مشرق وسطیٰ کے بحران نے پاکستانی بندرگاہوں کو ’ریکارڈ منافع‘ کمانے کا موقع کیسے فراہم کیا؟
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
وقت اشاعت 4 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 6 منٹ
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ، مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی نے خطے کی بحری تجارت کے روایتی راستوں کو متاثر کیا، لیکن اس بحران نے پاکستان کی بندرگاہوں، خصوصاً کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کے لیے ایک غیر متوقع موقع بھی پیدا کیا۔
پورٹ حکام کے مطابق خلیجی ممالک کے لیے جانے والا اور کچھ دیگر ممالک منتقل ہونے والا کارگو بڑی تعداد میں پاکستانی بندرگاہوں کا رخ کرنے لگا، جس کے نتیجے میں نہ صرف ٹرانسشپمنٹ سرگرمیوں میں اضافہ ہوا بلکہ حکام کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ نے منافع اور کارگو ہینڈلنگ کے ’نئے ریکارڈ‘ بھی قائم کیے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر پاکستان اس موقع کو مستقل فائدے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے انفراسٹرکچر، ڈیجیٹلائزیشن اور بندرگاہوں کو درپیش مسائل کو حل کرنا ہو گا۔
خلیجی ممالک کا سامان پاکستانی بندرگاہوں پر
چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد کے مطابق آبنائے ہرمز کے بحران نے پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت دوبارہ اجاگر کر دی۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر ایسی بندرگاہیں ہیں جہاں سے سامان دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچانے کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار ضروری نہیں۔
ان کے مطابق موجودہ بحران کے بعد خلیجی ممالک کی جانب جانے والی تجارت متاثر ہوئی اور اس کارگو کا بڑا حصہ کراچی اور پورٹ قاسم منتقل ہونا شروع ہوا۔
’وہ سامان جو خلیجی ممالک کی طرف جا رہا تھا اور آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب رُک گیا، اس کا ایک بہت بڑا حصہ کراچی کی بندرگاہ پر آیا۔ کچھ وسطی ایشیائی ممالک کا سامان جو ایران کے ذریعے آتا تھا، وہ بھی کراچی کی بندرگاہ پر آیا۔‘
ان کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا کارگو سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
،تصویر کا ذریعہKarachi Port Trust
خلیجی خطے اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے سبب پاکستانی بندرگاہوں پر ٹرانسشپمنٹ میں 120 فیصد کا اضافہ ہوا۔
ٹرانسشمنٹ وہ عمل ہے جس میں بڑے بحری جہاز پاکستان کی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوتے ہیں اور ان کے کنٹینرز کو چھوٹے جہازوں میں منتقل کر کے مختلف ممالک اور چھوٹی علاقائی بندرگاہوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد نے بتایا کہ ’جون 2026 میں ختم ہونے والے مالی سال میں ہم نے ٹرانسشپمنٹ کارگو میں 120 فیصد اضافہ دیکھا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ اس بحران کے دوران کراچی پورٹ نے 120 فیڈر جہاز چلائے جبکہ 180 ایسے جہازوں کو کراچی آنے کی دعوت دی گئی جن کی اصل منزل کراچی نہیں تھی۔
پاکستان اس کاروبار کو مستقل فائدے میں بدلنے کے لیے کر رہا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ کراچی پورٹ پر ٹرانسشپمنٹ کے ہینڈلنگ چارجز میں 80 فیصد تک کمی کی گئی تاکہ علاقائی سطح پر مسابقت بڑھائی جا سکے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ صرف کراچی پورٹ نے حالیہ مالی سال میں اپنی 138 سالہ تاریخ میں منافع اور کارگو ہینڈلنگ کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں اور ’رواں مالی سال میں مزید 10 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔‘
سمندر میں ایندھن کی فراہمی، نئی صنعت کا آغاز
کراچی پورٹ نے اس عرصے میں بنکرنگ سروس کا بھی آغاز کیا، جس کے تحت جہازوں کو بندرگاہ پر لائے بغیر سمندر میں ہی ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے۔
ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد کے مطابق گذشتہ چھ سے آٹھ ماہ میں تقریباً 170 جہازوں کو سمندر میں ایندھن فراہم کیا جا چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف نئی کاروباری سرگرمیاں پیدا ہوں گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے ’کیونکہ بنکرنگ کے لیے آنے والے جہاز دیگر بندرگاہی خدمات بھی حاصل کرتے ہیں۔‘
