شوہر کو سرپرائز دینے کے لیے بچے کے ہمراہ میراتھن میں شریک کلثوم بانو: ’بچوں کی پیدائش کے بعد زندگی ختم نہیں ہو جاتی‘
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
،تصویر کا ذریعہBASIT ZARGAR/ BBC
- مصنف, جہانگیر علی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
وقت اشاعت 2 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 8 منٹ
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر سرینگر میں ایک خاتون نے جب اپنے بچے کو جسم کے ساتھ باندھ کر میراتھن میں دوڑنا شروع کیا تو شرکا اور تماشائیوں کی نظریں اُن پر مرکوز ہو گئیں۔
میراتھن کے دوران اُن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں، تاہم 34 سالہ کلثوم بانو کا یہ فیصلہ محض ایک منفرد منظر پیش کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے عزم، حوصلے اور جدوجہد کی ایک متاثر کن داستان پوشیدہ ہے۔
کلثوم بانو کا کہنا ہے کہ بچے کو ساتھ لے کر دوڑنے کے پیچھے ان کا ایک خاص مقصد تھا، اور وہ سمجھتی ہیں کہ اس دوڑ کے ذریعے شاید وہ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب بھی ہو گئی ہیں۔
25 اکتوبر کو سرینگر میں منعقد ہونے والی میراتھن میں دو مقابلے شامل تھے: فل میراتھن (42.195 کلومیٹر طویل دوڑ) اور ہاف میراتھن (21 کلومیٹر طویل دوڑ)۔ اس ایونٹ میں دو ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔
مقابلے کا آغاز سرینگر کے پولو گراؤنڈ سے ہوا، جہاں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے سبز جھنڈی دکھا کر میراتھن کا آغاز کیا۔
سرینگر میں کرائے کے ایک گھر میں رہنے والی کلثوم بانو کے بچے کو ساتھ باندھ کر میراتھن میں دوڑنے کے فیصلے پر لوگوں کی رائے مختلف ہے۔
کلثوم کا تعلق انڈین ریاست گجرات کے ضلع سورت سے ہے۔ سنہ 2012 میں اُن کی شادی ضلع بانڈی پورہ کی وادی گریز سے تعلق رکھنے والے امتیاز لون سے ہوئی۔ شادی سے قبل وہ ایک نجی سکول میں تدریس کے شعبے سے وابستہ تھیں اور ان کا خواب فوج میں شمولیت اختیار کرنا تھا۔
ان کے شوہر امتیاز لون سی آر پی ایف میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس وقت اروناچل پردیش میں تعینات ہیں۔ کلثوم کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین برس سے وہ شدید دباؤ اور ذمہ داریوں کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں کیونکہ تینوں بچوں کی پرورش کی زیادہ تر ذمہ داری انھیں اکیلے نبھانی پڑتی ہے۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اُن کا سب سے چھوٹا بیٹا ایک سال کا ہے، بیٹی دو سال کی ہے جبکہ بڑا بیٹا عبداللہ امتیاز 12 برس کا ہے اور آٹھویں جماعت میں زیرِ تعلیم ہے۔
کلثوم کہتی ہیں کہ بچوں کی پرورش کے دوران ان کی اپنی خواہشیں اور خواب پسِ پشت چلے گئے۔
بی بی سی نیوز ہندی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ’میرے دو بچوں کی پیدائش ایسے وقت میں ہوئی جب میں بالکل اکیلی تھی کیونکہ میرے شوہر ڈیوٹی پر تھے۔ کئی بار مجھے خود سے نفرت ہونے لگتی تھی۔ میری بھی اپنی خواہشیں اور خواب تھے، لیکن مجھے اپنے بچوں کی خاطر ان سے دستبردار ہونا پڑا۔‘
کلثوم اس وقت سرینگر کے ایک کلب میں جزوقتی فٹنس ٹرینر کے طور پر کام کرتی ہیں۔
اسی کلب میں ان کا بڑا بیٹا عبداللہ سکیٹ بورڈنگ کی تربیت حاصل کر رہا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کا دن صبح تقریباً تین بجے شروع ہوتا ہے۔ سب سے پہلے وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو دودھ پلاتی ہیں، پھر نماز ادا کرتی ہیں۔ اس کے بعد روزمرہ کی مصروفیات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
ان کے بقول ’پھر میری بیٹی جاگ جاتی ہے۔ اسے سنبھالنے کے بعد میرا بیٹا جاگتا ہے، جسے مجھے سکول کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔ ایک بچہ سو رہا ہوتا ہے تو دوسرے کے کھیلنے کا وقت ہو جاتا ہے اور تیسرے کو سکول بھیجنا ہوتا ہے۔ ان تمام مصروفیات کے درمیان چند لمحے ہی ایسے ملتے ہیں جو میں اپنے لیے نکال پاتی ہوں۔‘
کلثوم کا کہنا ہے کہ ایک فوجی کی اہلیہ کی زندگی جدوجہد اور قربانیوں سے بھری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق لوگ اکثر صرف ظاہری منظر دیکھتے ہیں اور اس حقیقت سے واقف نہیں ہوتے کہ کسی کی ذاتی زندگی میں کتنی مشکلات اور آزمائشیں موجود ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’باہر سے دیکھنے والے ہماری زندگی کی حقیقت نہیں جانتے۔ اگر میرے شوہر ایک جنگجو ہیں تو میں بھی ایک جنگجو ہوں۔ میں دنیا سے، معاشرے سے اور خود اپنے آپ سے مسلسل لڑتی رہتی ہوں۔ ایک بیوی، ماں اور خاتون کی حیثیت سے مجھے بہت سی ذمہ داریاں اکیلے نبھانی پڑتی ہیں، جو آسان نہیں۔ ان تمام حالات کے باوجود میراتھن میں حصہ لینا میرے لیے ہمت اور عزم کا امتحان تھا۔‘
کلثوم کی پہلی میراتھن
کلثوم نے میراتھن میں حصہ لینے کے لیے باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی انھوں نے پہلے سے اس دوڑ کا کوئی خاص منصوبہ بنا رکھا تھا، اگرچہ وہ روزمرہ کی بنیاد پر ورزش ضرور کرتی تھیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ میراتھن میں شرکت کا فیصلہ اچانک کیا گیا۔
’میرے دوست عبداللہ اور کوچ سجاد کے کہنے پر میں نے ایونٹ سے صرف ایک دن پہلے ہاف میراتھن کے لیے رجسٹریشن کروائی۔ میں نے اس بارے میں اپنے شوہر کو بھی نہیں بتایا تھا کیونکہ میں انھیں حیران کرنا چاہتی تھی۔ مجھے امید تھی کہ میری تصاویر یا ویڈیوز ان تک ضرور پہنچ جائیں گی۔‘
کلثوم کے کوچ سجاد احمد خان ایک سپورٹس کلب چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقات کلثوم سے اس وقت ہوئی جب ان کا بڑا بیٹا عبداللہ سکیٹ بورڈنگ کی تربیت کے لیے ان کی کلاس میں آنے لگا۔
سجاد احمد خان کے مطابق، ’جب بھی ہم کوئی ایونٹ منعقد کرتے، کلثوم اپنے چھوٹے بچے کو ساتھ لے کر آتیں کیونکہ ان کے پاس بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی اور موجود نہیں تھا۔ میں ان کی صلاحیتوں سے واقف تھا، اسی لیے مجھے لگا کہ انھیں میراتھن میں ضرور حصہ لینا چاہیے۔‘
تاہم دوڑ کے روز صبح صورتِ حال بدل گئی۔ کلثوم کی بیٹی کی طبیعت خراب تھی، جس کے باعث انھیں محسوس ہوا کہ شاید وہ میراتھن میں شرکت نہ کر سکیں۔
کلثوم کے بقول، ’مجھے لگا کہ میں دوڑ مکمل نہیں کر پاؤں گی، لیکن عبداللہ نے کہا کہ وہ وہیں رک جائے گا اور اپنی بہن کا خیال رکھے گا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میرے لیے میراتھن سے زیادہ آپ اہم ہیں۔‘
بیٹے کی اس حوصلہ افزائی نے کلثوم کا اعتماد بڑھایا اور بالآخر انھوں نے ہاف میراتھن میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا، جو بعد میں ان کی زندگی کے یادگار تجربات میں سے ایک ثابت ہوا۔
’میراتھن سے زیادہ اہم میرا بچہ تھا‘
کلثوم نے بتایا کہ اس کے بعد انھوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو گرم کپڑوں میں لپیٹا اور بیبی کریئر کی مدد سے اپنے جسم کے ساتھ باندھ لیا اور ایونٹ کے لیے پہنچ گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میراتھن میں دوڑ کے دوران انھیں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا کیونکہ ان کا بیٹا پرسکون رہا۔
اس دوران میراتھن دیکھنے آئے لوگوں نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی اور آگے بڑھتے رہنے کو کہا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے صرف اس وقت برا لگا جب وہ بھوک کی وجہ سے بچہ رونے لگا۔ اس لیے میں سرینگر کے لال چوک میں کلاک ٹاور کے قریب رُکی اور اسے دودھ پلایا۔ اس کی وجہ سے میں پیچھے رہ گئی۔ مجھے لگا کہ میں پیچھے ہوتی جا رہی ہوں اور شاید دوڑ مکمل نہ کر سکوں۔ لیکن میری ترجیح میرا بچہ تھا۔ باقی سب بعد میں آتا ہے۔ اگر وہ پرسکون نہ رہتا تو شاید میں دوڑ چھوڑ دیتی۔ میں اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچانا چاہتی تھی۔‘
’اگر میں دوڑ مکمل کر پائی تو اس میں 99 فیصد کردار اس کے پرسکون رہنے کا تھا، جبکہ میری اپنی کوشش صرف ایک فیصد تھی۔‘
تنقید
تقریباً تین گھنٹوں میں دوڑ مکمل کرنے کے بعد کلثوم کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
اس پر لوگوں کی مختلف آرا سامنے آئیں۔ جہاں کچھ لوگوں نے ان کی تعریف کی، وہیں بعض کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسا کر کے بچے کو خطرے میں ڈال دیا۔
کلثوم اس پر کہتی ہیں کہ ’میں اپنی تنقید کرنے والوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ میں کسی مجبوری میں ایسا نہیں کر رہی تھی۔ یہ کر دکھانے کا جذبہ تھا۔ میں سب سے پہلے ایک ماں ہوں اور کسی کو یہ حق نہیں کہ مجھے بتائے مجھے کیا کرنا چاہیے یا کیا نہیں۔‘
کلثوم کے کوچ سجاد خان کہتے ہیں، کہ ’لوگوں نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض تشہیر حاصل کرنے کی کوشش تھی، حالانکہ اپنے بیٹے کو ساتھ رکھنا ان کی مجبوری تھی۔ لوگ آسانی سے تبصرہ کر دیتے ہیں۔ میں پورے وقت ان کے ساتھ تھا تاکہ یہ یقینی بنا سکوں کہ وہ خیریت سے ہیں۔ ہر کہانی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ کسی بھی بات پر تبصرہ کرنے سے پہلے ہمیں دونوں پہلوؤں کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘
کلثوم کہتی ہیں کہ ان کے بچے اس میراتھن کو زندگی بھر یاد رکھیں گے۔
’میں نہیں چاہتی کہ میرے بچے کمزور بنیں۔ میں انھیں اس طرح تیار کر رہی ہوں کہ وہ مشکل حالات میں بھی خود کو ڈھالنا سیکھیں۔ مستقبل میں کیا ہوگا، یہ تو نہیں کہا جا سکتا، لیکن میرے بچوں کو مکمل طور پر مضبوط ہونا چاہیے۔‘
’مقصد خواتین کو پیغام دینا بھی تھا‘
کلثوم نے بتایا کہ میراتھن میں حصہ لینے کے پیچھے ان کا ایک مقصد خواتین کو یہ پیغام دینا بھی تھا کہ اگر وہ تین بچوں کی ماں ہونے کے باوجود میراتھن میں حصہ لے سکتی ہیں تو دوسری خواتین بھی ایسا کر سکتی ہیں۔
کلثوم کہتی ہیں کہ ’بعض خواتین کو لگتا ہے کہ بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی زندگی ختم ہو گئی ہے۔ اگرچہ ہم اور کچھ نہ کر سکیں، لیکن کم از کم اپنے بچوں، خاندان یا معاشرے کے لیے اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ کھیلوں یا دوسری سرگرمیوں میں حصہ لے کر اپنا ذہنی دباؤ کم کریں۔‘
’ہم ان میں اپنا بچپن دیکھ سکتے ہیں۔ جو چیزیں ہم اپنے بچپن میں نہیں کر سکے، انھیں ہم ان کے ذریعے دیکھ اور جیتے جاگتے محسوس کر سکتے ہیں۔‘
اس ایونٹ میں جموں و کشمیر کے 1,221 ایتھلیٹس، انڈیا کی دیگر ریاستوں کے 513 ایتھلیٹس اور 12 ممالک کے 73 بین الاقوامی ایتھلیٹس نے حصہ لیا۔
ایمانوئل سیکوکو ندیوا نے مردوں جبکہ شیلا جیپکوسگے چیسانگ نے خواتین کے مقابلے میں فل میراتھن کا ٹائٹل جیتا۔
دونوں ایتھلیٹس کا تعلق کینیا سے ہے۔
Source: BBC Urdu · جہانگیر علی
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira