیک اور سلطان راہی کے قتل سے پہلے آخری گفتگو کی کہانی

کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

مصطفیٰ قریشی

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

    • مصنف, عمیر علوی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت 5 منٹ قبل

  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پاکستانی سنیما میں کچھ مکالمے فلم ختم ہونے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ مصطفیٰ قریشی کا ’نواں آیا ایں، سوہنیا‘ بھی ان میں سے ایک ہے۔ فلم ’مولا جٹ‘ میں نوری نت کے کردار سے وابستہ یہ جملہ آج بھی ان کی پہچان ہے، اور تقریباً نصف صدی گزرنے کے باوجود لوگ ان سے اسے سننے کی فرمائش کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدرآباد میں ریڈیو پاکستان سے وابستہ اس شخص نے کبھی فلمی اداکار بننے کا خواب نہیں دیکھا تھا۔ وہ ریڈیو پر کام کرتے، تعلیم حاصل کرتے اور اپنی زندگی کے لیے ایک مختلف راستے کا تصور رکھتے تھے۔ پھر ایک اتفاق انھیں فلموں میں لے آیا، جہاں سلطان راہی کے ساتھ ان کی جوڑی نے پنجابی سنیما کی تاریخ میں جگہ بنائی۔

لیکن مصطفیٰ قریشی کی کہانی صرف نوری نت تک محدود نہیں۔ اردو اور پنجابی فلموں میں کام کرنے والے اس اداکار نے سندھی زبان اور ثقافت سے اپنی وابستگی بھی برقرار رکھی، سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور پاکستانی فلم انڈسٹری کے عروج و زوال کو قریب سے دیکھا۔

بی بی سی اردو سے گفتگو میں وہ اپنے فلمی سفر، سلطان راہی کے ساتھ رفاقت، انڈین اداکار دھرمیندر سے یادگار ملاقات اور پاکستانی سنیما کے مستقبل پر بات کرتے ہیں۔

’ہماری مولا جٹ غریبانہ تھی، نئی والی امیرانہ‘

فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کو چین میں پذیرائی اور ایوارڈز ملنے پر مصطفیٰ قریشی خوش ہیں، لیکن ان کے نزدیک اس کامیابی کی بنیاد وہ پرانی فلم بھی ہے جس نے مولا جٹ کے کردار اور اس کی دنیا کو مقبول بنایا۔ وہ دونوں فلموں کا موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی ’مولا جٹ‘ غریبانہ تھی، جبکہ نئی فلم امیرانہ۔

مصطفیٰ قریشی کے مطابق ان کی فلم محدود وسائل میں بنائی گئی تھی، جبکہ نئی فلم پر کہیں زیادہ سرمایہ خرچ ہوا۔ نئی فلم میں ایکشن، ماحول اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دی گئی، جبکہ پرانی فلم میں فنکار خود گھوڑے دوڑاتے اور ایکشن کے کئی مناظر انجام دیتے تھے۔

وہ نئی فلم میں حمزہ علی عباسی کی اداکاری کو بھی سراہتے ہیں، جنھوں نے نوری نت کا کردار ادا کیا۔ تاہم ان کے خیال میں اصل کردار کی اپنی ایک شناخت تھی، جسے مکمل طور پر دہرانا آسان نہیں۔ مصطفیٰ قریشی یاد کرتے ہیں کہ جب وہ کراچی میں فلم کے ایک پریمیئر میں شریک ہوئے تو پردے پر حمزہ علی عباسی ان کے مشہور مکالمے بول رہے تھے، مگر ہال میں نعرے مصطفیٰ قریشی کے نام کے لگ رہے تھے۔

ان کے لیے یہ لمحہ اس بات کا ثبوت تھا کہ کردار اور مکالمے وقت کے ساتھ اپنی الگ زندگی اختیار کر لیتے ہیں۔

Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

  • تصویر

  • Pakistan Cricket

  • malik Marjan

  • Gujranwala

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

مصطفیٰ قریشی

نوری نت کے مکالموں کی مقبولیت کا راز

مصطفیٰ قریشی کے مطابق انھوں نے اپنے طویل فلمی کریئر میں تقریباً ساڑھے سات سو فلموں میں کام کیا، جن میں پنجابی فلموں کی تعداد زیادہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی فلموں میں ان کے مخصوص مکالمے یا تکیہ کلام مقبول ہوئے۔ان کے خیال میں ’نواں آیا ایں، سوہنیا‘ جیسے جملوں کی مقبولیت کو صرف اداکاری تک محدود کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ جس دور میں یہ فلمیں بن رہی تھیں، اس کے سیاسی اور سماجی حالات بھی اہم تھے۔

مصطفیٰ قریشی کے مطابق جنرل ضیا الحق کے دور میں اظہارِ رائے پر پابندیاں تھیں اور ادیبوں، شاعروں، فنکاروں اور دانش وروں کو بھی مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسے ماحول میں جب نوری نت جیلر کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے مخصوص انداز میں بات کرتا تھا تو ناظرین کو اس میں اپنی دبی ہوئی آواز سنائی دیتی تھی۔

ان کے نزدیک اسی وجہ سے نوری نت کے مکالمے لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے۔ آج بھی نئی نسل کے ناظرین ان کی پرانی فلمیں دیکھتے ہیں، حالانکہ ان میں سے کئی افراد ان فلموں کی ریلیز کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔

اردو فلموں سے پنجابی سنیما تک

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مصطفیٰ قریشی کی مادری زبان سندھی ہے اور ان کے فنی سفر کا آغاز اردو فلموں سے ہوا۔ انھوں نے محمد علی اور ندیم جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کیا، لیکن پنجابی فلموں کی پیشکش ملنے پر ابتدا میں ہچکچاتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پنجابی ان کی مادری زبان نہیں تو انھیں اس زبان کی فلموں میں کیوں لیا جا رہا ہے؟

ہدایت کار الطاف حسین نے انھیں فلم ’چار خون دے پیاسے‘ میں کردار کی پیشکش کی اور یقین دلایا کہ وہ جس انداز میں بھی پنجابی بولیں گے، اسے قبول کیا جائے گا۔

مصطفیٰ قریشی کے مطابق انھوں نے اپنی ادائیگی کا ایک منفرد انداز اختیار کیا۔ کسی پنجابی لفظ پر الجھن ہوتی تو وہ ہنسی کا مخصوص انداز اپناتے، جس سے انھیں اگلا لفظ یاد کرنے کا موقع مل جاتا۔

یہ انداز رفتہ رفتہ ان کی شناخت بن گیا اور پنجابی سنیما میں ان کے لیے نئے راستے کھلتے گئے۔ اس وقت وہ ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ تھے اور ان کی تعلیم جاری تھی، اس لیے فلموں کی شوٹنگ کے بعد اپنے دوسرے معمولات کی طرف لوٹ جاتے تھے۔

مصطفیٰ قریشی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ان کے تمام کردار منفی نہیں تھے۔ انھوں نے مثبت کردار بھی ادا کیے اور بعض فلموں میں ان کے کردار کی قربانی کو ناظرین نے پسند کیا۔

سلطان راہی کے ساتھ تین دہائیوں کی رفاقت

سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی پنجابی سنیما کی مقبول ترین جوڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ پردے پر دونوں ایک دوسرے کے مخالف نظر آتے تھے، لیکن حقیقی زندگی میں ان کے تعلقات احترام اور دوستی پر مبنی تھے۔

مصطفیٰ قریشی کے مطابق سلطان راہی کا انداز بلند آہنگ تھا۔ وہ زور سے مکالمے بولتے تھے، اور ناظرین بھی انھیں اسی انداز میں دیکھنے کے عادی تھے۔ مصطفیٰ قریشی نے ان کی نقل کرنے کے بجائے اس کے برعکس دھیمے لہجے اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ مکالمے ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔

ریڈیو پاکستان میں حاصل ہونے والی تربیت نے انھیں سکھایا تھا کہ کسی جملے میں کس لفظ پر زور دینا ہے، کہاں توقف کرنا ہے اور خاموشی کو کیسے مؤثر بنانا ہے۔ ان کے خیال میں یہی فرق دونوں اداکاروں کے درمیان ایک منفرد توازن پیدا کرتا تھا۔

یہ شراکت تقریباً تین دہائیوں تک جاری رہی۔ فلموں میں دشمنی دکھانے والے دونوں فنکار کیمرے کے پیچھے ایک دوسرے کا احترام کرتے اور بے تکلفی سے بات کرتے تھے۔

مصطفیٰ قریشی سلطان راہی کی زندگی کے آخری عرصے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھیں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے ساتھی کو کچھ کام جلد مکمل کرنے کی فکر ہے۔ ایک موقع پر انھوں نے سلطان راہی سے پوچھا کہ وہ اتنے بے چین کیوں ہیں۔ سلطان راہی نے بتایا کہ انھیں کچھ کام نمٹانے ہیں اور اسلام آباد جانا ہے۔

مصطفیٰ قریشی نے انھیں یقین دلایا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو وہ دوست کی حیثیت سے مدد کر سکتے ہیں۔ بات مکمل ہونے سے پہلے پہلے مداحوں کی آمد اور پھر شوٹنگ کے لیے بلاوا آ گیا۔ دونوں نے بعد میں بیٹھ کر بات کرنے کا ارادہ کیا، لیکن وہ ملاقات نہ ہو سکی۔

سلطان راہی کو جنوری 1996 میں اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہFILMWORLD

،تصویر کا کیپشنسلطان راہی کو جنوری 1996 میں اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا۔

ریڈیو پاکستان: اداکاری کی پہلی درس گاہ

مصطفیٰ قریشی کہتے ہیں کہ وہ فلموں میں آنے کا ارادہ لے کر نہیں نکلے تھے۔ ان کا اصل تعلق ریڈیو پاکستان سے تھا، جہاں انھوں نے سندھی زبان میں نشریات سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔

ان کا پہلا آن ایئر پروگرام ’اسان جو پاکستان‘ یعنی ’ہمارا پاکستان‘ تھا۔ مصطفیٰ قریشی کے مطابق اس پروگرام کے بعد انھیں دس روپے کا چیک ملا، جسے وہ اپنی ریڈیو ملازمت کی پہلی کمائی قرار دیتے ہیں۔

اس کے بعد وہ ڈراموں، اعلانات، بچوں کے پروگراموں، خطوط کے جوابات اور مذہبی نشریات سمیت مختلف پروگراموں سے وابستہ رہے۔

ریڈیو نے انھیں صرف آواز استعمال کرنا نہیں سکھایا، بلکہ تلفظ، مکالمے کی وضاحت، لفظوں پر زور اور مناسب وقفے کی اہمیت بھی سمجھائی۔ ان کے مطابق ایک جملے کو مؤثر بنانے کے لیے ہر لفظ بلند آواز میں بولنا ضروری نہیں، درست لفظ پر زور دینا اور مناسب جگہ خاموش رہنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

بعد میں یہی تربیت فلموں میں ان کے کام آئی۔

فلمی دنیا میں اتفاقاً آمد

قریشی کا فلمی سفر بھی ایک اتفاق سے شروع ہوا۔ فلم ’آگ کا دریا‘ کا یونٹ حیدرآباد کے قریب شوٹنگ کر رہا تھا، جس میں محمد علی اور شمیم آرا سمیت کئی فنکار شریک تھے۔ مصطفیٰ قریشی اپنے دوستوں کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے گئے تو معروف سنیماٹوگرافر رضا میر نے انھیں دیکھا اور بطور ہدایتکار اپنی آنے والی فلم کے ایک کردار کے لیے منتخب کر لیا۔

مصطفیٰ قریشی کے مطابق ابتدا میں انھوں نے فلم میں کام کرنے سے انکار کیا، کیونکہ انھیں جس کردار کی پیشکش ہوئی، وہ ایک انڈین ہندو شخص کا تھا۔ سنہ 1965 کی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے باعث انھیں اس کردار پر بھی تحفظات تھے۔

بعد میں انھوں نے ڈاکٹر علامہ آئی آئی قاضی سے اس بارے میں بات کی۔ مصطفیٰ قریشی کے مطابق انھوں نے سمجھایا کہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے کردار کو ادا کرنا بذاتِ خود غلط نہیں، فنکار کا کام انسانی کرداروں کو سمجھنا اور پیش کرنا ہے۔

اس گفتگو کے بعد مصطفیٰ قریشی نے رضامندی ظاہر کی اور فلم ’لاکھوں میں ایک‘ میں شمیم آرا کے مقابل ایک اہم کردار ادا کیا۔ یوں ریڈیو سے وابستہ نوجوان فنکار کا فلمی سفر شروع ہوا۔

دھرمیندر سے یادگار ملاقات

مصطفیٰ قریشی کو پاکستانی پنجاب کا شیر کہا جاتا رہا ہے، جبکہ انڈیا میں دھرمیندر بالی وڈ کا ایک بڑا نام تھے۔

مصطفیٰ قریشی یاد کرتے ہیں کہ ایک بار جب وہ لندن گئے ہوئے تھے، تو انھیں ایک فون آیا۔ دوسری طرف موجود شخص پنجابی میں بات کر رہا تھا اور ان سے ان کے ہی انداز میں بات کررہا تھا، جس پر وہ الجھے، لیکن جب اس شخص نے اپنا نام دھرمیندر بتایا تو مصطفیٰ قریشی کو ابتدا میں یقین نہ آیا۔

دھرمیندر نے انھیں اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا۔ مصطفیٰ قریشی کے مطابق انھوں نے ان کا استقبال غیر معمولی گرم جوشی سے کیا اور بتایا کہ ان کی فلمیں ان کی ذاتی لائبریری میں موجود ہیں۔ انھیں ’مولا جٹ‘ کا کردار خاص طور پر پسند تھا۔

دھرمیندر نے یہ بھی بتایا کہ وہ کبھی ’مولا جٹ‘ بنانا اور اس میں مصطفیٰ قریشی کا کردار ادا کرنا چاہتے تھے، لیکن بعد میں انھوں نے فلم کے دوسرے اہم کردار کا انتخاب کیا۔

مصطفیٰ قریشی اس ملاقات کو دونوں ممالک کے فنکاروں کے درمیان احترام اور محبت کی مثال قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق فن کی دنیا میں سرحدوں سے بالاتر ہو کر بھی تعلقات قائم ہو سکتے ہیں۔

سندھ، زبان اور سیاست سے وابستگی

مصطفیٰ قریشی کی زندگی کا ایک اہم پہلو سندھ کی زبان و ثقافت سے وابستگی بھی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ طالب علمی کے زمانے میں انھوں نے ون یونٹ کے خلاف تحریک میں حصہ لیا۔ ان کے مطابق اس وقت سندھ میں ون یونٹ کے قیام اور سندھی زبان کو نصاب سے نکالنے پر شدید اعتراضات تھے۔

مصطفیٰ قریشی سندھی ادبی سنگت سے بھی وابستہ رہے اور زبان کے حق میں دستخطی مہم چلانے کی کوششوں میں شریک ہوئے۔ بعد کے برسوں میں ان کے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے بھی تعلقات رہے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے لیے احترام کا اظہار کرتے ہیں۔

وہ خود کو باقاعدہ سیاست دان نہیں سمجھتے، لیکن کہتے ہیں کہ جب بھی کسی سیاسی یا سماجی مسئلے پر بات کرنے کا موقع ملا، انھوں نے اپنی رائے دی۔ ان کے لیے سندھی زبان اور ثقافت سے وابستگی محض سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ان کی شناخت کا حصہ ہے۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کا مستقبل

مصطفیٰ قریشی کے نزدیک پاکستانی فلم انڈسٹری کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اسے ایک مکمل صنعت کے طور پر چلانے کے لیے ضروری نظام اور منڈی موجود نہیں۔

وہ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب پاکستان میں ہر سال بڑی تعداد میں فلمیں بنتی تھیں اور اس شعبے سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ تھا۔ اب سینما گھروں کی کمی اور فلموں کی محدود نمائش نے صنعت کو نقصان پہنچایا ہے۔ بڑے شہروں میں جدید سینما موجود ہیں، لیکن ٹکٹ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو سکتے ہیں، جبکہ چھوٹے شہروں میں سینما گھروں کی تعداد کم رہ گئی ہے۔

ان کے خیال میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے صرف فلمیں بنانے کی خاطر رقم فراہم کرنا کافی نہیں۔ ایسی مارکیٹ بنانا ضروری ہے جہاں فلمیں مسلسل ریلیز ہوں اور پروڈیوسر اگلی فلم پر کام جاری رکھ سکیں۔

وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلموں کی تیاری کے ساتھ ان کی نمائش، تقسیم اور بیرونِ ملک مارکیٹنگ پر بھی توجہ دی جائے۔ ان کی تجویز ہے کہ پاکستانی سفارت خانوں کے ثقافتی شعبے بیرونِ ملک پاکستانی فلموں کی نمائش اور تقسیم میں کردار ادا کریں۔

قریشی کے مطابق فلموں میں کم کام کرنے کی وجہ ان کی اپنی مرضی سے ریٹائرمنٹ نہیں، بلکہ فلموں کی کمی ہے۔ وہ ساتھی اداکار غلام محی الدین کی بطور ہدایت کار پہلی فلم ’ریڈ لائن‘ میں ایک مختصر مگر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

وہ اپنے بیٹے عامر قریشی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ فلم سازی، لکھنے، ہدایت کاری اور موسیقی سمیت مختلف شعبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم قریشی کے خیال میں پاکستان میں نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔

ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی فلمیں ملک کے اندر بھی دیکھی جائیں اور بیرونِ ملک بھی ان کے لیے منڈی پیدا ہو۔ ان کے نزدیک فلمی صنعت کی بحالی سے نہ صرف فنکاروں کو روزگار ملے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

مصطفیٰ قریشی کے لیے ماضی کی کامیابیاں باعثِ فخر ضرور ہیں، مگر ان کی گفتگو کا مرکزی نکتہ صرف یادوں کو دہرانا نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی سنیما دوبارہ ایسی صنعت بنے جہاں نئی نسل کو کام ملے، تجربہ کار فنکاروں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور فلمیں محض چند منصوبوں تک محدود نہ رہیں۔

نوری نت کے مکالمے آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ مصطفیٰ قریشی کے خیال میں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری بھی اپنی کھوئی ہوئی آواز دوبارہ حاصل کرے۔

Source: BBC Urdu · عمیر علوی

At a glance

Topic
World
Country
🇵🇰 PK
Publisher language
UR
Added to Allnira