کاروبار اور منافع میں اضافہ
ماہرین اور پاکستان میں جہاز رانی کے شعبے سے منسلک افراد کہتے ہیں کہ گذشتہ مالی سال میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب پاکستان میں میری ٹائم انڈسٹری کا منافع ساڑھے آٹھ فیصد تک بڑھا ہے۔
پاکستان شپ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین کیپٹن جاوید اقبال کے مطابق کئی برسوں سے بندرگاہوں پر اقتصادی ترقی کی رفتار ڈھائی سے تین فیصد تک محدود تھی لیکن حالیہ بحران کے سبب صورتحال تبدیل ہو گئی۔
’سنہ 2020 سے ہماری گروتھ (مالی ترقی کی شرح) ڈھائی فیصد پر رکی ہوئی تھی، لیکن گذشتہ مالی سال میں ہماری گروتھ ساڑھے آٹھ سے نو فیصد تک پہنچ گئی ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہKarachi Port Trust
ان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ وہ ایمرجنسی کارگو تھا جو سمندری راستوں میں خلل کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر منتقل ہوا۔
تاہم وہ کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باوجود بندگاہوں کے اطراف بنیادی انفراسٹرکچر ایک بڑا مسئلہ ہے۔
’تجارت بڑھتی جا رہی ہے لیکن انفراسٹرکچر ویسے کا ویسا ہے۔ اگر یہ بہتر ہو جائے تو کارگو زیادہ تیزی سے بندرگاہ سے نکلے گا اور ہم مزید کاروبار حاصل کر سکیں گے۔‘
مزدوروں کے لیے زیادہ جہاز، زیادہ روزگار
بندگاہوں پر بڑھتی ہوئی کاروباری سرگرمیوں کے اثرات مزدوروں کی آمدن میں بھی نظر آئے ہیں۔
کراچی پورٹ پر کام کرنے والے مزدور اور یونین کے عہدیدار حسین بادشاہ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد ٹرانسشپمنٹ کارگو میں اضافے کے باعث مزدوروں کو زیادہ کام ملا۔
’اگر پورٹ پر کام کم ہوتا ہے تو مثال کے طور پر میں 10 روز کام کرتا ہوں، اب کام بڑھے گا تو مہینے میں 20 دن کام ملا، تو سمجھیں تنخواہ دگنی ہو گئی۔‘
،تصویر کا ذریعہKarachi Port Trust
ایک اور مزدور محمد ابراہیم کہتے ہیں کہ اضافی کارگو آنے سے مزدوروں کے کام کے دنوں میں اضافہ ہوا۔
’ہم پہلے 12، 13 دن کام کرتے تھے اور اب یہ کام 15 یا 16 دن تک پہنچ گیا ہے، جس سے ہمیں مالی فائدہ ہوا ہے۔‘
کیا پاکستان اس موقع کو مستقل فائدے میں بدل سکتا ہے؟
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کی ریسرچ فیلو ڈاکٹر نازیہ شیر کے مطابق موجودہ اضافہ بظاہر مختصر مدت کا رجحان دکھائی دیتا ہے، لیکن پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع بھی ہے۔
ان کے مطابق سنگاپور اور متحدہ عرب امارات نے اپنی بندرگاہوں کو عالمی سپلائی چین سے جوڑ کر کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان کو بھی اسی سمت میں پیش رفت کرنا ہو گی۔
’کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر کام ہو رہا ہے، لیکن یہ اب بھی سروس چارجز کے اعتبار سے مہنگے ہیں۔ جب یہاں بندرگاہوں سے کارگو آسانی سے منتقل ہو گا تو کاروبار بھی بڑھے گا۔‘
،تصویر کا ذریعہKarachi Port Trust
وہ کہتی ہیں کہ سامان کی بندرگاہوں سے منتقلی میں تاخیر، ناقص انفراسٹرکچر، محدود ڈیجیٹلائزیشن اور بعض مقامات پر سکیورٹی خدشات اب بھی ایسی رکاوٹیں ہیں، جو پاکستان کی بندرگاہوں کو مکمل علاقائی مرکز بننے سے روکتی ہیں۔
اصل چیلنج کیا ہے؟
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ بندرگاہوں کی کامیابی صرف سمندر تک ہی محدود نہیں۔
ان کے مطابق روڈ، ریل اور فضائی رابطوں میں بہتری ناگزیر ہے۔
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ان مسائل کے حل کے لیے کام جاری ہے۔
’کراچی کی بندرگاہ کو شاہراہ بھٹو سے جوڑنے اور کراچی سے پیپری تک 54 کلومیٹر نئی ریل لنک جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ بہتر انفراسٹرکچر سے بندرگاہوں کی استعداد اور کارکردگی دونوں میں اضافہ ہو گا۔
امریکہ ایران تنازع اور آبنائے ہرمز کے بحران نے پاکستان کی بندرگاہوں کو ایک غیر معمولی کاروباری موقع فراہم کیا ہے۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان اس عارضی تبدیلی کو طویل المدتی تجارتی برتری میں بدل پاتا ہے یا نہیں؟ اس کا انحصار بڑی حد تک انفراسٹرکچر، لاگت، کارکردگی اور عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد حاصل کرنے پر ہوگا۔
Source: BBC Urdu · روحان احمد
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira