ستارہِ امتیاز کے لیے نامزد پہلی پاکستانی ٹرانس جینڈر نایاب علی: تیزاب کے حملے سے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی تک
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں
،تصویر کا ذریعہx/nayyabalipk
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
وقت اشاعت 2 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 7 منٹ
رواں ماہ کی تین اور چار کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام پاکستان کے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق (سی ای ایس سی آر) سے متعلق رپورٹ کے جائزے کا اجلاس منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں حکومتِ پاکستان کے وفد میں ممتاز انسانی حقوق کی کارکن اور ٹرانس جینڈر خاتون نایاب علی بھی شامل ہوں گی۔
وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے رواں ماہ جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے چار رکنی وفد کی سربراہی وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کریں گے اور اس وفد میں ناب علی ٹرانسجیڈرز کے حقوق کی کنسلٹنٹ کی حیثیت سے شامل کی گئی ہیں۔
یہ پاکستان کے لیے اس حوالے سے ایک اہم اعزاز ہے کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے معاہدوں کے جائزے کے اجلاس میں پاکستان دوسری مرتبہ کسی ٹرانس جینڈر خاتون کو اپنے سرکاری وفد میں شامل کر رہا ہے۔
اس سے قبل فروری 2020 میں عائشہ مغل نے وزارتِ انسانی حقوق میں ٹرانس جینڈر ایکسپرٹ کی حیثیت سے اقوامِ متحدہ کی خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق کمیٹی (سی ای ڈی اے ڈبلیو) کے اجلاس میں پاکستان کے سرکاری وفد کی نمائندگی کی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے اس وقت عائشہ مغل کی شمولیت کو اقوامِ متحدہ کے معاہداتی جائزے میں کسی ٹرانس جینڈر فرد کی پہلی سرکاری شرکت قرار دیا تھا۔
عائشہ مغل کے بعد اب نایاب علی پاکستانی وفد کا حصہ ہوں گی۔
تاہم نایاب علی کے لیے اس مقام تک پہنچنے کا سفر آسان نہیں رہا۔ ان کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے انھیں خاموش رہنے کے بجائے اپنے حقوق اور پوری برادری کے لیے آواز اٹھانے پر آمادہ کیا۔
وہ واقعہ جس نے نایاب کی زندگی کا رخ بدل دیا
نایاب علی بتاتی ہیں کہ اسلام آباد منتقل ہونے سے پہلے وہ اوکاڑہ میں اپنے گرو کے پاس رہتی تھیں۔ اسی دوران ایک ٹرانس جینڈر خاتون کو ایک تقریب کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور اس پر شدید تشدد بھی کیا گیا۔
ان کے مطابق متاثرہ خاتون مدد کے لیے ان کے گرو کے پاس پہنچی تو گرو نے کہا کہ ٹرانس جینڈر افراد کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور اس معاملے پر آواز اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نایاب علی کہتی ہیں ’وہ ٹرانس جینڈر بہت مایوس ہوئیں اور انھوں نے مجھ سے کہا کہ نایاب تم پڑھی لکھی ہو، بات بھی کرتی ہو، تم میری مدد کرو۔ میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر اس کے ساتھ مقامی پولیس سٹیشن چلی گئی۔‘
ان کے مطابق مقدمہ درج کروانے میں مشکلات پیش آئیں، تاہم بالآخر مقدمہ درج ہوگیا۔ بعد میں ان کی اطلاع کے بغیر ہی فریقین میں راضی نامہ ہوگیا اور مقدمہ ختم کردیا گیا۔
نایاب علی کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔
،تصویر کا ذریعہx/nayyabalipk
2016 میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے مرید والا میں ایک میوزک فیسٹیول کے دوران، جب نایاب پرفارم کررہی تھیں، ان پر تیزاب پھینکا گیا۔ ان کے جسم کے مختلف حصے جھلس گئے اور انھیں شدید زخم آئے۔
وہ بتاتی ہیں کہ کئی ماہ تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہیں جبکہ علاج کے دوران بھی انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
’یہ وہ دور تھا جب میرے دل و دماغ میں طوفان برپا تھا۔ میں اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ اسی دوران میں نے فیصلہ کیا کہ اب چپ نہیں رہنا، بات کرنی ہے اور لڑنا ہے۔ زندگی میں ہر مشکل سہہ چکی تھی۔‘
بچپن میں گھر سے بے دخلی کے باوجود تعلیم کا سفر جاری رکھا
نایاب علی کا کہنا ہے کہ ان کا بچپن بھی دوسرے بہت سے ٹرانس جینڈر افراد کی طرح محرومیوں اور سماجی رویوں کی نذر ہوا۔ والدین نے انھیں گھر سے الگ کر دیا تو انھوں نے گرو کے پاس پناہ لی۔
وہ کہتی ہیں کہ گرو کے پاس رہتے ہوئے انھوں نے دیگر افراد کی طرح شادی بیاہ اور تقریبات میں رقص، گانے اور مبارکباد دینے کا کام کیا، لیکن ان کے لیے تعلیم حاصل کرنا ہمیشہ اولین ترجیح رہی۔
خاندانی اور معاشرتی مخالفت کے باوجود انھوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ نایاب کے مطابق سکول، کالج اور یونیورسٹی میں بھی انھیں تمسخر، ہراسانی اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود انھوں نے تعلیم کا سلسلہ منقطع نہیں ہونے دیا۔
ان کی زندگی کا یہی پہلو آگے چل کر ان کی سماجی جدوجہد کی بنیاد بنا۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے محسوس کیا کہ ٹرانس جینڈر افراد کو صرف تحفظ ہی نہیں بلکہ تعلیم، روزگار اور معاشرے میں باعزت مقام بھی درکار ہے۔
تیزاب کے حملے سے صحت یاب ہونے کے بعد نایاب علی نے اپنی جدوجہد کو منظم شکل دی۔ انھوں نے اوکاڑہ میں خواجہ سراؤں کے لیے ایک کمیونٹی سینٹر قائم کیا، جہاں بنیادی تعلیم، خواندگی، فنی تربیت اور زندگی گزارنے کی مہارتوں سے متعلق سرگرمیاں شروع کی گئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لیے بھی اہم تھا کہ روایتی تعلیمی اداروں میں داخلے اور سماجی قبولیت کے مسائل کے باعث خواجہ سرا افراد کی بڑی تعداد تعلیم سے محروم رہ جاتی ہے۔
نایاب علی نے 2018 کے عام انتخابات میں اوکاڑہ کے حلقے این اے 142 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے بھی حصہ لیا۔ اس طرح انھوں نے خواجہ سرا افراد کی سیاسی نمائندگی اور انتخابی عمل میں شمولیت کے لیے بھی عملی قدم اٹھایا۔
،تصویر کا ذریعہx/nayyabalipk
ٹرانس جینڈر افراد کے متعلق قانون سازی اور پولیس اصلاحات
پاکستان میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق سے متعلق قانون سازی کے عمل میں بھی نایاب علی نے کردار ادا کیا۔ انھوں نے ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے مسائل اور مطالبات کو قانونی اور پالیسی کی شکل دینے میں معاونت کی اور ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ 2018 کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔
بعد ازاں انھوں نے انسانی حقوق کی وزارت اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام سمیت مختلف اداروں کے ساتھ مشاورتی اور پالیسی سطح پر کام کیا۔
اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد انھوں نے خواجہ سرا افراد کے تحفظ کے لیے پولیس کے ساتھ بھی کام کیا۔ وہ اسلام آباد پولیس کے ٹرانس جینڈر پروٹیکشن یونٹ کی انچارج اور جینڈر پروٹیکشن یونٹ کی اضافی انچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ان کی کاوشوں میں خواجہ سرا افراد کے خلاف تشدد کے واقعات میں پولیس کے ردعمل کو بہتر بنانا، تحفظ کے مراکز، تربیت اور پولیس کے لیے طریق? کار وضع کرنا شامل ہے۔
،تصویر کا ذریعہx/nayyabalipk
ہارورڈ سے عالمی اعزازات تک
نایاب علی کی جدوجہد کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا۔ 2025–2026 میں انھیں ہارورڈ یونیورسٹی کے ہارورڈ کینیڈی سکول کے کیر-ریان سینٹر فار ہیومن رائٹس میں گلوبل ایل جی بی ٹی کیو ہیومن رائٹس فیلو منتخب کیا گیا، جہاں انھوں نے انسانی حقوق، صنفی مساوات اور مسلم اکثریتی معاشروں میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق سے متعلق تحقیقی کام کیا۔
وہ کامن ویلتھ کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں اور اقوامِ متحدہ کے مختلف عالمی فورمز پر بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ انھیں 2020 میں فرانس اور جرمنی کی حکومتوں کی جانب سے فرینکو جرمن پرائز فار ہیومن رائٹس اینڈ دی رول آف لا سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انھیں گالاز انٹرنیشنل ایکٹوسٹ ایوارڈ اور دیگر بین الاقوامی اعزازات بھی مل چکے ہیں۔
ستارہ امتیاز کے لیے نامزد ہونے والی پہلی ٹرانس جینڈر
نایاب علی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے صدرِ پاکستان نے 14 اگست 2026 کو انھیں سماجی خدمات کے شعبے میں ستارہ امتیاز دینے کا اعلان کیا۔ اس طرح وہ اس اعزاز کے لیے نامزد ہونے والی پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر شخصیت بن گئیں۔ اعزاز دینے کی باضابطہ تقریب 23 مارچ 2027 کو منعقد ہوگی۔
جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں ان کی شرکت اس جدوجہد کا ایک اور اہم مرحلہ ہے۔ ایک ایسی خاتون جسے بچپن میں اپنے گھر سے بے دخل ہونا پڑا، جس نے ساتھی ٹرانس جینڈر خاتون کے لیے آواز اٹھانے پر تیزاب کے حملے کا سامنا کیا، وہ آج پاکستان کے سرکاری وفد میں شامل ہوکر عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کررہی ہیں۔
ان کی کہانی صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ ان افراد کے حقوق، تعلیم، تحفظ اور مساوی شہری حیثیت کی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے جنہیں معاشرے میں اکثر بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
Source: BBC Urdu · محمد زبیر خان
At a glance
- Topic
- World
- Country
- 🇵🇰 PK
- Publisher language
- UR
- Added to Allnira