’ایک غلط مشورہ‘: تین سال سے ایک جزیرے پر پھنسی خاتون کی کہانی جو اپنے ملک بھی نہیں جا سکتیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

Ruchira Ranasingha

،تصویر کا ذریعہSupplied/AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنروچیرا رناسنگھا تین برس سے کک جزائر میں رہنے پر مجبور ہیں
    • مصنف, عائشہ پریرا اور دنوک ہیواویتھرانا
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت 6 منٹ قبل

  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

جب روچیرا رناسنگھا تقریباً ایک دہائی قبل سری لنکا سے روانہ ہوئیں تو وہ شاید کبھی تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں کہ وہ جنوبی بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے جزائر کے مجموعے میں پھنس جائیں گی۔

50 سالہ خاتون گذشتہ تین برس سے کک جزائر میں پھنسی ہوئی ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سری لنکا واپس جانے کے لیے بے حد بے تاب ہیں اور یہاں تک کہ یہ پیشکش بھی کر چکی ہیں کہ وہ ’ہتھکڑیاں لگا کر، باندھ کر اور منہ بند کر کے‘ بھی جانے کو تیار ہیں۔

رناسنگھا نیوزی لینڈ میں آباد ہونے کی امید رکھتی تھیں۔

اُن کے بقول پناہ کی درخواست ددینے کے بعد اُنھوں نے ایک امیگریشن مشیر کی سفارش پر ورک ویزا کی درخواست دی اور عارضی طور پر نیوزی لینڈ چھوڑ دیا۔ لیکن کک جزائر پہنچنے کے بعد ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

اور نیوزی لینڈ چھوڑ کر اُنھوں نے اپنے موجودہ پناہ سے منسلک ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی بھی کر دی۔

اب نیوزی لینڈ انھیں ایسا ٹرانزٹ ویزا جاری کرنے سے انکار کر رہا ہے جس کی مدد سے وہ سری لنکا واپس پرواز کر سکیں۔ آسٹریلیا بھی انکار کر رہا ہے۔

کک جزائر سے جن دیگر بین الاقوامی مقامات تک وہ پرواز کر سکتی ہیں، یعنی تاہیتی اور ہوائی، ان کے لیے ویزا کی کسی بھی درخواست پر کارروائی سے قبل نیوزی لینڈ میں بائیو میٹرک معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔ لہذا ان کے پاس وہاں سے نکلنے کا کوئی قابلِ عمل راستہ نہیں ہے۔

Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

  • LIVE

  • LIVE

  • Libya

  • 10 روپے نوٹ، سکہ

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

وہ آنسوؤں کے ساتھ کہتی ہیں: ’میرا بیٹا، جو میری واحد اولاد ہے، نومبر میں شادی کر رہا ہے اور میں اس کی شادی میں ضرور شامل ہونا چاہتی ہوں۔ میری والدہ میری حالت کے باعث اتنی پریشان ہیں کہ مسلسل ہسپتال آتی جاتی رہتی ہیں۔‘

’وہ مجھ سے جو بھی کہیں گے، میں کرنے کو تیار ہوں۔ میں صرف گھر جانا چاہتی ہوں۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہSupplied

رناسنگھا نے سری لنکا کیوں چھوڑا؟

رناسنگھا نے 2018 میں سری لنکا اس وقت چھوڑ دیا تھا جب کاروباری نقصان کے باعث انھیں اپنی چھوٹی ٹی شرٹ فیکٹری بند کرنا پڑی۔

قرضے چکانے میں مشکلات کے باعث وہ ہانگ کانگ منتقل ہو گئیں جہاں اُنھوں نے بزرگ افراد اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی گھریلو معاون کے طور پر کام کیا۔

ان کے بھائی نے بی بی سی سنہالا کو بتایا کہ وہ شدید مالی دباؤ کا شکار تھیں۔

اُنھوں نے مزید بتایا کہ ان کے شوہر منشیات کے عادی تھے اور تقریباً سات سال قبل فوت ہو گئے تھے۔

دسمبر 2022 میں رناسنگھا نیوزی لینڈ گئیں، جہاں ان کے مطابق وہ دو ماہ کے وزٹ ویزا پر اپنے ایک کزن کے ساتھ رہیں۔

جب ویزا کی مدت ختم ہونے کے قریب پہنچی تو ان کے مطابق ایک امیگریشن مترجم نے سری لنکا میں قرض دہندگان کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا ہونے کی بنیاد پر انھیں پناہ کی درخواست دینے میں مدد دی۔

انھیں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ایک ’اوپن ورک ویزا‘ دیا گیا، جس کے تحت وہ ایک سال تک تقریباً کسی بھی آجر کے لیے کام کر سکتی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنکُک آئی لینڈز اپنے ساحلوں اور آتش فشاں چوٹیوں کے لیے جانا جاتا ہے. لیکن روچیرا رناسنگھا یہاں ایک غیر ارادی مہمان ہیں۔

’تباہ کن فیصلہ‘

رناسنگھا کے مطابق انھیں ایک ریستوران میں ملازمت مل گئی جس نے بعد میں ان کے لیے ملازمت پر مبنی ویزا کی کفالت کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور ان کا خیال تھا کہ اس سے انھیں طویل مدتی استحکام مل جائے گا۔

لیکن چونکہ نیوزی لینڈ میں پناہ کے متلاشی افراد عام طور پر اپنی درخواست زیرِ التوا ہونے کے دوران دیگر ویزوں کے لیے درخواست نہیں دے سکتے، اس لیے ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

اسی موقع پر اُنھوں نے ’امیگریشن اینڈ سیکریٹریل سروسز‘ نامی فرم سے رابطہ کیا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس نے انھیں بتایا کہ ملازمت پر مبنی ویزا کی نئی درخواست بیرونِ ملک سے دی جا سکتی ہے۔

بی بی سی کی جانب سے دیکھی گئی ای میل خط و کتابت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرم کی منیجر سلویان گیلنٹ نے کہا تھا کہ رناسنگھا کے ملک چھوڑنے کے فوراً بعد وہ یہ عمل شروع کر دیں گی۔

چنانچہ اُنھوں نے درخواست جمع کروانے کے دوران مختصر قیام کے لیے کک جزائر کا رخ کیا۔ یہ فیصلہ تباہ کن ثابت ہوا۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھیں دوبارہ ملازمت پر مبنی ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا اور نیوزی لینڈ چھوڑ کر اُنھوں نے اپنے موجودہ ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی بھی کر دی تھی۔

نیوزی لینڈ کے حکام نے واضح کر دیا کہ مستقبل میں انھیں کوئی ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔

گیلنٹ نے دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے رناسنگھا کی جانب سے متعدد کوششیں کیں، جن میں اُس وقت کے نیوزی لینڈ کے وزیرِ امیگریشن کرس پینک سمیت سیاست دانوں کو خطوط لکھنا بھی شامل تھا۔

لیکن بالآخر رناسنگھا کے مطابق گیلنٹ نے تسلیم کیا کہ صورتحال ان کی غلطی کے باعث پیدا ہوئی اور انھیں بتایا کہ ’اب وہ مزید کچھ نہیں کر سکتیں۔‘

رنا سنگھا کہتی ہیں: ’اُنھوں نے کہا کہ میرے لیے بہتر یہی ہے کہ میں گھر واپس چلی جاؤں۔ وہاں میرے لیے کوئی چیز باقی نہیں تھی، اس لیے میں راضی ہو گئی۔‘

لیکن جب وہ سری لنکا جانے کے لیے ایئر نیوزی لینڈ کا ٹکٹ لے کر ہوائی اڈے پہنچیں تو انھیں بتایا گیا کہ نیوزی لینڈ کے ٹرانزٹ ویزا کے بغیر وہ پرواز میں سوار نہیں ہو سکتیں۔

نیوزی لینڈ کے ٹرانزٹ ویزا کے لیے ان کی تین درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ انھیں یقین نہیں کہ وہ نیوزی لینڈ چھوڑ دیں گی۔

آسٹریلیا کے ٹرانزٹ ویزا کے لیے بھی ان کی چار درخواستیں مسترد ہو گئیں۔ اپنی ایک مسترد شدہ درخواست میں نیوزی لینڈ نے انھیں متبادل راستوں پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔

لیکن امریکی ریاست ہوائی اور فرانسیسی پولینیشیا کے جزیرے تاہیتی دونوں نے انھیں بتایا کہ ویزا پر کارروائی سے قبل انھیں بائیو میٹرک معلومات فراہم کرنا ہوں گی، اور یہ کام صرف نیوزی لینڈ میں ذاتی طور پر کیا جا سکتا ہے۔

نیوزی لینڈ میں ان کی تازہ ترین درخواست، جس میں متبادل راستوں کی تمام تفصیلات، ان کے بیٹے کی آئندہ شادی اور والدہ کی بگڑتی صحت کا ذکر تھا، وہ بھی مسترد کر دی گئی۔

وہ روتے ہوئے کہتی ہیں: ’میں ٹکٹوں پر بہت زیادہ پیسہ ضائع کر چکی ہوں۔ تقریباً چار برس سے میں ایک کے بعد ایک ویزا کی درخواست دے رہی ہوں لیکن کچھ بھی کامیاب نہیں ہوا۔‘

کک جزائر میں طویل قیام

آکلینڈ سے صرف چار گھنٹے کی مسافت پر واقع ان جزیروں کے مجموعے میں، جو اپنے وسیع ریتیلے ساحلوں اور دشوار گزار آتش فشانی چوٹیوں کے لیے معروف ہیں، رناسنگھا اپنی مرضی کے بغیر مقیم رہی ہیں۔

ان کے بقول وہ اپنی جیسی صورتحال کے دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ خوش قسمت ہیں کیونکہ ان کا ہوٹل انھیں عملے کی رہائش گاہ میں مفت قیام کی اجازت دے رہا ہے جبکہ مقامی لوگ انھیں خوراک اور کپڑے بھی فراہم کرتے ہیں۔

ان کے مطابق ہوٹل کے ایک ڈائریکٹر نے انھیں سلائی مشین بھی دی، جس سے وہ تھوڑی بہت آمدنی حاصل کر لیتی ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میری والدہ ہمیشہ کہتی ہیں کہ میں نے ضرور کوئی اچھا کام کیا ہو گا کہ میں ایسی جگہ پر ہوں جہاں لوگوں نے میرے ساتھ اتنی مہربانی کی ہے۔‘

لیکن اس سے قید میں ہونے کا احساس کم نہیں ہوتا۔ رناسنگھا کہتی ہیں کہ ذہنی دباؤ ان کی صحت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’مجھے خوف ہے کہ میرے ساتھ کچھ ہونے والا ہے۔‘

آکلینڈ میں مقیم امیگریشن قانون کے ماہر الاسٹیر مک کلائمونٹ کہتے ہیں: ’سچ کہوں تو مجھے اس مسئلے کا حل نظر نہیں آتا۔‘

ان کے مطابق انھیں ’بہت بری مشاورت‘ دی گئی تھی جو ’یقیناً‘ کسی حقیقی امیگریشن وکیل کی جانب سے نہیں ہو سکتی تھی۔

اُنھوں نے ایسے ’نام نہاد امیگریشن مشیروں‘ کی صنعت کی طرف اشارہ کیا جو خطرات کو پوری طرح سمجھے بغیر لوگوں سے درخواستیں جمع کرانے کے عوض رقم وصول کرتے ہیں۔

رناسنگھا کا کہنا ہے کہ وہ امیگریشن اینڈ سیکریٹریل سروسز کو ہزاروں نیوزی لینڈ ڈالر فیس کی مد میں ادا کر چکی ہیں۔

بی بی سی نے گیلنٹ سے رابطہ کیا مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مک کلا ئمونٹ کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے حکام انھیں ٹرانزٹ ویزا اس لیے جاری نہیں کریں گے کیونکہ ان کے نزدیک رناسنگھا کا سری لنکا واپس جانے کا ارادہ نہیں، کیونکہ اُنھوں نے پناہ کی درخواست میں کہا تھا کہ وہاں ان کی جان کو خطرہ ہے۔

ان کے بقول نیوزی لینڈ آسٹریلیا کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے، اس لیے آسٹریلیا بھی انھیں ٹرانزٹ کی اجازت نہیں دینا چاہے گا، جبکہ فرانس اور امریکہ بھی ممکنہ طور پر یہی مؤقف اختیار کریں گے۔

وہ کہتے ہیں: ’وہاں سے نکلنے کے لیے انھیں کسی نہ کسی ملک سے ٹرانزٹ کرنا ہو گا اور کوئی بھی یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہSupplied

امیگریشن نیوزی لینڈ کا موقف

امیگریشن نیوزی لینڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں رناسنگھا کی متعدد ٹرانزٹ ویزا درخواستیں موصول ہوئیں، لیکن سب کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ ’ہم مطمئن نہیں تھے کہ ان کا نیوزی لینڈ سے گزر کر آگے جانے کا حقیقی ارادہ ہے۔‘

جب پوچھا گیا کہ رناسنگھا کی یہ پیشکش موجود ہونے کے باوجود کہ انھیں ہتھکڑی لگا کر اور نگرانی میں سفر کروایا جا سکتا ہے، ویزا کیوں نہیں دیا جا سکتا، تو وزیرِ امیگریشن کے دفتر کے ایک نمائندے نے کہا کہ ایسے اقدامات کسی فرد کو پناہ کی درخواست دینے سے نہیں روکتے۔

آسٹریلیا کے محکمہ داخلہ نے انفرادی معاملات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

محکمہ نے کہا کہ آسٹریلیا کا سفر کرنے والے تمام غیر شہریوں کو مائیگریشن ریگولیشنز ایکٹ 1994 اور مائیگریشن ایکٹ 1958 کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

دوسری جانب رناسنگھا کے اہلِ خانہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا سری لنکا کی حکومت ان کی مدد کر سکتی ہے یا نہیں۔

ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے ’ہر ممکن راستہ آزمایا ہے، لیکن اب تک اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘

سری لنکا کی وزارتِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ’کک جزائر سے ان کی سری لنکا واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔‘

وزارت کے مطابق ویلنگٹن میں سری لنکن ہائی کمیشن کے حکام اور متعلقہ نیوزی لینڈ حکام اس معاملے پر وزارتِ خارجہ کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہے ہیں۔ لیکن رناسنگھا کے بھائی شدید فکرمند ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی سنہالا کو بتایا: ’ان کی ذہنی حالت اچھی نہیں ہے۔‘

’ہماری ایک گفتگو کے دوران اُنھوں نے مجھے کہا کہ اگر وہ انھیں زندہ واپس گھر نہیں لا سکتے تو کم از کم ان کی میت ہی واپس بھیج دیں۔‘

Source: BBC Urdu · عائشہ پریرا اور دنوک ہیواویتھرانا

At a glance

Topic
World
Country
🇵🇰 PK
Publisher language
UR
Added to Allnira